مصنف ابن أبي شيبة · 5- كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ 9- فِي زكاة الإِبِلِ ، مَا فِيهَا ؟. · حديث 9981
9981- حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم كَتَبَ كِتَابَ الصَّدَقَةِ فَقَرَنَهُ بِسَيْفِهِ ، أَوَ قَالَ : بِوَصِيَّتِهِ ، وَلَمْ يُخْرِجْهُ حَتَّى قُبِضَ ، فَلَمَّا قُبِضَ عَمِلَ بِهِ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى هَلَكَ ، ثُمَّ عَمِلَ بِهِ عُمَرُ ، فَكَانَ فِيهِ : فِي خَمْسٍ مِنَ الإِبِلِ شَاةٌ ، وَفِي عَشْرٍ شَاتَانِ ، وَفِي خَمْسَةَ عَشَرَ ثَلاَثُ شِيَاهٍ ، وَفِي عِشْرِينَ أَرْبَعُ شِيَاهٍ ، وَفِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ بِنْتُ مَخَاضٍ إلَى خَمْسٍ وَثَلاَثِينَ ، فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا بِنْتُ لَبُونٍ إلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ ، فَإِذَا زَادَتْ فَحِقَّةٌ إلَى سِتِّينَ ، فَإِذَا زَادَتْ فَجَذَعَةٌ إلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ ، فَإِنْ زَادَتْ فَابْنَتَا لَبُونٍ إلَى تِسْعِينَ ، فَإِنْ زَادَتْ فَحِقَّتَانِ إلَى عِشْرِينَ وَمِئَةٍ ، فَإِنْ زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِئَةٍ فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ ، لاَ يُجْمَعُ بَيْنَ مُفْتَرِقٍ ، وَلاَ يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ ، وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ ، فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بِالسَّوِيَّةِ.
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زکوٰہ کے احکام لکھوائے اور ان کو تلوار کے ساتھ ملا کر رکھایا ( راوی کو شک ہے) وصیت کیساتھ اور اسکو نکالا نہیں یہاں تک کہ آپ کی روح مبارک قبض کر لی گئی ، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے تو اس پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عمل کیا یہاں تک کہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بھی دنیا سےچلے گئے پھر اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عمل کیا ، اس میں لکھا ہوا تھا کہ پانچ اونٹوں پہ ایک بکری ہے اور دس پر دو بکریاں ، پندرہ پر تین بکریاں ، بیس پر چار بکریاں، پچیس اونٹوں پر ایک بنت مخاص ( ایک سال کا اونٹ جس کا دوسرا سال چل رہا ہو) ہے۔ پینتیس تک ، اور جب پینتیس سے زائد ہو جائیں تو ان پر ایک بنت لبون ( دو سال کا اونٹ جس کا تیسرا چل رہا ہو) ہے پنتالیس تک، اور جب پینتالیس سے زائد ہو جائیں تو ان پر ساٹھ تک ایک حقہ ہے ( تین سال کا اونٹ جس کا چوتھا چل رہا ہو) اور جب ساٹھ سے زائد ہو جائیں تو ان پر جذعہ ( چار سال کا اونٹ جس کا پانچواں چل رہا ہو ) ہے ، پچہتر سے زائد ہو جائیں تو نوے تک دو بنت لبون ہیں اور پھر نوے سے زائد ہو جائیں تو ایک سو بیس تک اس پر دو حقے ہیں ، اور جب ایک سو بیس سے زائد ہو جائیں تو ہر پچاس پر ایک حقہ اور ہر چالیس پر ایک بنت لبون ہے ، متفرق کو جمع نہیں کیا جائے گا اور جمع کو متفرق نہیں کیا جائے گا ( اگر مویشی اور متعدد جگہوں میں ہیں تو انہیں زکوٰۃ لیتے وقت یاد یتے وقت ایک جگہ نہیں کیا جائے گا اورایک جگہ ہیں تو انہیں متعدد جگہوں اور چراگاہوں میں تقسیم نہیں کیا جائیگا۔ لیکن امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے یہاں مکان اور چراگاہ کے مختلف اور متعدد ہونے سے زکوٰۃ میں کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ ان کے ہاں صرف ملک کا اختلاف اور تعداد زکوٰۃ پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس لئے اس حدیث کی تفریق و اجتماع سے صرف ملکیت کی حد تک تعداد اور اجتماع مراد ہے) اور دو شریک اپنا حساب خود آپ س میں برابر کر لیں گے( یعنی دو آدمی کسی کام تجارت وغیرہ میں شریک ہیں تو جب زکوٰہ وصول کرنے والا افسر آئےگا تو وہ اس کا انتظار نہیں کرے گا کہ یہ شرکاء اپنے مال کی تقسیم کرلیں اور پھر ان کے سرمایہ سے الگ الگ زکوٰۃ کی جائے بلکہ پورے سرمایہ میں جو زکوٰۃ واجب ہو گی افسر اس واجب زکوٰۃ کو لے لے گا، اب یہ شرکاء کا کام ہے کہ حساب کے مطابق واجب شدہ زکوٰۃ کے حصے تقسیم کریں )۔
ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ← عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 5- The Book of Zakat › 9- In zakat on camels, what is there? · Hadith 9981
