مصنف ابن أبي شيبة · 6- كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ 187- في نفس الْمُؤْمِنِ كَيْفَ تَخْرُجُ وَنَفْسِ الْكَافِرِ. · حديث 12185
12185- حدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْمِنْهَالِ ، عَنْ زَاذَانَ : عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم فِي جِنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ , فَانْتَهَيْنَا إلَى الْقَبْرِ وَلَمَّا يُلْحَدْ , فَجَلَسَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ كَأَنَّمَا عَلَى رُؤُوسِنَا الطَّيْرُ , وَفِي يَدِهِ عُودٌ يَنْكُتُ بِهِ , فَرَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَالَ : اسْتَعِيذُوا بِاَللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، أَوْ مَرَّتَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ : إنَّ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ إذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْيَا وَإِقْبَالٍ مِنَ الآخِرَةِ نَزَلَ إلَيْهِ مِنَ السَّمَاءِ مَلاَئِكَةٌ بِيضُ الْوُجُوهِ , كَأَنَّ وُجُوهَهُمَ الشَّمْسُ , حَتَّى يَجْلِسُونَ مِنْهُ مَدَّ الْبَصَرِ , مَعَهُمْ كَفَنٌ مِنْ أَكْفَانِ الْجَنَّةِ , وَحَنُوطٌ مِنْ حَنُوطِ الْجَنَّةِ ، ثُمَّ يَجِيءُ مَلَكُ الْمَوْتِ فَيَقْعُدُ عِنْدَ رَأْسِهِ فَيَقُولُ : أَيَّتُهَا النَّفْسُ الطَّيِّبَةُ اخْرُجِي إلَى مَغْفِرَةٍ مِنَ اللهِ وَرِضْوَانٍ , فَتَخْرُجُ تَسِيلُ كَمَا تَسِيلُ الْقَطْرَةُ مِنْ فِي السِّقَاءِ فَيَأخذها , فَإِذَا أَخَذُوهَا لَمْ يَدَعُوهَا فِي يَدِهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ حَتَّى يَأْخُذُوهَا فَيَجْعَلُوهَا فِي ذَلِكَ الْكَفَنِ , وَذَلِكَ الْحَنُوطِ , فَيَخْرُجُ مِنْهَا كَأَطْيَبِ نَفْخَةِ مِسْكٍ وُجِدَتْ عَلَى وَجْهِ الأَرْضِ , فَيَصْعَدُونَ بِهَا فَلاَ يَمُرُّونَ بِهَا عَلَى مَلَكٍ مِنَ الْمَلاَئِكَةِ إِلاَّ قَالُوا : مَا هَذَا الرُّوحُ الطَّيِّبُ ؟ فَيَقُولُونَ : هَذَا فُلاَنُ بْنُ فُلاَنٍ بِأَحْسَنِ أَسْمَائِهِ الَّتِي كَانَ يُسَمَّى بِهَا فِي الدُّنْيَا , حَتَّى يَنْتَهُوا بِهَا إلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا , فَيَسْتَفْتِحُ فَيُفْتَحُ لَهُمْ , فَيَسْتَقْبِلُهُ مِنْ كُلِّ سَمَاءٍ مُقَرَّبُوهَا إلَى السَّمَاءِ الَّتِي تَلِيهَا , حَتَّى يَنْتَهِيَ بِهِ إلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ ، قَالَ : فَيَقُولُ اللَّهُ تعالى اكْتُبُوا كِتَابَ عَبْدِي فِي عِلِّيِّينَ فِي السَّمَاءِ الرَّابِعَةِ , وَأَعِيدُوهُ إلَى الأَرْضِ , فَإِنِّي مِنْهَا خَلَقْتُهُمْ , وَفِيهَا أُعِيدُهُمْ , وَمِنْهَا أُخْرِجُهُمْ تَارَةً أُخْرَى , فَيُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ , وَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ فَيَقُولاَنِ لَهُ : مَنْ رَبُّك ؟ فَيَقُولُ : رَبِّي اللَّهُ فَيَقُولاَنِ لَهُ : مَا دِينُك ؟ فَيَقُولُ دِينِي الإِسْلاَمُ , فَيَقُولاَنِ لَهُ : مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ ؟ فَيَقُولُ : هُوَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : فَيَقُولاَنِ : مَا عَمَلُك به ؟ فَيَقُولُ : قَرَأْت كِتَابَ اللهِ وَآمَنْت بِهِ وَصَدَقْت بِهِ , فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ أَنْ صَدَقَ عَبْدِي فَأَفْرِشُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ , وَأَلْبِسُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ , وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إلَى الْجَنَّةِ , فَيَأْتِيهِ مِنْ طِيبِهَا وَرَوْحِهَا , وَيُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ مَدَّ بَصَرِهِ , وَيَأْتِيهِ رَجُلٌ حَسَنُ الْوَجْهِ , حَسَنُ الثِّيَابِ , طَيِّبُ الرِّيحِ , فَيَقُولُ : أَبْشِرْ بِاَلَّذِي يَسُرُّك , هَذَا يَوْمُك الَّذِي كُنْت تُوعَدُ , فَيَقُولُ : وَمَنْ أَنْتَ ؟ فَوَجْهُك الْوَجْهُ يَجِيءُ بِالْخَيْرِ , فَيَقُولُ : أَنَا عَمَلُك الصَّالِحُ , فَيَقُولُ : رَبِّ أَقِمَ السَّاعَةَ , رَبِّ أَقِمَ السَّاعَةَ , حَتَّى أَرْجِعَ إلَى أَهْلِي وَمَالِي , وَإِنَّ الْعَبْدَ الْكَافِرَ إذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْيَا , وَإِقْبَالٍ مِنَ الآخِرَةِ , نَزَلَ إلَيْهِ مِنَ السَّمَاءِ مَلاَئِكَةٌ سُودُ الْوُجُوهِ , مَعَهُمَ الْمُسُوحُ , حَتَّى يَجْلِسُونَ مِنْهُ مَدَّ الْبَصَرِ ، قَالَ : ثُمَّ يَجِيءُ مَلَكُ الْمَوْتِ , حَتَّى يَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِهِ , فَيَقُولُ : يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ , اخْرُجِي إلَى سَخَطِ اللهِ وَغَضَبِهِ ، قَالَ : فَتَفْرَّقُ فِي جَسَدِهِ ، قَالَ : فَتَخْرُجُ تُقَطَّعُ مَعَهَا الْعُرُوقُ وَالْعَصَبُ , كَمَا تُنْزَعُ السَّفُّودَ مِنَ الصُّوفِ الْمَبْلُولِ , فَيَأْخُذُوهَا فَإِذَا أَخَذُوهَا لَمْ يَدَعُوهَا فِي يَدِهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ حَتَّى يَأْخُذُوهَا فَيَجْعَلُوهَا فِي تِلْكَ الْمُسُوحِ , فَيَخْرُجُ مِنْهَا كَأَنْتَنِ جِيفَةٍ وُجِدَتْ عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ , فَيَصْعَدُونَ بِهَا , فَلاَ يَمُرُّونَ بِهَا عَلَى مَلَكٍ مِنَ الْمَلاَئِكَةِ إِلاَّ قَالُوا : مَا هَذَا الرُّوحُ الْخَبِيثُ ؟ فَيَقُولُونَ : فُلاَنُ بْنُ فُلاَنٍ , بِأَقْبَحِ أَسْمَائِهِ الَّتِي كَانَ يُسَمَّى بِهَا فِي الدُّنْيَا حَتَّى يُنْتَهى بِهَا إلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا , فَيَسْتَفْتِحُونَ فَلاَ يُفْتَحُ لَهُ ، ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : {لاَ تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلاَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ} قَالَ : فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : اكْتُبُوا كِتَابَ عَبْدِي فِي سِجِّينٍ فِي الأَرْضِ السُّفْلَى , وَأَعِيدُوهُ إلَى الأَرْضِ , فَإِنِّي مِنْهَا خَلَقْتُهُمْ وَفِيهَا أُعِيدُهُمْ , وَمِنْهَا أُخْرِجُهُمْ تَارَةً أُخْرَى ، قَالَ : فَيُطْرَحُ رُوحُهُ طَرْحًا ، قَالَ : ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : {وَمَنْ يُشْرِكْ بِاَللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَكَان سَحِيقٍ} قَالَ : فَيُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ , وَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ , فَيُجْلِسَانِهِ فَيَقُولاَنِ لَهُ : مَنْ رَبُّك ؟ فَيَقُولُ : هَاهَا لاَ أَدْرِي , وَيَقُولاَنِ : لَهُ وَمَا دِينُك , فَيَقُولُ : هَاهَا لاَ أَدْرِي ، قَالَ : فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ , أفْرِشُوا لَهُ مِنَ النَّارِ , وَأَلْبِسُوهُ مِنَ النَّارِ , وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إلَى النَّارِ ، قَالَ : فَيَأْتِيهِ مِنْ حَرِّهَا وَسَمُومِهَا , وَيُضَيَّقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ حَتَّى تَخْتَلِفَ فيه أَضْلاَعُهُ , وَيَأْتِيهِ رَجُلٌ قَبِيحُ الْوَجْهِ , وَقَبِيحُ الثِّيَابِ , مُنْتِنُ الرِّيحِ , فَيَقُولُ : أَبْشِرْ بِاَلَّذِي يَسُوؤُك , هَذَا يَوْمُك الَّذِي كُنْت تُوعَدُ , فَيَقُولُ : مَنْ أَنْتَ فَوَجْهُك الْوَجْهُ الَّذِي يَجِيءُ بِالشَّرِّ ؟ فَيَقُولُ : أَنَا عَمَلُك الْخَبِيثُ , فَيَقُولُ : رَبِّ لاَ تُقِمَ السَّاعَةَ , رَبِّ لاَ تُقِمَ السَّاعَةَ.
