مصنف ابن أبي شيبة · 9- كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ 152 - ما حق الزَّوْجِ عَلَى امْرَأَتِهِ ؟. · حديث 17407
17407- حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ قَالَ : أَخْبَرَنَا رَبِيعَةُ بن عُثْمَانَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ , عَنْ نَهَارٍ الْعَبْدِيِّ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ رَجُلاً أَتَى بِابْنَةٍ لَهُ إلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم , فَقَالَ : إنَّ ابْنَتِي هَذِهِ أَبَتْ أَنْ تَتَزَوَّجَ قَالَ , فَقَالَ لَهَا : أَطِيعِي أَبَاك قَالَ ، قَالَتْ : لاَ حَتَّى تُخْبِرَنِي مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى زَوْجَتِهِ ؟ فَرَدَّدَتْ عَلَيْهِ مَقَالَتَهَا قَالَ , فَقَالَ : حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى زَوْجَتِهِ أَنْ لَوْ كَانَ بِهِ قُرْحَةٌ فَلَحَسَتْهَا ، أَوِ ابْتَدَرَ مَنْخِرَاهُ صَدِيدًا ، أَوْ دَمًا ثُمَّ لَحَسَتْهُ مَا أَدَّتْ حَقَّهُ قَالَ , فَقَالَتْ : وَالَّذِي بَعَثَك بِالْحَقِّ لاَ أَتَزَوَّجُ أَبَدًا قَالَ , فَقَالَ : لاَ تُنْكِحُوهُنَّ إلاَّ بِإِذْنِهِنَّ.
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک آدمی اپنی بیٹی کو لے کر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور کہا کہ میری یہ بیٹی شادی کرنے سے انکار کر رہی ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بچی سے فرمایا کہ اپنے باپ کی بات مان لو ۔ اس لڑکی نے کہا میں اس وقت تک شادی نہیں کروں گی جب ک آ پ مجھے یہ نہ بتا دیں کہ بیوی پر خاوند کا کیا حق ہے ؟ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ بیوی پر خاوند کا حق یہ ہے کہ اگر خاوند کو پھوڑا نکل آئے اور اس کی بیوی اس پر پھوڑے کو چاٹے یا اس سے پیپ اور خون نکلے اس کی بیوی اس کو چاٹے تو پھر بھی اس کا حق ادا نہیں کیا ۔ اس پر اس لڑکی نے کہا کہ پھر تو اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں کبھی شادی نہیں کروں گی ۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے باپ سے فرمایا کہ عورتوں کا نکاح ان کی اجازت کے بغیر نہ کرو۔
اَبِیْ سَعِیْدٍ ← نهار العبدي وكان من أصحاب أبي سعيد الخدري ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← رَبِيعَةُ بْنُ عُثْمَانَ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 9- The book of marriage › 152 - What is the husband’s right over his wife? · Hadith 17407
