مصنف ابن أبي شيبة · 10- كتاب الطَّلاَقِ ‹ 34 - مَا قَالوُا فِي طَلاَقِ الْمُبَرْسَمِ ، وَالَّذِي يَهْذِي. · حديث 18250
18250- حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيِلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ يُونُس ، قَالَ : حدَثَنِيِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ ، لَمْ أَرَ بِهِ بَأْسًا ، قَالَ : كُنّاَ فِيِ غَزَاةِ ، فَبَرْسَمَ صَاَحِبٌ لَنَاَ ، فَطلَّّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاثَا ، فَلَمَا أفَاَقَ قَالوُا لَهُ : قُلْتَ كَذَا وَكذَا ، قَالَ : مَاَ أَعْلَمَنِيِ ، قُلْتُ : مِنْ هَذَا قَلِيِلاً ، وَلاَ كَثِيِراً ، وَمَا أَعْرِفْهُ ، فَرَكِبَ رَجُلٌ مِنَّا إِلى عُمَرَ بْنُ عَبْدِ العَزِيزِ فِيِ حَاجَةٍ ، َفلَمَا قضَى حَاجتَهُ سَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَدَيَّنَهُ.
حضرت یونس رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک شامی شخص نے مجھ سے بیان کیا کہ ہم ایک غزوہ میں تھے ، کہ ہمارے ایک ساتھی کو الٹی سیدھی باتیں کرنے والی بیماری ہو گئی ، اس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں ۔ جب اسے افاقہ ہوا تو لوگوں نے اس سے کہا کہ تو نے یہ یہ بات کی تھی ، اس نے کہا کہ مجھے تو کوئی علم نہیں کہ میں نے اس طرح کی کوئی تھوڑی یا زیادہ بات کی ہو اور میں نہیں جانتا۔ ہم میں سے ایک سوار کسی ضرورت کے لئے حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے پاس گیا جب اس نے ضرورت پوری کر لی تو اس بار ے میں سوال کیا، انہوں نے فرمایا کہ اس سے کوئی اثر نہیں پڑتا۔
يُونُسَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ،
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 10 - The Book of Divorce › 34 - They said not about the divorce of the deceased, and he who delights. · Hadith 18250