حضرت براء رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ایک انصاری کے جنازے میں گئے جب ہم قبر پر پہنچے اورلحدابھی تک تیار نہ ہوئی تھی تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم شریف فرما ہوئے اور ہم لوگ بھی آپ کے اردگرد اس طرح بیٹھ گئے جس طرح ہمارے سروں پر پرندے بیٹھ گئے ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی جس سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زمین کو کرید رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا لوگو! عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگو ! دویا تین باریہ فرمایا پھر فرمایا مومن بندے کا جب دنیا سے تعلق ختم ہونے اور آخرت کی طرف متوجہ (جانے) ہونے کا وقت آتا ہے تو آسمان سے سفید چہروں والے فرشتے آتے ہیں گویا کہ ان کے چہرے سورج ہیں یہاں تک کہ وہ اس کی آنکھوں کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں ان کے ساتھ (پاس) جنت کے کفن اور جنت کی خوشبو ہوتی ہے پھر ملک الموت آ کر اس کے سر کے پاس بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے اے پا کیز نفس ! اللہ کی رضا اور اس کی مغفرت ( کے سایہ ) میں نکل تو وہ روح اس طرح بہہ نکلتی ہے جس طرح مشکیزہ سے پانی کا قطرہ نکلتا ہے پھر وہ اس کوپکڑ لیتا ہے پھر جب وہ اس کو پکڑتا ہے تو پلک جھپکنے کی دیر کے لیے بھی اس کو نہیں چھوڑتا یہاں تک کہ اس کوکفن اور خوشبو میں رکھ دیتے ہیں اس میں سے پاکیزہ مشک کی خوشبونکلتی ہے جیسی خوشبو زمین میں پائی جاتی ہے۔ پھر وہ فرشتے اس پاکیزہ روح کو لے کر آسمانوں کی طرف چڑھتے ہیں اور وہ جس فرشتوں کی جماعت کے پاس سے گزرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں یہ پاکیزہ روح کون ہے؟ وہ کہتے ہیں فلاں بن فلاں اسے اچھے نام کے ساتھ پکارتے ہیں جو دنیا میں اس کا اچھا اور خوبصورت نام تھا، یہاں تک کہ وہ آسمان دنیا تک پہنچ جاتے ہیں پھر وہ فرشتے دروازہ کھلواتے ہیں تو ان کے لیے دروازہ کھول دیا جاتا ہے اور ہر آسمان کے مقرب فرشتے اس کا استقبال کرتے ہیں یہاں تک کہ اس کو ساتویں آسمان تک لے جاتے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر الله تعالی فرماتے ہیں میرے بندے کی کتاب چوتھے آسمان پر علیین میں لکھ دو اور اس کو مین کی طرف لوٹا دو بے شک اس میں سے میں نے ان کو پیدا کیا تھا اور اس میں لوٹاؤں گا اور اس میں سے دوبارہ (قیامت کے دن) نکالوں گا۔ پھر اس کی روح کو جسم کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے اس کے پاس دوفرشتے آتے ہیں اس کے پاس بیٹھ جاتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں تیرا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے اللہ میرارب ہے پھر وہ اس سے پوچھتے ہیں تیرادین کونسا ہے؟ وہ کہتا ہے میرادین اسلام ہے پھر اس سے پوچھتے ہیں یہ شخص کون ہے جو تمہاری طرف مبعوث کیا گیا تھا؟ وہ کہتا ہے یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں۔ وہ کہتے ہیں اس کے متعلق تو کیا جانتاہے؟ وہ کہے گا میں نے اللہ کی کتاب کی تلاوت کی اس پر ایمان لایا اور اس کی تصدیق کی۔پھر آسمان سے ایک منادی ندا دے گا کہ میرے بندے نے سچ کہا ہے اسی کے لیے جنت سے بچھونا بچھا دو اور جنت کا لباس اس کو پہنا دو اور اس کے لیے جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دو پس اس کے لیے جنت کی خوشبو اور ہوا آئے گی اور اس کی قبر کو تا حد نگاہ وسیع کر دیا جائے گا اس کے پاس خوبصورت چہرے خوبصورت کپڑے اور خوبصورت خوشبو والاشخص آئے گا وہ کہے گا خوشخبری ہے ان نعمتوں کی جو تجھ کو خوش کر دیں گی۔ یہی وہ دن ہے جس کا تجھ سے وعدہ کیا گیا تھا ، وہ شخص پوچھے گا تو کون ہے؟ وہ بھلائی اور خیر کے ساتھ اس کے چہرے کی طرف متوجہ ہوگا اور کہے گا میں تیرا نیک عمل ہوں وہ عرض کرے گا اے میرے رب ! قیامت قائم فرما! اے میرے رب ! قیامت قائم فرمایا کہ میں اپنے اہل اور مال کی طرف لوٹ جاؤں۔اور جب کافر بندے کا دنیا سے تعلق ختم ہورہا ہوتا ہے اور آخرت کی طرف جانے کا وقت آتا ہے تو اس کی طرف آسمان سے سیاہ چہروں والے فرشتے آتے ہیں ان کے ساتھ پرانے کمبل ہوتے ہیں اور وہ اس کی آنکھوں کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں پھر ملک الموت آ کر اس کے سر کے پاس بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے اے خبیث نفس! اللہ کی ناراضگی اور غصہ میں نکل، فر مایا روح اس کے جسم میں جدا جدا ہو کرنکلتی ہے وہ اس طرح نکلتی ہے کہ جس کی وجہ سے اس کے پٹھے اور رگیں کٹ جاتے ہیں جیسے سیخ کو گیلی روئی میں سے کھینچ کر نکالا جائے پھر وہ اس کو پکڑ لیتے ہیں جب اس کو پکڑتے ہیں تو پلک جھکنے کی دیر کے لیے بھی اس کونہیں چھوڑتے یہاں تک کہ اس کمبل میں ڈال دیتے ہیں اس میں سےمردار کی سی بد بونکلتی ہے جیسی بد بوز مین پر پائی جاتی ہے پھر وہ فرشتے اس کی روح کو لے کر آسمان کی طرف چڑھتے ہیں وہ فرشتوں کی کسی جماعت کے پاس سے گزرتے ہیں تو وہ دریافت کرتے ہیں یہ خبیث روح کس کی ہے؟ وہ کہتے ہیں فلاں بن فلاں کی ہے اس برے نام سے اس کو پکارتے ہیں جس نام سے وہ دنیا میں پکارا جاتا تھا یہاں تک کہ اس کو آسمان دنیا تک لے جایا جاتا ہے پھر فرشتے دروازہ کھلواتے ہیں لیکن دروازه اس کے لیے نہیں کھولا جاتا۔ پھر حضور اقدسصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی : ولا تفتح له أبواب السماء ولا يون الجنة حتى يلج الجمل في سم الخياطه (الأعراف . 4) پھر فرمایا الله تعالی فرماتے ہیں میرے بندے کی کتاب سجین میں لکھ دو جوز مین کی تہہ میں ہے اور اس کو زمین کی طرف لوٹا دو بے شک میں نے انہیں ان میں سے پیدا کیا تھا اور اسی میں لوٹاؤں گا اور پھر دوبارہ قیامت کے دن) اسی میں سے نکالوں گا۔ پھر اس کی روح ڈال دی ( پھینک دی جاتی ہے)۔پھر حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی : وو من يشرك بالله قائما خير من السماء فتطه الكبير أو تهوى به البريفي مكان سحيق 40 (الحج )۳۱) پھر فرمایا اس کی روح اس کے جسم کی طرف لوٹا دی جاتی ہے اور دو فرشتے اس کے پاس آتے ہیں اور بیٹھ جاتے ہیں اور اس کو کہتے ہیں تیرا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے ہائے ہائے مجھے تو نہیں معلوم، وہ اس سے پوچھتے ہیں تیرا دین کون سا ہے؟ وہ کہتا ہے مجھے نہیں معلوم ، پھر آسمان سے ایک منادی آواز دیتا ہے اس کے لیے جہنم سے بچھونا بچھا دو ، اور اس کو جہنم کا لباس پہنا دو اور اس کے لیے جہنم سے ایک دروازہ کھول دو، پھر اس کے پاس جہنم کی گرمی اور بدبو آتی ہے اور اس کی قبرکو اس پر تنگ کر دیا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ایک دوسری میں گھس جاتی ہیں پھر اس کے بعد بدشکل، بدلباس اور بری بو والا ایک شخص آئے گا اور کہے گا خوش خبری تجھ کو خوشخبری ہے دردناک مصاب کی ، یہی وہ دن ہے جس کا تجھ سے وعدہ کیا گیا تھا وہ پوچھے گا تو کون ہے؟ وہ برے چہرے کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہو گا اور کہے گا میں تیرا برا عمل ہوں تو وہ کافر کہے گا اے رب ! قیامت قائم نہ فرمانا اے میرے رب ! قیامت قائم نہ فرمایا۔
الْبَرَاءِ، ← زَاذَانَ ← الْمِنْهَالُ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 6- Book of Funerals › 187- In the same believer, how do you go out and the same unbeliever? · Hadith 12185
