مصنف ابن أبي شيبة · 5- كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ 136- ما جاء عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ فِي صَدَقَةِ الإِبِلِ. · حديث 10847
10847- حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُسْتَوْرِدِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا قِلاَبَةَ يُحَدِّثُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ : بَعَثَ أَبُو بَكْرٍ الْمُصَدِّقِينَ فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَبِيعُوا الْجَذَعَةَ بِأَرْبَعِينَ وَالْحِقَّةَ بِثَلاَثِينَ ، وَابْنَ لَبُونٍ بِعِشْرِينَ , وَبِنْتَ مَخَاضٍ بِعَشَرَةٍ , فَانْطَلَقُوا فَبَاعُوا مَا بَاعُوا بِقِيمَةِ أَبِي بَكْرٍ ، ثُمَّ رَجَعُوا حَتَّى إذَا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ بَعَثَهُمْ فَقَالُوا : لَوْ شِئْنَا أَنْ نَزْدَادَ ازْدَدْنَا ، فَقَالَ : زِيدُوا فِي كُلِّ سِنٍّ عَشَرَةً ، فَلَمَّا أن كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ بَعَثَهُمْ فَقَالُوا : لَوْ شِئْنَا أَنْ نَزْدَادَ ازْدَدْنَا شَيْئًا ، فَلَمَّا وَلِيَ عُمَرُ بَعَثَ عُمَّالَهُ بِقِيمَةِ أَبِي بَكْرٍ الآخِرَةِ حَتَّى إذَا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ ، قَالَ الْعُمَّالُ لَوْ شِئْنَا أَنْ نَزْدَادَ ازْدَدْنَا ، فَقَالَ : زِيدُوا فِي كُلِّ سِنٍّ عَشْرَةً حَتَّى إذَا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ بَعَثَهُمْ بِالْقِيمَةِ الآخِرَةِ فَقَالُوا : لَوْ شِئْنَا أَنْ نَزْدَادَ ازْدَدْنَا ، قَالَ : لاَ حَتَّى إذَا وَلِيَ عُثْمَانَ بَعَثَ بِقِيمَةِ عُمَرَ الآخِرَةِ حَتَّى إذَا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ قَالُوا : لَوْ شِئْنَا أَنْ نَزْدَادَ ازْدَدْنَا ، قَالَ : زِيدُوا فِي كُلِّ سِنٍّ عَشَرَةً حَتَّى إذَا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ قَالُوا : لَوْ شِئْنَا أَنْ نَزْدَادَ ازْدَدْنَا ، قَالَ : لاَ , فَلَمَّا وَلِيَ مُعَاوِيَةُ بَعَثَ بِقِيمَةِ عُثْمَانَ الآخِرَةِ ، فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ قَالُوا : لَوْ شِئْنَا أَنْ نَزْدَادَ ازْدَدْنَا ، قَالَ : زِيدُوا فِي كُلِّ سِنٍّ عَشَرَةً , حَتَّى إذَا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ قَالُوا : لَوْ شِئْنَا أَنْ نَزْدَادَ ازْدَدْنَا ، قَالَ : خُذُوا الْفَرَائِضَ بِأَسْنَانِهَا ، ثُمَّ سَمُّوهَا وَأَعْلِنُوهَا ، ثُمَّ خالِسُوهُمْ لِلْبَيْعِ فَمَا اسْتَطَاعُوا أن ينتقصوا وَمَا اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَزْدَادُوا فَازْدَادُوا ، قَالَ عَبْدُ اللهِ : فَرَأَيْت عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ كَأَنَّهُ لَمْ يَرَ بِذَلِكَ بَأْسًا ، فَقَالَ لأَبِي قِلاَبَةَ : فَكَيْفَ كَانَتْ صَدَقَةُ الْغَنَمِ ؟ قَالَ : كَانَتِ الصَّدَقَةُ تُؤْخَذُ فَتُقْسَمُ فِي فُقَرَاءِ أَهْلِ الْبَادِيَةِ حَتَّى إذْ كَانَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ أَمَرَ بِهَا فَقُسِمَتْ أَخْمَاسًا فَجَعَلَ لِلْمِسْكِينَةِ خُمُسًا مِنْهَا ، ثُمَّ لَمْ يَزَلْ ذَلِكَ إلَى الْيَوْمِ.
