32527- حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ فِي بَيْتِ الْمَالِ ، عَنْ يُونُسَ قَالَ : إنَّ يُونُسَ كَانَ قَدْ وَعَدَ قَوْمَهُ الْعَذَابَ وَأَخْبَرَهُمْ إِنَّهُ يَأْتِيهِمْ إلَى ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ , فَفَرَّقُوا بَيْنَ كُلِّ وَالِدَةٍ وَوَلَدِهَا ، ثُمَّ خَرَجُوا فَجَأَرُوا إلَى اللهِ وَاسْتَغْفَرُوا , فَكَفَّ اللَّهُ عَنْهُمَ الْعَذَابَ , وَغَدَا يُونُسُ يَنْتَظِرُ الْعَذَابَ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا , وَكَانَ مَنْ كَذَبَ وَلَمْ تَكُنْ لَهُ بَيِّنَةٌ قُتِلَ , فَانْطَلَقَ مُغَاضِبًا حَتَّى أَتَى قَوْمًا فِي سَفِينَةٍ فَحَمَلُوهُ وَعَرَفُوهُ ، فَلَمَّا دَخَلَ السَّفِينَةَ رَكَدَتْ , وَالسُّفُنُ تَسِيرُ يَمِينًا وَشِمَالاً ، فَقَالُوا : مَا لِسَفِينَتِكُمْ ؟ قَالُوا : مَا نَدْرِي ، قَالَ يُونُسُ : إنَّ فِيهَا عَبْدًا أَبَقَ مِنْ رَبِّهِ , وَإِنَّهَا لاَ تَسِيرُ حَتَّى تُلْقُوهُ , فَقَالُوا : أَمَّا أَنْتَ يَا نَبِيَّ اللهِ فَلا وَاللهِ لاَ نُلْقِيك. فَقَالَ لَهُمْ يُونُسُ : فَاقْتَرِعُوا فَمَنْ قُرِعَ فَلْيَقَعْ ، فَقَرَعَهُمْ يُونُسُ فَأَبَوْا أَنْ يَدَعُوهُ ، فَقَالُوا : مَنْ قَرَعَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَلْيَقَعْ , فَقَرَعَهُمْ يُونُسُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَوَقَعَ ، وَقَدْ كَانَ وُكِّلَ بِهِ الْحُوتُ ، فَلَمَّا وَقَعَ ابْتَلَعَهُ فَأَهْوَى بِهِ إلَى قَرَارِ الأَرْضِ , فَسَمِعَ يُونُسُ عَلَيْهَ السَلام تَسْبِيحَ الْحَصَى {فَنَادَى فِي الظُّلُمَاتِ أَنْ لاَ إلَهَ إلاَّ أَنْتَ سُبْحَانَك إنِّي كُنْت مِنْ ألظَّالِمِينَ} ظُلُمَاتٌ ثَلاَثٌ , ظُلْمَةُ بَطْنِ الْحُوتِ , وَظُلْمَةُ الْبَحْرِ , وَظُلْمَةُ اللَّيْلِ ، قَالَ : {فَنَبَذْنَاهُ بِالْعَرَاءِ وَهُوَ سَقِيمٌ} قَالَ : كَهَيْئَةِ الْفَرْخِ الْمَمْعُوطِ , لَيْسَ عَلَيْهِ رِيشٌ ، وَأَنْبَتَ اللَّهُ عَلَيْهِ شَجَرَةً مِنْ يَقْطِينٍ كَانَ يَسْتَظِلُّ بِهَا وَيُصِيبُ مِنْهَا , فَيَبِسَتْ فَبَكَى عَلَيْهَا حِينَ يَبِسَتْ , فَأَوْحَى اللَّهُ إلَيْهِ : تَبْكِي عَلَى شَجَرَةٍ يَبِسَتْ ، وَلاَ تَبْكِي عَلَى مِئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ أَرَدْت أَنْ تُهْلِكَهُمْ. فَخَرَجَ فَإِذَا هُوَ بِغُلاَمٍ يَرْعَى غَنَمًا ، فَقَالَ : مِمَّنْ أَنْتَ يَا غُلاَمُ ، فَقَالَ : مِنْ قَوْمِ يُونُسَ ، قَالَ : فَإِذَا رَجَعْت إلَيْهِمْ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّك قَدْ لَقِيت يُونُسَ ، قَالَ : فَقَالَ الْغُلاَمُ : إنْ تَكُنْ يُونُسَ فَقَدْ تَعْلَمُ أَنَّه مَنْ كَذَبَ وَلَمْ تَكُنْ لَهُ بَيِّنَةٌ أَنْ يُقْتَلَ , فَمَنْ يَشْهَدُ لِي ، فَقَالَ لَهُ يُونُسُ : تَشْهَدُ لَك هَذِهِ الشَّجَرَةُ , وَهَذِهِ الْبُقْعَةُ ، فَقَالَ الْغُلاَمُ : مُرْهُمَا ، فَقَالَ لَهُمَا يُونُسُ : إنْ جَاءَكُمَا هَذَا الْغُلاَمُ فَاشْهَدَا لَهُ ، قَالَتَا : نَعَمْ , فَرَجَعَ الْغُلاَمُ إلَى قَوْمِهِ وَكَانَ لَهُ إخْوَةٌ وَكَانَ فِي مَنَعَتِهِ , فَأَتَى الْمَلِكَ ، فَقَالَ : إنِّي لَقِيت يُونُسَ وَهُوَ يَقْرَأُ عَلَيْكُمَ السَّلاَمَ , فَأَمَرَ بِهِ الْمَلِكُ أَنْ يُقْتَلَ ، فَقَالُوا لَهُ : إنَّ لَهُ بَيِّنَةً , فَأَرْسَلْ مَعَهُ فَانْتَهَوْا إلَى الشَّجَرَةِ وَالْبُقْعَةِ ، فَقَالَ لَهُمَا الْغُلاَمُ : أَنْشُدُكُمَا بِاللهِ هَلْ أَشْهَدَكُمَا يُونُسُ ؟ قَالَتَا : نَعَمْ , فَرَجَعَ الْقَوْمُ مَذْعُورِينَ يَقُولُونَ : تَشْهَدُ لَهُ الشَّجَرُ وَالأَرْضُ , فَأَتَوْا الْمَلِكَ فَحَدَّثُوهُ بِمَا رَأَوْهُ. فَقَالَ عَبْدُ اللهِ : فَتَنَاوَلَهُ الْمَلِكُ فَأَخَذَ بِيَدِ الْغُلاَمِ فَأَجْلَسَهُ فِي مَجْلِسِهِ ، وَقَالَ : أَنْتَ أَحَقُّ بِهَذَا الْمَكَانِ مِنِّي. قَالَ عَبْدُ اللهِ , فَأَقَامَ لَهُمْ ذَلِكَ الْغُلاَمُ أَمْرَهُمْ أَرْبَعِينَ سَنَةً.
32527 – عمرو بن میمون فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے ہمین بیت المال میں بیان فرمایا کہ حضرت یونس نے اپنی قوم سے عذا کے آنے کا وعدہ کیا اور ان کو بتایا کہ ان پر تین دن کے اندر عذاب آئے گا چنانچہ انہوں نے ہر ماں کو اس کے بچے سے جدا کیا پرھ نکلے اور اللہ سے گریہ زاری اور استغفار کرنے لگے چنانچہ اللہ نے ان سے عذاب کو روک لیا اور حضرت ینس اگلے دن عذاب کا انتظار کرنے لگے لیکن ان کو کچھ نظر نہ ایا اور اس زانے میں جو شخص جھوت پولتا اس کو قتل کر دیاجاتا چنابنچہ وہ غصے میں نکلے یہان تک کہ ایک کشتی میں آئے اور انہوں نے ان کو پہچان کر سوا کر لیا جب آپ کشتی پر سوا ر ہوئے تو کشتی رک گئی کشتیاں دائیں اور بائیں چلا کرتی تھیں وہ کہنے لگے کہ کشتی کو کیا ہو گیا دوسرے جواب میں کہنے لگے کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں حضڑت یونس نے فرمایا کہ اس میں ایک بندہ ہے جو اپنے مالک سے بھاگ کر آیا ہے اور کشتی اس وقت تک نہیں چلے گی جب تک تم اس کو پانی میں نہین ڈال دو گے انہوں نے کہا اے اللہ کے نبی بخدا آپکو تر ہم نہین ڈال سکتے ۔ چنانچہ یونس نے فرمایا کہ قرعہ ڈال لو جس کے نام قرعہ آئے اس کو گرا دیا جائے چنانچہ یونس کے نام قرعہ نکلا لیکن انہوں نے اپ کو گرانے سے نکار کر دیا پھر وہ کہنے لگے کہ جس کے نام تین مرتبہ قرعہ نکل آئے اس کو گرا دو چنانچہ تین مرتبہ قرعہ نکلا آپ پر ایک مچھلی مقرر کی گئی تھی جب آپ گرے تو اس نے آپ کو نگل لیا اور ن کو لے کر زمین کی تہہ تک چلی گئی چنانچہ یونس نے کنکریوں کی تسبئح سنی انہوں نے تین تاریکیوں میں تسبیح کی مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا سمندر کی تاریکی اور ات کے اندھیرا اللہ فرماتے ہیں کہپھر ہم نے ان کو میدا میں ڈال دیا جبکہ وہ بیمار تھے اور اس پرندے کی طرح ہو گئے جس کے پر نہیں ہوتے اور اللہ نے ان پر ایک کدو کا پورا گایا جس سے آپ سائہ لیتے اور پودے کے خشک ہونے پر تو روتے ہین اور ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں پر نہیں روتے جن کو ہلاک کرنے کا آپ نے ارادہ کیا تھا۔
يُونُسَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، فِي بَيْتِ الْمَالِ ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدِ اللَّهِ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 30- The Book of Virtues › 6- What was mentioned about him according to Yunus, the son of Matthew, may God bless him. · Hadith 32527