مصنف ابن أبي شيبة · کتاب ‹ 756- مَنْ كَانَ يُصَلِّي صَلاَةَ الاِسْتِسْقَاءِ. · حديث 8422
8422- حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامٍ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كِنَانَةَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : أَرْسَلَنِي أَمِيرٌ مِنَ الأَمَرَاءِ إلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ عَنِ الاِسْتِسْقَاءِ ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : مَا مَنَعَهُ أَنْ يَسْأَلَنِي؟ ثُمَّ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم مُتَوَاضِعًا مُتَبذِلاً مُتَخَشِّعًا مُتَضَرِّعًا مُتَرَسِّلاً ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا يُصَلِّي فِي الْعِيدِ ، وَلَمْ يَخْطُبْ خُطْبَتَكُمْ هَذِهِ.
حضرت اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ فرماتے ہیں کہ مجھے ایک امیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا کہ میں ان سے نماز استسقاء کے بارے میں سوال کروں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس نے مجھ سے خود اس بارے میں سوال کیوں نہیں کیا۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تواضع کے ساتھ بغیر زینت اختیار فرمائے ، خشوع و تضرع کے ساتھ ، آہستہ آہستہ چلتے ہوئے تشریف لائے اور آپ نے اس طرح نماز پڑھائی جس طرح آپ عید کی نماز پڑھایا کرتے تھے ، لیکن اس میں خطبہ نہ دیا۔
ابْنُ عَبَّاسٍ مَا مَنَعَهُ أَنْ يَسْأَلَنِي؟ ثُمَّ ← الِاسْتِسْقَاءِ ← أَرْسَلَنِي أَمِيرٌ مِنَ الْأُمَرَاءِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَسْأَلُهُ ← أَبِيهِ ← هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ،
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 3- The Book of Prayer › 756- Whoever prays ascites prayer. · Hadith 8422
