مصنف ابن أبي شيبة · 30-كِتاب الْفَضَائِلِ ‹ 12- ما ذكِر فِي ذِي القرنينِ. · حديث 32577
32577- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ : سُئِلَ عَلِيٌّ عَنْ ذِي الْقَرْنَيْنِ ؟ فَقَالَ : لَمْ يَكُنْ نَبِيًّا ، وَلاَ مَلِكًا , وَلَكِنَّهُ كَانَ عَابِدًا نَاصَحَ اللَّهَ فَنَصَحَهُ ، فَدَعَا قَوْمَهُ إلَى اللهِ فَضُرِبَ عَلَى قَرْنِهِ الأَيْمَنِ فَمَاتَ فَأَحْيَاهُ اللَّهُ ، ثُمَّ دَعَا قَوْمَهُ إلَى اللهِ فَضُرِبَ عَلَى قَرْنِهِ الأَيْسَرِ فَمَاتَ فَأَحْيَاهُ اللَّهُ فَسُمِّيَ ذَا الْقَرْنَيْنِ.
32577 - ابو طفیل ایک دوسری سند سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی سے ذولاقرنین کے بارے میں سوال کیا گی اتو آپ نے فرمایا کہ وہ نبی تھے نہ بادشاہ بلکہوہ ایک نیک بندے تھے جنہوں نے اللہ سے خیر خواہی کی تو اللہ نے ان کے ساتھ خیر خواہی کی چنانچہ آپ نے اپنی قوم کو اللہ کی طرف وعت دی اور آپ کے سر کے دائیں جانب مارا گیا اور وہ مر گئے تو اللہ نے ان کو پھر زندہ کر دیا اور پھر انہوں نے اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلایا اور دوبارہ ان کے سر کی بائیں جانب مارا گیا تو وہ دوبارہ مر گئے چاننچہ اللہ نے ان کو دوبارہ زنادہ کر دیا اس لیے ان کا نام ذولقرنین مشہور ہو گیا۔
ذِي الْقَرْنَيْنِ ← سُئِلَ عَلِيٌّ ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 30- The Book of Virtues › 12- What was mentioned in the two centuries? · Hadith 32577
