مصنف ابن أبي شيبة · 9- كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ 213 - مَا قَالُوا في المرأة تُفْسِدُ الْمَرْأَةَ بِيَدِهَا ، مَا عَلَيْهَا فِي ذَلِكَ ؟. · حديث 17758
17758- حَدَّثَنَا هُشَيْم , عَنْ مُغِيرَةَ , عَنْ إبْرَاهِيمَ أَنَّ رَجُلاً كَانَتْ عِنْدَهُ يَتِيْمَةٌ وكَانَتْ تَحْضُرُ مَعَهُ طَعَامَهُ قَالَ : فَخَافَتِ امْرَأَته أَنْ يَتَزَوَّجَهَا عَلَيْهَا قَالَ : وَغَابَ الرَّجُلُ غَيْبَةً فَاسْتَعَانَتِ امْرَأَته نِسْوَةً عَلَيْهَا فَضَبَطْنَهَا لَهَا وَأَفْسَدَتْ عُذْرَتَهَا بِيَدِهَا , وَقَدِمَ الرَّجُلُ فَجَعَلَ يَفْقِدُهَا , عَنْ مَائِدَتِهِ , فَقَالَ لاِمْرَأَتِهِ : مَا شَأْنُ فُلاَنَةَ لاَ تَحْضُرُ طَعَامِي كَمَا كَانَتْ تَحْضُرُ ؟ فَقَالَتْ : دَعْ عَنْك فُلاَنَةَ , فَقَالَ : مَا شَأْنُهَا ؟ قَالَ : فَقَذَفَتْهَا قَالَ : فَانْطَلَقَ الرجل حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهَا ، فَقَالَ : مَا شَأْنُك ؟ مَا أَمْرُك ؟ قَالَ : فَجَعَلَتْ لاَ تَزِيدُ عَلَى الْبُكَاءِ , فَقَالَ : أَخْبِرِينِي فَأَخْبَرَتْهُ قَالَ : فَانْطَلَقَ إلَى عَلِيٍّ رضي الله عنه فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَأَرْسَلَ إلَى امْرَأَةِ الرَّجُلِ وَإِلَى النِّسْوَةِ فَسَأَلَهُنَّ قَالَ : فَمَا لَبِثْنَ أَنَ اعْتَرَفْنَ قَالَ : فَقَالَ لِلْحَسَنِ : اقْضِ فِيهَا , فَقَالَ الْحَسَنُ : أَرَى الْحَدَّ عَلَى مَنْ قَذَفَهَا وَالْعُقْرَ عَلَيْهَا وَعَلَى الْمُمْسِكَاتِ قَالَ : فَقَالَ عَلِيٌّ : لَوْ كُلِّفت إبِلٌ طَحِينًا لَطَحَنَتْ قَالَ : وَمَا يَطْحَنُ يَوْمَئِذٍ بَعِيرٌ.
حضرت ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ آدمی کے پاس ایک یتیم بچی تھی ، وہ کھانا بھی اس کے ساتھ کھاتی تھی ، آدمی کی بیوی کو اندیشہ ہوا کہ کہیں اس سے شادی نہ کر لے ، چنانچہ ایک مرتبہ جب وہ آدمی کہیں گیا ہوا تھا تو اس عورت نے کچھ عورتوں کی مدد سے اس لڑکی کو باندھا اور اس کے پردہ بکارت کو زائل کر دیا ،جب آدمی واپس آیا تو دستر خوان پر اس یتیم بچی کو نہ پایا ۔ اس نے اپنی بیوی سےاس کے بارے میں پوچھا تو وہ کہنے لگی کہ اس کا تو ذکر ہی نہ کرو ، آدمی نے وجہ پوچھی تو عورت نے بچی پر زنا کا الزام لگا دیا ۔آدمی اس بچی کے پاس آیا اور اس سے واقعہ کی تصدیق چاہی ، بچی نے رونے کے علاوہ کوئی بات نہ کی ، اس نے اصرار کیا تو بچی نے ساری بات بتا دی ۔ وہ آدمی اس مقدمے کو لے کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ساری بات عرض کی ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس آدمی کی بیوی کو اور باقی عورتوں کو بلا لیا اور ان سے سوال کیا ، انہوں نے فوراً ساری بات کو تسلیم کر لیا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے فیصلہ کرنے کو کہا تو حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تہمت لگانے والی عورت پر حد جاری ہو گی اور پردہ بکارت کو زائل کرنے کا جرمانہ اس عورت اور پکڑنے وقالی عورتوں پر ہو گا ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر اونٹوں سے پسوائی کا کام لیا جاتا تو آج میں ان عورتوں کو اونٹوں کے نیچے پسوا دیتا ۔راوی کہتے ہیں کہ اس زمانے میں اونٹوں سے پسوائی کا کام نہیں لیا جاتا تھا ۔
إِبْرَاهِيمَ، ← مُغِيرَةَ، ← هُشَيْمٌ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 9- The book of marriage › 213 - What did they say about a woman spoiling her woman's hand, what should she do about that? · Hadith 17758
