مصنف ابن أبي شيبة · 6- كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ 1- ما قالوا فِي ثوابِ الحُمّى وَالْمَرضِ. · حديث 10905
10905- حدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْد ، عَنْ عَبْدِ اللهِ ، قَالَ : دَخَلْت عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يُوعَكُ ، قَالَ فَمَسِسْتُهُ فَقُلْت : يَا رَسُولَ اللهِ إنَّك لَتُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا ، فَقَالَ : أَجَلْ إنِّي أُوعَكُ كَمَا يُوعَكُ رَجُلاَنِ مِنْكُمْ َقال : قُلْتُ : لأَنَّ لَكَ أَجْرَيْن ؟ فَقَالَ : نَعَمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا عَلَى الأَرْضِ مُسْلِمٌ يُصِيبُهُ أَذًى فَمَا سِوَاهُ إِلاَّ حَطَّ اللَّهُ بِهِ عَنْهُ خَطَايَاهُ كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا.
حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت آپ کو بخار تھا، میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چھوا اور پھر عرض کیا اے اللہ کے رسول ! آُ کو تو بہت تیز بخار ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جی ہاں مجھے تم میں سے دو آدمیوں کے برابر بخار دیا جاتا ہے ۔ میں نے عرض کیا یہ اس وجہ سے ہے کہ آپ کے لئے دو اجر ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں !قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے زمین پر کوئی مسلمان نہیں جس کو کوئی تکلیف پہنچے مگر (اس کے بدلے) اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو ایسے گراتے ہیں جیسے درخت اپنے پتوں کو گراتے ہیں۔
فَمَسِسْتُهُ فَقُلْت ← دَخَلْت عَلَى النَّبِيِّ وَهُوَ يُوعَكُ ← عَبْدُ اللَّهِ ← الْحَارِثِ بْنِ سويد ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 6- Book of Funerals › 1- What they said about the reward of fever and disease. · Hadith 10905
