مصنف ابن أبي شيبة · 9- كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ 189- من رخص فِي لَبَنِ الْفَحْلِ وَلَمْ يَرَهُ شَيْئًا. · حديث 17647
17647- حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِيسَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي عُبَيدَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَمْعَةَ عَن أُمِه زَينَب ابنَة أَبِي سَلَمَةَ قَالَت : كَانَتْ أَسْمَاءُ أَرْضَعَتْنِي ، وَكَانَ الزُّبَيْرِ يَدْخُلُ عَلَيَّ وَأَنَا أَمْتَشِطُ وَيَأْخُذُ الْقَرْنَ مِنْ قُرُونِي وَيَقُولُ : أَقْبِلِي عَليَّ فحدثني بربي أنَّهُ أَبِي وَأن مَا وَلَدَ إخْوَتِي , فَلَمَّا كَانَ يوم الْحَرَّةُ أَرْسَلَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ يَخْطُبُ ابْنَتِي عَلَى حَمْزَةَ بن الزُّبَيْر وَحَمْزَةُ وَمُصْعَبٌ لِلْكَلْبِيَّةِ فَأَرْسَلْت إلَيْهِ : هَلْ تَصْلُحُ لَهُ ؟ فَأَرْسَلَ إلَيَّ : إنَّمَا تُرِيدِينَ مَنْعِي بِنْتَكَ وَأَنَا أَخُوك ، وَمَا وَلَدَتْ أَسْمَاءُ فَهُمْ إخْوَتُك وأما وَلَدَ الزُّبَيْرُ لِغَيْرِ أَسْمَاءَ فَلَيْسَ لَكَ بِإِخْوَةٍ فَأَرْسِلِي فَسَلِي فَأَرْسَلَتْ فَسَأَلَتْ وَأَصْحَابُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُتَوَافِرُونَ وَأُمَّهَاتُ الْمُؤْمِنِينَ فَقَالُوا : إنَّ الرَّضَاعَةَ مِنْ قِبَلِ الرِّجَالِ لاَ تُحَرِّمُ شَيْئًا.
حضرت زینب بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے مجھے دودھ پلایا تھا ۔ چنانچہ ( ان کے خاوند ) حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ میرے پاس اس وقت تشریف لے آتے جب میں کنگھی کر رہی ہوتی اور میری چٹیا کو پکڑ لیتے ، اور وہ مجھے اپنی بیٹی سمجھتے ہوئے مجھ سے باتیں کرتے اور وہ اپنے بیٹوں کو میرا بھائی سمجھتے ۔ یوم حرہ کو ان کے بیٹے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے حمزہ بن زبیر رحمۃ اللہ علیہ کے لئے میری بیٹی کا ہاتھ مانگا ۔ حمزہ اور مصعب ( حضرت زبیر کے دو بیٹے ، حضرات اسما ء کے بیٹے نہ تھے بلکہ ) بنو کلب کی عورت سے تھے ۔ میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو پیغام دیا کہ میری بیٹی کا نکاح ان سے ہو سکتا ہے؟ انہو ں نے فرمایا کہ کیا تم میری طرف سے بھیجے گئے رشتے کا انکار کر رہی ہو حالانکہ میں تمہارا بھائی ہو ں ؟ جو بچے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے ہوئے ہیں وہ تمہارے بھائی ہیں اور جو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی کسی اور بیوی سے ہوئے ہیں وہ تمہارے بھائی نہیں ہیں ، تم یہ مسئلہ کسی اور سے پوچھ سکتی ہو ۔ اس وقت بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور امہات المومنین رضی اللہ عنہم بقید حیات تھے ، میں نے ان سے سوال کیا تو سب نے فرمایا کہ مردوں کی طرف سے آنے والی رضاعت کسی چیز کو حرام نہیں کرتی ۔
أَقْبِلِي عَليَّ ← أَمْتَشِطُ وَيَأْخُذُ الْقَرْنَ مِنْ قُرُونِي ← كَانَتْ أَسْمَاءُ أَرْضَعَتْنِي وَكَانَ الزُّبَيْرِ يَدْخُلُ عَلَيَّ ← أُمِّهِ زَيْنَبَ ابْنَةِ أَبِي سَلَمَةَ ← أبي عبيدة بن عبد الله بن زمعة ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← ابْنُ إِدْرِيسَ،
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 9- The book of marriage › 189- Whoever licenses Al-Fahal's milk and sees nothing. · Hadith 17647
