مصنف ابن أبي شيبة · 6- كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ 53- في المسلم يُغَسِّلُ الْمُشْرِكَ يَغْتَسِلُ أَمْ لاَ. · حديث 11267
11267- حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ نَاجِيَةَ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ لَمَّا مَاتَ أَبُو طَالِبٍ أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْت يَا رَسُولَ اللهِ إنَّ عَمَّك الشَّيْخَ الضَّالَّ قَدْ مَاتَ ، قَالَ : فَقَالَ : انْطَلِقْ فَوَارِهِ ، ثُمَّ لاَ تُحْدِثَنَّ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي ، قَالَ فَوَارَيْتُهُ ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَأَمَرَنِي فَاغْتَسَلْت ، ثُمَّ دَعَا لِي بِدَعَوَاتٍ مَا يَسُرُّنِي ، أَنَّ لِي بِهِنَّ مَا عَلَى الأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ.
حضرت علی کرم اللہ وجہہ ارشاد فرماتے ہیں کہ جب ابو طالب کا انتقال ہوا تو میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کیا :اے اللہ کے رسول !آپ کا گمراہ اور بوڑھا چچا مر گیا ہے ،آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :ان کے پاس جاؤ اور ان کو ڈھانپ دو اور پھر جب تک میرے پاس نہ آجاؤ کچھ نہ کرنا ،چناچہ میں نے انہیں ڈھانپ دیا اور حاضر خدمت ہوا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا انہیں غسل دو اور آپ نے میرے لیئے کچھ دعائیں کیں جو میرے نزدیک دنیا کی تما م چیزوں کے مل جانے سے زیادہ قابل حسرت ہیں۔
لَمَّا مَاتَ أَبُو طَالِبٍ أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ فَقُلْت ← عَلِيٍّ، ← نَاجِيَةَ بْنِ كَعْبٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ،
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 6- Book of Funerals › 53- In a Muslim, the participant is washed or washed. · Hadith 11267
