مصنف ابن أبي شيبة · 2-الهمزة مع الفاء ‹ 30- يؤذن بليل ، أَيُعِيدُ الأَذَانَ أَمْ لاَ؟. · حديث 2321
2321- حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : أَذَّنَ بِلاَلٌ بِلَيْلٍ ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُنَادِيَ : نَامَ الْعَبْدُ ، فَرَجَعَ فَنَادَى : نَامَ الْعَبْدُ ، وَهُوَ يَقُولُ : لَيْتَ بِلاَلاً لَمْ تَلِدْهُ أُمُّهُ ، وَابْتَلَّ مِنْ نَضْحِ دَمٍ جَبِينُهُ ، قَالَ : وَبَلَغَنَا أَنَّهُ أَمَرَهُ أَنْ يُعِيدَ الأَذَانَ.
حضرت حسن فرماتے ہیں کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ رات کو اذان دے دی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ جا کر اعلان کر یں کہ بندہ سو گیا! وہ واپس گئے اور انہوں نے یہ اعلان کیا کہ بندہ سو گیا۔ ساتھ ساتھ یہ شعر پڑھ رہے تھے (ترجمہ) کاش بلال کو اس کی ماں نے جناہی نہ ہوتا اور کاش خون سے اس کی پیشانی تر ہو چکی ہوتی ۔ راوی فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اذان کے اعادے کا حکم دیا تھا۔
الْحَسَنِ، ← أَشْعَثَ، ← أَبُو خَالِدٍ؛
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 2- Al-Hamzah with Faa'a › 30- A call to prayer at night. Should the call to prayer be repeated or not? · Hadith 2321
