مصنف ابن أبي شيبة · 8- كتاب المناسك ‹ 58- فِي الرَّجُل يُوَاقِعُ أَهْلَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ. · حديث 13244
13244- حدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ مُجَاهِدًا عَنِ الْمُحْرِمِ يُوَاقِعُ امْرَأَتَهُ ؟ فَقَالَ : كَانَ ذَلِكَ عَلَى عَهْدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ : يَقْضِيَانِ حَجَّهُمَا ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَجِّهِمَا ، ثُمَّ يَرْجِعَانِ حَلاَلاً كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا لِصَاحِبِهِ ، فَإِذَا كَانَ مِنْ قَابِلٍ حَجَّا وَأَهْدَيَا ، وَتَفَرَّقَا مِنَ الْمَكَانِ الَّذِي أَصَابَهَا.
حضرت یزید بن یزید بن جابر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ سے اس شخص کے متعلق دریافت کیا جو حالت احرام میں بیوی سے شرعی ملاقات کر لے؟ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور میں بھی ایسا ہوا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھاوہ دونوں حج کی قضاء کر یں گے اللہ تعالٰی ہی ان دونوں کے حج کوزیادہ جانتا ہے پھر وہ دونوں احرام کھول کر واپس لوٹ جائیں گے ،ان میں سے ہرایک دوسرے کے لیے حلال ہونے کا سبب ہے ، جب اگلا سال آئےتو وہ دونوں حج کریں اور قربانی کریں اور جس جگہ یہ معاملہ پیش آیا تھا اس جگہ دونوں علیحدہ علیحدہ ہو جائیں ( اورا پناحج مکمل کریں)۔
كَانَ ذَلِكَ عَلَى عَهْدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ← الْمُحْرِمِ يُوَاقِعُ امْرَأَتَهُ ← سَأَلْتُ مُجَاهِدًا ← يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ،
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 8- The Book of Rites › 58- In a man his family signs and is forbidden. · Hadith 13244
