حضرت ابومسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا کہ اس آدی کی نماز درست نہیں ہوتی جس کی کمر رکوع اور سجدے میں سیدھی نہ ہو۔
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 3- The Book of Prayer › 67 - In a man, his prayer is reduced, and what is mentioned in it, and how to do it. · Hadith 2973
مصنف ابن أبي شيبة · کتاب ‹ 67- في الرجل يَنْقُصُ صَلاَتُهُ ، وَمَاْ ذُكِرَ فِيهِ ، وَكَيْفَ يَصْنَعُ فِيهَا. · حديث 2974
2974- حَدَّثَنَا مُلاَزِمُ بْنُ عَمْرِو ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَدْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ ، عَنْ أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ ، وَكَانَ مِنَ الْوَفْدِ ، قَالَ : خَرَجْنَا حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى نَبِيَّ اللهِ صلى الله عليه وسلم فَبَايَعْنَاهُ ، وَصَلَّيْنَا مَعَهُ ، فَلَمَحَ بِمُؤْخَرِ عَيْنِهِ إلَى رَجُلٍ لاَ يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الصَّلاَةَ ، قَالَ : يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ ، لاَ صَلاَةَ لمن لاَ يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ.
حضرت علی بن شیبان کہتے ہیں کہ ہم ایک وفد کی صورت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی اور آپ کے ساتھ نماز پڑھی ۔ دوران نماز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کن اکھیوں سے ایک آدی کو دیکھا جس کی کمر رکوع اور سجدے میں سیدھی نہیں تھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پوری کر لی تو فرمایا کہ اے مسلمانوں کی جماعت اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جس کی کمررکوع اور سجدے میں سیدھی نہ ہو۔
أبيه علي بن شيبان وكان من الوفد ← عبد الرحمن بن على بن شيبان ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، ← مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو،
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 3- The Book of Prayer › 67 - In a man, his prayer is reduced, and what is mentioned in it, and how to do it. · Hadith 2974
مصنف ابن أبي شيبة · کتاب ‹ 67- في الرجل يَنْقُصُ صَلاَتُهُ ، وَمَاْ ذُكِرَ فِيهِ ، وَكَيْفَ يَصْنَعُ فِيهَا. · حديث 2975
حضرت علی بن یحییٰ بن خلاد اپنے والد سے اور وہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیٹھے تھے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے انتہائی پھرتی سے نماز پڑھی اور رکوع اور سجود بھی ٹھیک طرح نہ کیا۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے گھور کر دیکھ رہے تھے جبکہ ہمیں اس بات کا احساس نہیں ہوا۔ جب وہ نماز پڑھ کر حاضر خدمت ہوا اور اس نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کیا۔ آپ نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا کہ دوبارہ نماز پڑھو تم نے نماز نہیں پڑھی۔ اس نے ایسا تین مرتبہ کیا لیکن ہر مرتبہ حضور بلا سے یہی فرماتے کہ دوبارہ نماز پر توتم نے نماز نہیں پڑھی، جب وہ چوتھی مرتبہ حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مجھے نماز سکھاد یجئے ، خدا کی قسم! میں نے تو پوری کوشش کر کے دیکھ لی۔ آپ نے فرمایا کہ جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو قبلہ کی طرف رخ کرو۔ پھر تکبیر کہو، پھر قراءت کرو، پھر رکوع کرو اور اطمینان سے رکوع کرو۔ پھر رکوع سے اٹھو تو اطمینان سے کھڑے ہو جاو، پھر سجدہ کرو اور اطمینان سے سجدہ کرو۔ پھر بیٹھو تو اطمینان سے بیٹھ جاؤ اور پھر کھڑے ہو جاو۔ اگر تم نے ایسا کرلیاتو تمہاری نمازمکمل ہوگئی اور اگر اس میں سے کسی عمل میں کمی کی توسمجھو وہ کمی تمہاری نماز میں پائی جارہی ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدی مسجد میں داخل ہوا اور اس نے نماز پڑھی، نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد کے ایک کونے میں تشریف فرما تھے۔ وہ آیا اور اس نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کیا، آپ نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا کہ جاؤ اور نماز پڑھو تم نے ابھی تک نماز نہیں پڑھی ۔ وہ گیا اور آ کے دوبارہ اس نے سلام کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ تم نے ابھی تک نماز نہیں پڑھی ۔ پھر تیسری مرتبہ اس آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے نماز سکھادیئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم نماز کے لئے اٹھو تو اچھی طرح وضو کرو، پھر قبلہ رخ ہو کر تکبیر کہو، پھر قرآن مجید کی جو تلاوت تمہارے لئے ممکن ہووہ کرلو۔ پھر اطمینان سے رکوع کرلو، پھر پورے اعتدال سے کھڑے ہو جاو، پھر اطمینان سے سجدہ کرو، پھر سیدھے کھڑے ہو جاؤ یا فرمایا کہ پھر سیدھے بیٹھ جاؤ۔ پھر یہ اعمال اپنی پوری نماز میں کرو۔
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بد ترین چور وہ ہے جو نماز میں چوری کرے۔ لوگوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ نماز میں کیسے چوری کر سکتا ہے؟ فرمایا کہ اس کا رکوع سجدہ اچھی طرح نہ کرے۔
