مصنف ابن أبي شيبة · 10- كتاب الطَّلاَقِ ‹ 226 - مَا قَالُوا فِي الأَوْلِيَاءِ وَالأَعْمَامِ ، أَيُّهُمْ أَحَقُّ بِالْوَلَدِ ؟. · حديث 19466
19466- حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ , عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ كَانَتْ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَمِّهَا فَمَاتَ عَنْهَا فَتَزَوَّجَهَا رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَجَاءَ بَنُو عَمِّ الْجَارِيَةِ فَقَالُوا : إنا أَخِذُو ابْنَتَنَا قَالَتْ : إنِّي أَنْشُدُكُمَ اللَّهَ أَنْ تَفَرقُوا بَيْنِي وَبَيْنَ ابْنَتِي فَأَنَا الْحَامِلُ وَأَنَا الْمُرْضِعُ وَلَيْسَ أَحَدٌ أخير لقرب ابْنَتِي مِنِّي فَأَبُوا ، فَقَالَت : مَوْعِدُكُمْ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم , ثُمَّ قَالَ : إذَا خَيَّرَك رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم فَقُولِي : أَخْتَارُ اللَّهَ وَالإِيمَانَ وَدَارَ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لاَ تَذْهَبُونَ بِهَا مَا بَقِيَتْ عُنُقِي فِي مَكَانِهَا وَجَاؤُوا إلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَضَى لَهُمْ بِهَا فَقَالَ بِلاَلٌ : يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللهِ ، شَهِدْت هَؤُلاَءِ النَّفَرَ وَهَذِهِ الْمَرْأَةَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم اخْتَصَمُوا فَقَضَى بِهَا لأَمِّهَا ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَأَنَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لاَ يَذْهَبُونَ بِهَا مَا دَامَتْ عُنُقِي فِي مَكَانِهَا فَدَفَعَهَا إلَى أُمِّهَا.
حضرت محمد بن کعب رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ دیہات کی ایک عورت اپنے چچا زاد کے گھر میں تھی۔(اس خاوند سے اس کی ایک بیٹی پیدا ہوئی )اس کا خاوندانتقال ہو گیا تو اس نے ایک انصاری مرد سے شادی کرلی ۔اس شادی کے بعد لڑکی کے چچا زاد آگئے اور انہوں نے کہا کہ ہم اپنی بیٹی کو لے کر جائیں گے۔اس عورت نے کہا کہ میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتی ہوں کہ تم میرے اور میری بیٹی کے درمیان نہ آؤ۔میں نے اس کو پیٹ میں اٹھایا ہے اور میں نے اس کو دودھ پلایا ہے ۔مجھ سے بڑ ھ کر کوئی اس بچی کا استحقاق نہیں رکھتا ۔لوگوں نے اس کی بات کا انکار کیا تواس نے کہا تم رسول اللہ ﷺ کےپاس چلو اور فیصلہ کرالو۔پھر اس خاتون نے اپنی بچی سے کہا کہ جب رسول اللہ ﷺ تمہیں اختیار دیں تو تم کہنا کہ میں نے اللہ کو ،ایمان کو ،مہاجرین اور انصار کے گھر کو اختیار کیا ہے ۔جب رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم ! جب تک میری جان ہے تم اسے نہیں لے جا سکتے (حضور ﷺ کے وصال کے بعد)پھر وہ لوگ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو آپ نے اس بچی کا فیصلہ اس کے خاندان والوں کے حق میں کردیا ۔اس پر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کے خلیفہ ! میری موجودگی میں یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تھے،یہ عورت بھی رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھی تھی ۔رسول اللہ ﷺ نے اس بچی کی فیصلہ عورت کے حق میں فرمایا تھا۔اس پر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جب تک میں زندہ ہوں تم اس بچی کو نہیں لے جاسکتے ۔پھر آپ نے وہ بچی اس کی ماں کو دے دی۔
مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، ← موسى بن عبيدة ← وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ،
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 10 - The Book of Divorce › 226 - What did they say in the guardians and the uncles, which one is more entitled to the father? · Hadith 19466
