مصنف ابن أبي شيبة · 5- كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ 126- مَا ذُكِرَ فِي الْكَنْزِ وَالْبُخْلِ بِالْحَقِّ فِي الْمَالِ. · حديث 10798
10798- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الأَقْنَعِ الْبَاهِلِيِّ ، عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا فِي مَجْلِسٍ فِي الْمَدِينَةِ , فَأَقْبَلَ رَجُلٌ لاَ تَرَى حَلْقَةٌ إِلاَّ فَرُّوا مِنْهُ , حَتَّى انْتَهَى إلَى الْحَلْقَةِ الَّتِي كُنْت فِيهَا , فَثَبَتُّ وَفَرُّوا ، فَقُلْت : مَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : أَبُو ذَرٍّ صَاحِبُ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم ، قَالَ : فَقُلْت : مَا يَفِرُّ النَّاسُ مِنْك ؟ قَالَ : إنِّي أَنْهَاهُمْ ، عَنِ الْكُنُوزِ ، قَالَ : قُلْتُ : إنَّ أُعْطِيَاتِنَا قَدْ بَلَغَتْ وَارْتَفَعَتْ فَتَخَافُ عَلَيْنَا مِنْهَا ، قَالَ : أَمَّا الْيَوْمُ فَلاَ وَلَكِنَّهَا يُوشِكُ أَنْ تَكُونَ أَثْمَانَ دِينِكُمْ فَدَعُوهُمْ وَإِيَّاهَا.
حضرت احنف بن قیس رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں مسجد نبوی شریف میں بیٹھا ہوا تھا اتنے میں ایک شخص مسجد میں آیا ، مسجد میں موجود جو حلقہ بھی اسے دیکھتا اس سے بھاگتا۔ یہاں تککہ وہ آخری تک پہنچا کہ جس میں ، میں تھا ، لوگ تو بھاگ گئے لیکن میں وہاں ہی ثابت قدم موجود رہا۔ میں ان سے پوچھا آپ کون ہیں؟ وہ فرمانے گلے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھی ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، میں نے عرض کیا کہ لوگ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کیوں بھاگتے ہیں؟ فرمایا اسلئے کہ میں ان کوخزانے (جمع کرنے سے ) روکتا ہوں، میں نے عرض کیا کہ کیا آپ ہمارے مالوں اور خزانوں کے زیادہ ہونے سے پریشان ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ ابھی تو نہیں البتہ ہو سکتا ہے کہ یہ مال و دولت ایک دن تمہارے لیے دین سے دوری کا باعث بن جائے۔
الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الأَقْنَعِ الْبَاهِلِيِّ ← الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 5- The Book of Zakat › 126- What is mentioned in treasure and miserliness with the right to money. · Hadith 10798