حضرت ثابت فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ نے ہمارے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کا طریقہ بیان کیا، پہلے وہ نماز کے لئے سیدھے کھڑے ہوئے، پھر انہوں نے رکوع کیا، پھر اپنا سر رکوع سے اٹھایا، پھر سیدھا کھڑے ہو گئے۔ اور اتنی دیر کھڑے رہے ہم میں سے بعض لوگ سمجھے کہ آپ بھول گئے ہیں ۔ پھر حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ نے سجدہ کیا پھر سیدھے بیٹھ گئے اور اتنی دیر بیٹھے رہے کہ ہم میں سے کچھ لوگ سمجھے کہ آپ بھول گئے ہیں۔
حضرت سالم براد کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابو مسعو د رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر حاضر ہوئے اور ہم نے عرض کیا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز سکھا دیجئے ۔ وہ ہمارے سامنے نماز کے لئے کھڑے ہوئے، پھر انہوں نے رکوع کیا اور اپنی ہتھیلیوں کو گھٹنوں پر اور اپنی انگلیوں کو گھٹنوں سے نیچے رکھا ۔ اپنی کہنیوں کو جسم سے اس طرح دور رکھا کہ جسم کا ہر عضو سیدھا ہو گیا ۔ پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا اور’’سمع اللہ المن حمدہ ‘‘ کہا۔ پھر اس طرح کھڑے ہوئے کہ جسم کے ہر عضو میں اعتدال آگیا پھر سجدہ کیا اور سجدے میں بھی اسی طرح کیا۔ پھر آپ نے دورکعات نماز پڑھیں۔ جب فارغ ہو گئے تو فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس طرح نماز پڑھتے دیکھا ہے۔
حضرت ابو ہر یرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ آدی ساٹھ سال نماز پڑھتا رہتا ہے لیکن اس کی نماز قبول نہیں ہوتی، کیونکہ کبھی وہ رکوع ٹھیک طرح کرتا ہے لیکن سجدہ ٹھیک نہیں کرتا اور کبھی سجدہ ٹھیک طرح کرتا ہے لیکن رکوع ٹھیک نہیں کرتا۔
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 3- The Book of Prayer › 67 - In a man, his prayer is reduced, and what is mentioned in it, and how to do it. · Hadith 2980
مصنف ابن أبي شيبة · کتاب ‹ 67- في الرجل يَنْقُصُ صَلاَتُهُ ، وَمَاْ ذُكِرَ فِيهِ ، وَكَيْفَ يَصْنَعُ فِيهَا. · حديث 2981
2981- حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءً ، قَالَ : رَأَيْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ مَعَ عَشَرَةِ رَهْطٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم ، قَالَ : فَقَالَ لَهُم : أَلاَّ أُحَدِّثُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم ؟ قَالُوا : هَاتِ ، قَالَ : رَأَيْتُهُ إذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ مَكَثَ قَائِمًا حَتَّى يَقَعَ كُلُّ عَظْمٍ مَوْضِعَهُ ، ثُمَّ يَنْحَطُّ سَاجِدًا وَيُكَبِّرُ.
حضرت محمد بن عمرو کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوحمید ساعدی کودس صحابہ کرام کے ساتھ دیکھا۔ حضرت ابوحمید نے کہا کہ میں تمہارے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طریقہ نماز نہ بیان کروں؟ انہوں نے کہا ضرور بیان کریں۔ انہوں نے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنی دی ر ٹھر تے کہ ہر ہڈی اپنی جگہ آ جاتی پھر سجدے میں جاتے ہوئے جھکتے اور پھر تکبیر کہتے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں کہ جب رسول الله رکوع کرتے تو اپنے سر مبارک کو نہ کمر سے نیچار کھتے اور نہ ہی اونچا بلکہ ان دونوں کی درمیانی کیفیت میں رکھتے۔ جب آپ رکوع سے سر اٹھاتے تو اس وقت تک سجدے میں نہ جاتے جب تک اعتدال سے کھڑے نہ ہو جاتے۔ اور جب سجدہ کرنے کے بعد سر اٹھاتے تو اس وقت تک دوسرا سجدہ نہ کرتے جب تک اطمینان سے بیٹھ نہ جاتے۔ آپ ہردورکعات کے بعد التحیہ پڑھا کرتے تھے۔
حضرت زید بن وہب کہتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ تو ایک مرتبہ مسجد میں داخل ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ ابواب کنده کی طرف ایک آدمی نماز پڑھ رہا ہے لیکن رکوع سجدہ ٹھیک طرح نہیں کر رہا۔ جب اس نے نماز مکمل کر لی تو حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اس سے فرمایا کہ تم ایسی نماز کتنے عرصے سے پڑھ رہے ہو؟ اس نے کہا کہ چالیس سال سے۔ حضرت حذیفہ نور نے فرمایا کہ تم نے چالیس سال سے نماز نہیں پڑھی، اگر ایسی نماز پڑھتے ہوئے تمہارا انتقال ہو جاتا تو تم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طریقے کے علاوہ کسی اور طریقے پر دنیا سے جاتے۔ پھر حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اسے نماز سکھائی اور فرمایا کہ آ دی نماز میں تخفیف کر سکتا ہے لیکن رکوع اورسجو د میں کمی نہ کرے۔
حضرت حسن سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد نے فرمایا کہ بد ترین چور وہ ہے جو نماز میں چوری کرے۔ لوگوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ نماز میں کیسے چوری کر سکتا ہے؟ فرمایا کہ اس کا رکوع سجدہ اچھی طرح نہ کرے۔
الْحَسَنِ، ← يُونُسَ ← هُشَيْمٌ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 3- The Book of Prayer › 67 - In a man, his prayer is reduced, and what is mentioned in it, and how to do it. · Hadith 2984