مصنف ابن أبي شيبة · 5- كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ 118- مَا قَالُوا فِي الْمَمْلُوكِ يُعْطَى مِنَ الصَّدَقَةِ. · حديث 10755
10755- حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ أَتَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الأَرْقَمِ ، قَالَ وَكَانَ عَلَى بَيْتِ الْمَالِ فِي إمْرَةِ عُمَر وَفِي إمْرَةِ عُثْمَانَ وَهُوَ يَقْسِمُ صَدَقَةً بِالْمَدِينَةِ ، فَلَمَّا رَآنِي ، قَالَ : مَا جَاءَ بِكَ يَا أُمَّ زِيَادٍ ، قَالَتْ قُلْتُ لَهُ : لِمَا جَاءَ لَهُ النَّاسُ ، قَالَ هَلْ عَتَقْتِ بَعْدُ ؟ قُلْتُ : لاَ ، فَبَعَثَ إلَى بَيْتِهِ فَأُتِيَ بِبُرْدٍ فَأَمَرَ لِي بِهِ ، وَلَمْ يَأْمُرْ لِي مِنَ الصَّدَقَةِ بِشَيْءٍ لأَنِّي كُنْت مَمْلُوكَةً.
حضرت زیاد بن ابو مریم اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کی والدہ حضرت عبداللہ بن ارقم کے پاس آئیں۔ وہ حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی امارت میں بیت المال (کے نگران) تھے۔ اور وہ صدقہ (زکوٰۃ) تقسیم فرما رہے تھے۔ مدینہ والوں کےساتھ، جب انہوں نے مجھے دیکھا تو فرمایا: اے ام زیاد تو یہاں کیوں آئی ؟ تو میں نے جواب دیا کہ جس مقصد کے لئے باقی لوگ آئے ہیں میں بھی اس ہی مقصد سے آئی ہوں۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا تو آزاد ہے؟ میں نے جواب دیا کہ نہیں ، تو انہوں نے کسی کو گھر بھیجا جو چادر لے کر آیا۔ آپ نے وہ مجھے دے دی۔ لیکن صدقہ (زکوٰۃ) میں سے کچھ نہ دیا۔ کیونکہ میں اس وقت مملوکہ تھی۔
أُمِّهِ2، ← زياد بن أبي مريم ← عَمْرُو بْنُ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ← عَبْدُ الرَّحِيمِ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 5- The Book of Zakat › 118- What they say in kings is given from charity. · Hadith 10755
