مصنف ابن أبي شيبة · 9- كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ 66- مَا قَالُوا فِي إعْلاَنِ النِّكَاحِ. · حديث 16654
16654- حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , عَنْ يُونُسَ , عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ رَجُلاً تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَأَسَرَّ ذَلِكَ ، فَكَانَ يَخْتَلِفُ إلَيْهَا فِي مَنْزِلِهَا فَرَآهُ جَارٌ لَهَا يَدْخُلُ عَلَيْهَا فَقَذَفَهُ بِهَا فَخَاصَمَهُ إلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ , فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، هَذَا كَانَ يَدْخُلُ عَلَى جَارِيَةٍ وَلاَ أَعْلَمُهُ تَزَوَّجَهَا ، فَقَالَ لَهُ : مَا تَقُولُ ؟ فَقَالَ : تَزَوَّجْت امْرَأَةً عَلَى شَيْءٍ دُونٍ فَأَخْفَيْتُ ذَلِكَ ، قَالَ : فَمَنْ شَهِدَكُمْ ؟ قَالَ : أَشْهَدْت بَعْضَ أَهْلِهَا ، قَالَ : فَدَرَأَ الْحَدَّ , عَنْ قَاذِفِهِ وَقَالَ : أَعْلِنُوا هَذَا النِّكَاحَ وَحَصِّنُوا هَذِهِ الْفُرُوجَ.
حضرت حسن فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نے کسی عورت سے خفیہ طور پر شادی کی ، وہ اس کے گھر آیا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ عورت کے ایک پڑوسی نے آدمی کو اس کے گھر آتے دیکھ لیا تو اس پر تہمت لگا دی ۔ یہ جھگڑا لے کر وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ تہمت لگانے والے پڑوسی نے کہا کہ اے امیر المومنین ! یہ شخص میری پڑوسن کے پاس آتا ہے اور مجھے ان کے نکاح کا کوئی علم نہیں ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص کا بیان معلوم کیا تو اس نے کہا میں نے اس عورت سے خفیہ طور پر شادی کی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے گواہوں کی بابت سوال کیا تو اس عورت کے کچھ رشتہ دار اس نکاح کے گواہ ہیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تہمت لگانے والے پر حد تو جاری نہ کی البتہ ان سے فرمایا کہ نکاح کو اعلانیہ کرو اور شرمگاہوں کو پاکدامن رکھو ۔
الْحَسَنِ، ← يُونُسَ ← هُشَيْمٌ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 9- The book of marriage › 66- What they said in the declaration of marriage. · Hadith 16654
