مصنف ابن أبي شيبة · 5- كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ 112- مَا قَالُوا فِي الرَّجُلِ يَذْهَبُ لَهُ الْمَالُ السِّنِينَ ثُمَّ يَجِدُهُ ، فَيُزَكِّيه ؟ · حديث 10717
10717- حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ : أَخَذَ الوَلِيدِ بن عَبْدِ الْمَلِكِ مَالَ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الرَّقَّةِ يُقَالُ لَهُ : أَبُو عَائِشَةَ عِشْرِينَ أَلْفًا ، فَأَلقَاهَا فِي بَيْتِ الْمَالِ ، فَلَمَّا وَلِيَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَتَاهُ وَلَدُهُ ، فَرَفَعُوا مَظْلِمَتَهُمْ إلَيْهِ ، فَكَتَبَ إلَى مَيْمُونٍ : ادْفَعُوا إلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ ، وَخُذُوا زَكَاةَ عَامِهِ هَذَا ، فَلَوْلا أَنَّهُ كَانَ مَالاً ضِمَارًا أَخَذْنَا مِنْهُ زَكَاةَ مَا مَضَى.
حضرت عمرو بن میمون رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ولید بن عبدالملک رحمۃاللہ علیہ نے اہل ذمہ میں سے ایک شخص جس کی کنیت ابو عائشہ تھی اس کے بیس ہزار (درہم) لیے اور بیت المال میں داخل کر دئیے ۔ پھر جکب عمر بن عبدالعزیز رحمۃاللہ علیہخلیفہ بنے اس کا بیٹا آپ کے پاس آیا اور اپنی مظلومیت کی داستان آپ تک پہنچائی ۔ آپ نےمیمون کو لکھا کہ اس کا مال اس کو واپس لوٹا دو اور اس کی زکوٰۃ بھی وصول کر لو ۔ اگر یہ مال ضمار (وہ مال اور قرض کس کے واپس ملنے کی امید نہ ہو ) نہ ہوتا تو میں گزرے ہوئے سالوں کی زکوٰۃبھی وصول کرتا ۔
عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← عَبْدُ الرَّحِيمِ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 5- The Book of Zakat › 112 - What they said in the man the money goes to him the years, then finds it, and purifies it? · Hadith 10717
