مصنف ابن أبي شيبة · کتاب ‹ 751- صلاة الكسوف كَمْ هِيَ. · حديث 8383
8383- حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍوَ قَالَ : انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ، فَقَالَ النَّاسُ : إنَّمَا انْكَسَفَتْ لِمَوْتِ إبْرَاهِيمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم : إنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لاَ يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا.
حضرت ابو مسعود انصاری عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک مرتبہ سورج گرہن ہو گیا۔ لوگوں نے کہا کہ سورج کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کی وفات کی وجہ سے گرہن ہوا ہے ۔ اس پر نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ چاند اور سورج کو کسی کی زندگی اور کسی کی موت کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا۔ یہ اللہ کی نشانیاں ہیں ، جب تم انہیں گرہن لگا ہوا دیکھو تو نماز پڑھو۔
النَّاسُ إِنَّمَا انْكَسَفَتْ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ ← انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ ← أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← ابْنِ أَبِي خَالِدٍ، ← وَكِيعٌ،
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 3- The Book of Prayer › 751- How often is the eclipse prayer? · Hadith 8383
