مصنف ابن أبي شيبة · 6- كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ 150- في الرجل يَمُوتُ لَهُ الْقَرَابَةُ الْمُشْرِكُ يَحْضُرُهُ أَمْ لاَ. · حديث 11962
11962- حدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ : لَمَّا مَاتَ أَبُو طَالِبٍ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْت يَا رَسُولَ اللهِ إنَّ عَمَّك الضَّالَّ قَدْ مَاتَ ، فَقَالَ لِي : اذْهَبْ فَوَارِهِ ، وَلاَ تُحْدِثَنَّ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي ، قَالَ فَانْطَلَقْتُ فَوَارَيْتُهُ ، ثُمَّ رَجَعْت إلَيْهِ وَعَلَيَّ أَثَرُ التُّرَابِ وَالْغُبَارِ فَدَعَا لِي بِدَعَوَاتٍ مَا يَسُرُّنِي ، أَنَّ لِي بِهَا مَا عَلَى الأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ.
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ابوطالب کا انتقال ہوا تو میں نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کاگمراہ چچامر گیا ہے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جاؤ اور ان کو ڈھانپ دو اور جب تک میرے پاس نہ آ جانا کچھ نہ کرنا میں گیا اور ان کو ڈھانپ دیا پھر میں واپس آیا تو میرے اوپر مٹی اور گردوغبار کے آثار تھے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے کچھ دعائیں دیں جو میرے لیے دنیا کی چیزوں کےمل جانے سے زیادہ قابل مسرت ہیں۔
عَلِيٌّ لَمَّا مَاتَ أَبُو طَالِبٍ أَتَيْتُ النَّبِيَّ فَقُلْت ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو الْأَحْوَصِ،
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 6- Book of Funerals › 150- In a man, the associate will die for him, whether or not he will attend it. · Hadith 11962
