مصنف ابن أبي شيبة · کتاب ‹ 16- مَنْ كَانَ يُطَبِّقُ يَدَيْهِ بَيْنَ فَخِذَيْهِ. · حديث 2554
2554- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إبْرَاهِيمَ ، قَالَ : دَخَلَ الأَسْوَدُ وَعَلْقَمَةُ عَلَى عَبْدِ اللهِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ : صَلَّى هَؤُلاَءِ بَعْدُ ؟ قَالاَ : لاَ ، قَالَ : فَقُومُوا فَصَلُّوا ، وَلَمْ يَأْمُرْ بِأَذَانٍ ، وَلاَ إقَامَةٍ ، وَتَقَدَّمَ هو فَصَلَّى بِنَا ، فَذَهَبْنَا نَتَأَخَّرُ فَأَخَذَ بِأَيْدِينَا فَأَقَامَنَا مَعَهُ ، فَلَمَّا رَكَعْنَا وَضَعَ الأَسْوَدُ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ ، فَنَظَرَ عَبْدُ اللهِ فَأَبْصَرَهُ فَضَرَبَ يَدَهُ ، فَنَظَرَ الأَسْوَدُ فَإِذَا يَدَا عَبْدِ اللهِ بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ وَقَدْ خَالَفَ بين أَصَابِعَهُ ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلاَةَ ، قَالَ : إذَا كُنْتُمْ ثَلاَثَةً فَلْيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ ، وَإِذَا رَكَعْتَ فَأَفْرِشْ ذِرَاعَيْك فَخِذَيْك ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إلَى اخْتِلاَفِ أَصَابِعِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ رَاكِعٌ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّهُ سَيَكُونُ أُمَرَاءُ يُمِيتُونَ الصَّلاَةَ شَرَقَ الْمَوْتَى ، وَأَنَّهَا صَلاَةُ مَنْ هُوَ شَرٌّ مِنْ حِمَارٍ ، وَصَلاَةُ مَنْ لاَ يَجِدُ بُدًّا ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَلْيُصَلِّ الصَّلاَةَ لِمِيقَاتِهَا ، وَلْتَكُنْ صَلاَتُكُمْ مَعَهُمْ سُبْحَةً ، فَقُلْتُ لإِبْرَاهِيمَ : كَانَ عَلْقَمَةُ وَالأَسْوَدُ يَفْعَلاَنِ ذَلِكَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ لإِبْرَاهِيمَ : تَفْعَلُ أَنْتَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ : إنَّ النَّاسَ يَضَعُونَ أَيْدِيَهُمْ عَلَى رُكَبِهِمْ ؟ فَقَالَ إبْرَاهِيمُ : سَمِعْت أَبَا مَعْمَرٍ يَقُولُ : رَأَيْت عُمَرَ يَضَعُ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ.
حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت اسود اور حضرت علقمہ ، حجرت عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ نے پو چھا کہ کیا ان لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟ ان دونوں نے کہا نہیں۔حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ اٹھو اور نماز پڑھو۔انہوں نے نا نماز کا حکم دیا نہ ہی اقامت کا ۔ پھر وہ آگے بڑھے اور انہوں نے ہمیں نماز پرھائی۔ہم پیچھے ہٹنے لگے تو انہوں نے پکٹر کر اپنے ساتھ کھڑا کر لیا۔ جب ہم نے رکوع کیا تو اسود نے اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھ لئے۔ جب حضرت عبداللہ نے انہیں ایسا کرتے ہوئے دیکھا تو ان کے ہاتھوں پر مارا۔ اسود نے دیکھا کہ حضرت عبداللہ کے دونوں ہاتھ ان کے گھٹنوں کے درمیان تھے اور انہو ں نے اپنی انگلیوں کو کھول رکھا تھا۔جب حضرت عبداللہ نے نماز مکمل کر لی تو فرمایا’’ جب تم رکوع کرو تو اپنے بازؤ ں کو اپنی رانوں پر بچھا لو، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع کی حالت میں انگلیوں کو کھول کر رکھا کرتے تھے اور یہ منظر اب بھی میرے سامنے ویسے ہے۔اس کے بعد حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ عنقریب ایسے امرا ء آئیں گے جو نماز کو مردہ کر دیں گے۔ وہ ایسی نماز ہو گی جو گدھے سے زیادو بری ہو گی اور اس نماز کا کوئی فائدہ نہ ہو گا۔ جب تم میں سے کوئی ایسا زمانہ پائے تو اپنی نماز کو اس کے وقت پر ادا کر لے۔اور ان کے ساتھ محض نفل کے طور پر شریک ہو۔راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابراہیم سے کہا کہ کیا اس کے بعد پھر حضرت اسود اور حضرت علقمہ یوں ہی کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا ہاں۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ بھی ایسا ہی کرتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا ہاں۔ میں نے کہا کہ بہت سے لوگ تو اپنے گھٹنوں پر ہاتھ رکھتے ہیں۔ حضرت ابراہیم نے فرمایا میں نے حضرت ابو معمر کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھتے تھے۔
لَا۔ ← عَبْدُ اللهِ صَلَّى هَؤُلاَءِ بَعْدُ ← دَخَلَ الأَسْوَدُ وَعَلْقَمَةُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 3- The Book of Prayer › 16- Whoever applies his hands between his thighs. · Hadith 2554
