مصنف ابن أبي شيبة · 6- كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ 63- من رخص فِي الإِذنِ بِالْجِنَازَةِ. · حديث 11329
11329- حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عُثْمَانَ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ ثَابِتٍ , وَكَانَ أَكْبَرَ مِنْ زَيْدٍ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم ، فَلَمَّا وَرَدْنَا الْبَقِيعَ إذَا هُوَ بِقَبْرٍ جَدِيدٍ , فَسَأَلَ عَنْهُ فَقَالُوا : فُلاَنَةُ فَعَرَفَهَا ، قَالَ : فَقَالَ : أَفَلاَ آذَنْتُمُونِي بِهَا ؟ قَالُوا : كُنْت قَائِلاً فَكَرِهْنَا أَنْ نُؤْذِنَك ، فَقَالَ : لاَ تَفْعَلُوا , لاَ أَعْرِفَنَّ مَا مَاتَ مِنْكُمْ مَيِّتٌ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ إِلاَّ آذَنْتُمُونِي بِهِ فَإِنَّ صَلاَتِي عَلَيْهِ لَهُ رَحْمَةٌ.
حضرت خارجہ بن زید رحمتہ اللہ علیہ اپنے چچاحضرت یزید بن ثابت سے روایت کرتے ہیں وہ حضرت زید رحمتہ اللہ علیہ سے بڑے تھے۔ فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم نبی اکرمصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نکلے، جب ہم جنت البقیع میں آئے تو وہاں پر ایک نئی قبرتھی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے بارے میں دریافت فرمایا: لوگوں نے عرض کیا فلاں عورت کی قبر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کو پہچان لیا اور فرمایا تم نے مجھے اس کی اطلاع کیوں نہ دی؟ لوگوں نے عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود فرمایا تھا اس لیے ہم نے آپ کو اطلاع دینا نا پسند سمجھا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشادفرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص فوت ہو جائے تو تم ہرگز اس کا اعلان مت کرومگر مجھے اس کے بارے میں اطلاع دیدو۔ بیشک میرا اس پر نماز پڑھناا سکے لیے رحمت کا باعث ہے۔
عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ ثَابِتٍ وَكَانَ أَكْبَرَ مِنْ زَيْدٍ ← خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، ← عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ← هُشَيْمٌ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 6- Book of Funerals › 63- Who licenses the funeral service? · Hadith 11329
