مصنف ابن أبي شيبة · 8- كتاب المناسك ‹ 441- من قَالَ : إذَا اعْتَمَرَ فِي غَيْرِ أَشْهُرِ الْحَجِّ. · حديث 15712
15712- حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثقفي عن حبيب ، قَالَ : سُئِلَ عَطَاءٌ , عَنِ الْعُمْرَةِ فِي غَيْرِ أَشْهُرِ الْحَجِّ ، فِيهَا هَدْيٌ وَاجِبٌ ؟ قَالَ : لَيْسَ فِيهَا هَدْيٌ وَاجِبٌ ، وَقَدْ كَانُوا يُهْدُونَ ، وَقَدْ أَهْدَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حِينَ صَدَّهُ الْمُشْرِكُونَ فَهَلْ كَانَ أَحْرَمَ بِالْعُمْرَةِ ؟ قَالَ : نَعَمْ وَصَالَحَهُمْ أَنْ يَأْتِيَهُمْ فِي الْعَامِ الْمُقْبِلِ ، وَقَدْ رَأَيْت مُعَاوِيَةَ يَنْحَرُ جَزُورًا فِي الْعُمْرَةِ فِي غَيْرِ أَشْهُرِ الْحَجِّ.
حضرت عطاء ؒ سے دریافت کیا گیا کہ اگر کوئی شخص حج کے مہینوں کے علاوہ کسی اور مہینے میں عمرہ کرے تو کیا اس پر ہدی واجب ہے؟ آپؒ نے فرمایا کہ اس پر ہدی واجب نہیں ہے، اور تحقیق صحابہ کرام ؓ ہدی دیا کرتے تھے ، اور جس سال مشرکین نے حضور اقدس ﷺ کو روک دیا تھا اس سال آپﷺ نے بھی قربانی کی تھی، (راوی نےدریافت کیا کہ )کیا آپ ﷺ نے عمرہ کے لیے احرام باندھا ہوا تھا؟آپ ؒ نے فرمایا ہاں، اور ان مشرکین کے ساتھ اس شرط پر صلح ہوئی کہ یہ لوگ آئندہ سال آئیں گے، اور میں نے حضرت امیر معاویہؓ کو بھی اشھر حج کے علاوہ عمرہ کرتےہوئے قربانی کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
الْعُمْرَةِ فِي غَيْرِ أَشْهُرِ الْحَجِّ فِيهَا هَدْيٌ وَاجِبٌ ← سُئِلَ عَطَاءٌ ← حَبِيبٍ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 8- The Book of Rites › 441- He said: If he does it during the last months of Hajj. · Hadith 15712
