مصنف ابن أبي شيبة · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 99- في المرأة كَيْفَ تُؤْمَرُ أَنْ تَغْتَسِلَ. · حديث 869
869- حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ إبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ ابْنَةِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : دَخَلَتْ أَسْمَاءُ ابْنَةُ شَكَلٍ عَلَى رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ تَغْتَسِلُ إحْدَانَا إذَا طَهُرَتْ مِنَ الْمَحِيضِ ؟ قَالَ : تَأْخُذُ سِدْرَتَهَا وَمَاءَها فَتَتَوَضَّأُ ، وَتَغْسِلُ رَأْسَهَا ، وَتُدَلِّكُهُ حَتَّى يَبْلُغَ الْمَاءُ أُصُولَ شَعَرِهَا ، ثُمَّ تُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى جَسَدِهَا ، ثُمَّ تَأْخُذُ فِرْصَتَهَا فَتَطَّهَّرُ بِهَا ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ ، كَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا ؟ قَالَ : تَطَهَّرِي بِهَا ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَعَرَفْت الَّذِي يُكَنِّي عَنْهُ ، فَقُلْتُ لَهَا : تَتَبَّعِي آثَارَ الدَّمِ.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ اسماء بنت شکل نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا ’’ جب کوئی عورت حیض سے پاک ہوتو کیسے غسل کرے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا’’بیری اور پانی لے کر پہلے وضوکرے۔ پھراپناسر دھوئے ، پھر اس طرح سرکو ملے کہ پانی جڑوں تک پہنچ جائے ، پھر سارے جسم پر پانی بہائے ، پھر حیض کا کپڑا پکڑے اور اس سے صفائی حاصل کرے انہوں نے کہا یا رسول اللہ! میں حیض کے کپڑے سے صفائی کیسے حاصل کروں؟ فرمایا اس کے ذریعہ صفائی حاصل کرو ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ میں سمجھ گئی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا مراد ہے چنانچہ میں نے اس عورت سے کہا کہ خون کے نشان صاف کرو۔
دَخَلَتْ أَسْمَاءُ ابْنَةُ شَكَلٍ عَلَى رَسُولِ اللهِ فَقَالَتْ ← عَائِشَةَ ← صَفِيَّةَ ابْنَةِ شَيْبَةَ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ← أَبُو الْأَحْوَصِ،
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 1- Purity Book › 99- In a woman, how she is commanded to do ghusl. · Hadith 869
