32413- حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : خَرَجْت مَعَ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ , وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يَأْتِي الْبَرَازَ حَتَّى يَتَغَيَّبَ فَلاَ يُرَى , فَنَزَلْنَا بِفَلاَةٍ مِنَ الأَرْضِ لَيْسَ فِيهَا شَجَرَةٌ وَلاَ عَلَمٌ ، فَقَالَ : يَا جَابِرُ اجْعَلْ فِي إِدَاوَتِكَ مَاء ، ثُمَّ انْطَلَقَ بِنَا ، قَالَ : فَانْطَلَقْنَا حَتَّى لاَ نُرَى فَإِذَا هُوَ بِشَجَرَتَيْنِ بينهما أَرْبَعَة أَذْرعْ , فَقَالَ : يَا جَابِر انْطَلِقْ إلَى هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَقُلْ لَهَا : يَقُولُ لَك رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : الْحَقِي بِصَاحِبَتِكَ حَتَّى أَجْلِسَ خَلْفَكُمَا , فَرَجَعَتْ إلَيْهَا فَجَلَسَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم خَلْفَهُمَا ، ثُمَّ رَجَعَتَا إلَى مَكَانِهِمَا. فَرَكِبْنَا وَرَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : بَيْنَنَا كَأَنَّمَا عَلَى رُؤُوسِنَا الطَّيْرُ تُظِلُّنَا , فَعَرَضَتْ لَنَا امْرَأَةٌ مَعَهَا صَبِيٌّ لَهَا ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إنَّ ابْنِي هَذَا يَأْخُذُهُ الشَّيْطَانُ كُلَّ يَوْمٍ مِرَارًا , فَوَقَفَ بِهَا ، ثُمَّ تَنَاوَلَ الصَّبِيَّ فَجَعَلَهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ مُقَدَّمِ الرَّحْلِ ، ثُمَّ قَالَ : اخْسَأْ عَدُوَّ اللهِ , أَنَا رَسُولُ اللهِ ثَلاَثًا ، ثُمَّ دَفَعَهُ إلَيْهَا ، فَلَمَّا قَضَيْنَا سَفَرَنَا مَرَرْنَا بِذَلِكَ الْمَوْضِعِ فَعَرَضَتْ لَنَا الْمَرْأَةُ مَعَهَا صَبِيُّهَا وَمَعَهَا كَبْشَانِ تَسُوقُهُمَا ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ , اقْبَلْ مِنِّي هَذَيْن , فَوَالَّذِي بَعَثَك بِالْحَقِ مَا عَادَ إلَيْهِ بَعْدُ ، فَقَالَ : خُذُوا مِنْهَا أَحَدَهُمَا , وَرُدُّوا عَلَيْهَا الآخَرَ. قَالَ : ثُمَّ سِرْنَا وَرَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَنَا كَأَنَّمَا عَلَى رُؤُوسِنَا الطَّيْرُ تُظِلُّنَا , فَإِذَا جَمَلٌ نَادٌّ حَتَّى إذَا كَانَ بَيْنَ السِّمَاطَيْنِ خَرَّ سَاجِدًا , فَجَلَسَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم ، ثُمَّ قَالَ : عَلَيَّ النَّاسَ , مَنْ صَاحِبُ هَذَا الْجَمَلِ ؟ فَإِذَا فِتْيَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ ، قَالُوا : هُوَ لَنَا يَا رَسُولَ اللهِ ، قَالَ : فَمَا شَأْنُهُ ؟ قَالُوا : سَنَيْنَا عَلَيْهِ مُنْذُ عِشْرِينَ سَنَةً , وَكَانَتْ بِهِ شُحَيْمَةٌ , فَأَرَدْنَا أَنْ نَنْحَرَهُ , فَنَقْسِمُهُ بَيْنَ غِلْمَانِنَا , فَانْفَلَتَ مِنَّا ، قَالَ : تَبِيعُونَهُ ، قَالُوا : لاَ , بَلْ هُوَ لَك يَا رَسُولَ اللهِ ، قَالَ : إمَّا لاَ فَأَحْسِنُوا إلَيْهِ حَتَّى يَأْتِيَهُ أَجَلُهُ.
32413 - حضرت جابر فرماتے ہیں کہ میں ایک سفر میں رسول اللہﷺ کے ساتھ نکلا اور رسول اللہﷺ قضائے حاجت کے لئے نہ جاتے یہاں تک کہ اتنی دور چلے جائیں کہ نظر نہ آئیں چنانچہ ہم ایک چیٹیل میدان میں اترے جس میں کوئی درخت یا ٹیلہ نہیں تھ اآپ نے فرمایا اے جابر ! اپنے برتن میں پانی ڈالو پھر ہمارے ساتھ چلو کہتے ہیں کہ ہم نظر نہیں آرہے تھے وہاں آپ کو دو درخت نظر آئے جن کے درمیان چار ہاتھ کا فاصلہ تھا آپ نے فرمایا اے جابر ! اس درخت کے پاس جاؤ اور اس کے کہو کہ رسول اللہﷺ تم سے فرما رہے ہیں کہ اپنے ساتھ والے درخت کے ساتھ مل جاؤ تاکہ میں تمہارے پیچھے بیٹھ سکوں چنانچہ وہ درخت دوسرت ست مل گیا اور رسول اللہﷺ ان کے پیچھے بیٹھے گئے پھر وہ اپنی جگہ واپس چلے گئے ۔ پھر ہم سوار ہوئے اور رسول اللہﷺ ہمارے درمیان تھے گویا کہ ہمارے سروں پر پرندے سایہ فکن ہیں چنانچہ ہمارا ایک عورت سے سامنا ہوا جس کے ساتھ اس کا بچہ تھا اس نے کہا یا رسول اللہﷺ میرے اس بیٹے کو ہر رو ز کئی مرتبہ شیطان پکڑ لیتا ہے آپ اس کے لئے ٹھہرے اور بچے کو لیا اور اس کو اپنے کجاو ے کے اگلے حسے کے درمیان رکھا پھر فرمایا اے اللہ کے دشمن ! دفع ہو جا میں اللہ کا رسول ہوں تین مرتبہ اس طرح فرمایا پھر بچہ عورت کو دے دیا جب ہم اس سفر سے واپس ہوئے تو ہم اس جگہ سے گزرے عورت ہمارے سامنے ائی اور ا سکے پاس دو مینڈھے تھے جن کو وہ پانک رہی تھی اس نے عرض کی یا رسول اللہ مجھ سے یہ قبول کر لیجیے اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے وہ اس کے پا س دوبارہ نہیں آیا آپ نے فرمایا اس سے ایک لے لو اور دوسرا پس کر دو۔
جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 30- The Book of Virtues › 1- Allah did not give Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him. · Hadith 32413