مصنف ابن أبي شيبة · 7- كِتَابُ الأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ وَالْكَفَّارَاتِ ‹ 82- من يفطر يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ. · حديث 12707
12707- ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ، فَقَالَ : هَلَكْت ، فَقَالَ : وَمَا أَهْلَكَك ؟ قَالَ : وَقَعْت عَلَى امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم : أَعْتِقْ رَقَبَةً ، قَالَ : لاَ أَجِدُهَا ، فَقَالَ : صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ، قَالَ : لاَ أَقْوَى ، قَالَ : فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا ، قَالَ : لاَ أَجِدُ ، فَقَالَ : اجْلِسْ فَجَلَسَ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إذْ أُتِيَ بِعَرْقٍ فِيهِ تَمْرٌ ، فَقَالَ لَهُ : النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم : اذْهَبْ فَتَصَدَّقْ بِهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ وَالَّذِي بَعَثَك بِالْحَقِّ مَا بَيْنَ لاَبَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ إلَيْهِ مِنَّا ، قَالَ : فَضَحِكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ ، ثُمَّ قَالَ : انْطَلِقْ فَأَطْعِمْهُ عِيَالَك.
حضرت ابوہر یرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا میں ہلاک ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کس نے تجھے ہلاک کر دیا ؟ اس نے عرض کیا کہ میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے شرعی ملاقات کر لی ہے، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غلام آزاد کر ، اس نے عرض کیا میں غلام نہیں پا تا ، آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا دومہینوں کے لگا تار روزے رکھ لے، اس نے عرض کیا میں اس کی طاقت نہیں رکھتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا ، اس نے عرض کیا میں وہ بھی نہیں پا تا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ جا، وہ بیٹھ گیا اسی دوران حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ کھجور یں آئیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: اس کو لے جا اور جا کر صدقہ کر دے ، اس نے عرض کی اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے مد ینہ کی دونوں گھاٹیوں کے درمیان کوئی گھر ایسانہیں جو ہم سے زیادہ ضرورت مند ہو،حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر اتنامسکرائےکہ آپ کے دانت مبارک ظا ہر ہو گئے پھرفرمایا: یہ لے کراپنے عیال کو کھلا دے۔
لَهُ النَّبِيُّ اذْهَبْ فَتَصَدَّقْ بِهِ ← اجْلِسْ فَجَلَسَ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إذْ أُتِيَ بِعَرْقٍ فِيهِ تَمْرٌ ← لا أجد ← فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْکِينًا ← لاَ أَقْوَى ← صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ← لَا أَجِدُهَا ← النَّبِيُّ أَعْتِقْ رَقَبَةً ← وَقَعْتُ عَلَی امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ ← «وَمَا أَهْلَكَكَ؟» ← هلكت ← أَتَی رَجُلٌ النَّبِيَّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ،
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 7 - The Book of Faith, Vows and Atonement. › 82- If a day breaks one day from Ramadan. · Hadith 12707
