مصنف ابن أبي شيبة · 6- كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ 179- في الرجل يَمُوتُ وَعَلَيْهِ الدَّيْنُ مَنْ قَالَ لاَ يُصَلَّى عَلَيْهِ حَتَّى يُضْمَنَ دَيْنُهُ. · حديث 12141
12141- حدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم بِجِنَازَةٍ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا ، فَقَالَ : عَلَيْهِ دَيْنٌ ؟ قَالُوا : نَعَمْ دِينَارَانِ ، قَالَ : تَرَكَ لَهُمَا وَفَاءً ؟ قَالُوا : لاَ , قَالَ : فَصَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ ، قَالَ أَبُو قَتَادَةَ : هُمَا عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللهِ , فَصَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم.
حضرت عبداللہ بن ابوقتادہ رحتمہ اللہ علیہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرمصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک جنازہ لایا گیا، کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کی نماز جنازہ ادا فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دریافت فرمایا : کیا اس کے ذمہ کسی کا قرض ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا جی ہاں دو دینار ہیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس نے اتنامال چھوڑا ہے جس سے ادائیگی ہو سکے؟ عرض کیا کہ نہیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کرو حضرت ابوقتادہ خود فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! وہ میرے زمہ ہیں پھر حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ ادا فرمائی۔
أَبُو قَتَادَةَ هُمَا عَلَيَّ ← فَصَلُّوْا عَلٰی صَاحِبِکُمْ ← لَا۔ ← تَرَکَ لَھُمَا وَفَاءً ← نَعَمْ دِينَارَانِ ← أُتِيَ رَسُولُ اللهِ بِجِنَازَةٍ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا فَقَالَ عَلَيْهِ دَيْنٌ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 6- Book of Funerals › 179 - In a man who dies, and whoever owes debt, will say that he does not pray until his debt is guaranteed. · Hadith 12141