حضرت عبداللہ بن المستورد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو قلابہ کو حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے سامنے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ : حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صدقہ وصول کرنے والوں کو (مختلف شہروں کی طرف) بھیجا تو ان سے فرمایا کہ وہ جذعہ کو چالیس ، حقہ کو تیس ، ابن لبون کو بیس اور بنت مخاض کو عشرۃ کے بدلے فروخت کر دو۔ چنانچہ صدقہ وصول کرنے والے چل پڑے اور انہوں نے اس قیمت پر ان کو فروخت کیا جو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مقرر فرمائی تھی پھر واپس آ گئے پھر جب آئندہ سال ان کو دوبارہ بھیجنے لگے تو انہوں نے عرض کیا کہ اگر ہم چاہیں تو ہم اس قیمت میں کچھ اضافہ کر لیں، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ہر سال دس کا اضافہ کر لینا۔ پھر آئندہ سال جب ان کو بھیجنے لگے تو انہوں نے عرض کیا: اگر ہم چاہیں تو اس میں اضافہ کر لیں۔ پھر جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ بنے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مقرر کردہ آخری قیمت پر عاملوں کو (مختلف شہروں میں ) بھیجا۔ پھر آئندہ سال آیا تو عاملوں نے عرض کیا: اگر ہم کچھ اضافہ کرنا چاہیں تو اضافہ کرلیں گے۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ہر سال دس کا اضافہ کر لیا کرو۔ پھر جب اگلے سال ان عاملوں کو بھیجا تو وہ پھر کہنے لگے اگر ہم کچھ اضافہ کرنا چاہیں تو اضافہ کرلیں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا نہیں اب اضافہ نہیں کرنا۔ پھر حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ بنے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مقرر کردہ آخری قیمت پر اپنے عامل روانہ فرمائے پھر جب اگلا سال آیا تو عامل کہنے لگے اگر ہم کچھ اضافہ کرنا چاہیں تو اضافہ کرلیں، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ہر سال دس کا اضافہ کرلو۔ پھر آئندہ سال جب آیا تو انہوں نے (پھر) عرض کیا کہ اگر ہم کچھ اضافہ کرنا چاہیں تو اضافہ کرلیں آپ نے فرمایا نہیں ۔ پھر جب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ امیر مقرر ہوئے تو انہوں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مقرر کردہ آخری قیمت پر بھیجے ۔ پھر جب اگلا سال آیا تو عامل کہنے لگے اگر ہم اس میں کچھ اضافہ کرنا چاہیں تو کر لیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ہر سال دس کا اضافہ کر لو ۔ پھر آئندہ سال انہوں نے کہا اگر ہم کچھ اضافہ کرنا چاہیں تو اضافہ کرلیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا فرائض کو ان کی عمر کے حساب سے لے لو پھر ان کے نام رکھو اور ان کا اعلان (مشہور کر دو) کرواؤ۔ پھر ان کو فوراً بیچ دو۔ اگر تو کم کرنے کی طاقت رکھو (تو کم کر دو) اور اگر تم قیمت زیادہ کرنے کی طاقت رکھو تو زیادہ کر لو۔ راوی حضرت عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کو دیکھا کہ وہ اس میں کچھ بھی حرج نہ سمجھتے تھے۔ انہوں نے حضرت ابو قلابہ سے فرمایا کہ بکریوں کی زکوٰۃ کیسے وصول کریں؟ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا زکوٰۃ وصول کر کے دیہات (اور جنگل )کے فقراء میں تقسیم کر دو۔ پھر حضرت عبدالملک بن مروان رحمۃ اللہ علیہ نے اس کا حکم دیا اور خمس خمس کر کے اس کو تقسیم کیا ۔ اور (ہر) مسکین کے لئے اس میں خمس رکھا جو آج تک مسلسل جاری ہے۔
بَعَثَ أَبُو بَكْرٍ الْمُصَدِّقِينَ فَأَمَرَهُمْ ← عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبَا قِلَابَةَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُسْتَوْرَدِ ← أَبُو أُسَامَةَ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 5- The Book of Zakat › 136 - What came from Abu Bakr, Omar and Othman in the charity of camels. · Hadith 10847
