مصنف ابن أبي شيبة · 9- كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ 192 - مَا قَالُوا فِي الْمُتَلاَعِنَيْنِ إذَا فُرِّقَ بَيْنَهُمَا يَكُونُ لَهَا مَهْرٌ ؟. · حديث 17671
17671- حدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ عَمْرٍو , عَنْ سَعَيْدِ بِنْ جُبَيْرٍ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَرَّقَ بَيْنَ المُتَلاَعِنَيْنِ وَقَالَ : حِسَابُكُمَا عَلَى اللهِ ، أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ لاَ سَبِيْلَ لَكَ عَلَيْهَا فَقَالَ : يَا رَسُوْلَ اللهِ! فَمَالِي ؟ قَالَ : لاَ مَالَ لَكَ ، إِنْ كُنْتَ صَادِقَاً فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا , وَإِنْ كُنْتَ كَاذِبَاً فَذَلِكَ أَبْعَدُ لَكَ.
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی پاک ﷺ نے لعان کرنے والے میاں بیوی کے درمیان جدائی کرائی اور فرمایا کہ تمہارا حساب اللہ کے ذمے ہے ، تم میں سے ایک جھوٹا ہے اور اب مرد کا عورت پر کوئی حق نہیں ۔ اس پر آدمی نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! میرے لئے کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تو سچا ہے تو عورت سے مباشرت کی حلت کے بدلے تیرا مال خرچ ہو گیا اور اگر تو جھوٹا ہے تو پھر کسی قسم کا حق باقی نہیں رہا ۔
ابْنِ عُمَرَ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَمْرٍو، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ،
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 9- The book of marriage › 192 - What do they say about the two people who are separated from them, when they have dowry? · Hadith 17671
