مصنف ابن أبي شيبة · 5- كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ 150- من كره أَنْ يَتَصَدَّقَ الرَّجُلُ بِشَرِّ مَالِهِ. · حديث 10888
10888- حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إسْمَاعِيلَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ صَخْرٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم الْمَسْجِدَ وَأَقْنَاءٌ فِي الْمَسْجِدِ مُعَلَّقَةٌ ، وَإِذَا فِيهِ قِنْوٌ فِيهِ جَدَرٌ، وَمَعَهُ عُرْجُونٌ ، أَوْ عَصًا ، فَطَعَنَ فِيهِ ، وَقَالَ : مَنْ جَاءَ بِهَذَا ؟ قَالُوا : فُلاَنٌ ، قَالَ : بَؤُسَ أُنَاسٌ يُمْسِكُونَ صَدَقَاتِهِمْ ، ثُمَّ يُطْرَحُ بِالْعَرَاءِ فَلاَ تَأْكُلُهَا الْعَافِيَةُ يهَاجر كَل بَرْقِة وَرَعْدَة إلَى الشَّامِ.
حضرت عمر ابن ابی بکر رحمۃ اللہ علیہ کے والد فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف لائے تو کھجوروں کے گچھےمسجد میں لٹکے ہوئے تھے اور ان میں سے ایک گچھے پر کچھ خراب کھجوریں تھیں نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک لاٹھی تھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ گچھے پر ماری اور فرمایا یہ کون لایا ہے ؟ لوگوں نے بتایا فلاں آدمی لایا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ان لوگوں کے لئے تباہی ہے جو پہلے اپنے صدقات روک کر رکھتے ہیں (حدیث کے آخری حصہ کا معنی محقق محمد عوامہ کے لئے بھی واضح نہیں ہو سکا، دیکھیے حاشیہ مصنف ابن ابی شیبہ ج 7 ص 79)
أَبِي ← عمر بن أبي بكر ← حُمَيْدِ بْنِ صَخْرٍ، ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 5- The Book of Zakat › 150- Whoever hates that a man give charity with the evil of his wealth. · Hadith 10888
