39069- حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ سِيَاهٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : أَتَيْتُهُ (1)، فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَؤُلاَءِ الْقَوْمِ الَّذِينَ قَتَلَهُمْ عَلِيٌّ ، قَالَ : قُلْتُ : فِيمَ فَارَقُوهُ ، وَفِيمَ اسْتَحَلُّوهُ ، وَفِيمَ دَعَاهُمْ , وَفِيمَ فَارَقُوهُ ، ثُمَّ اسْتَحَلَّ دِمَاءَهُمْ ؟ قَالَ : إِنَّهُ لَمَّا اسْتَحَرَّ الْقَتْلُ فِي أَهْلِ الشَّامِ بِصِفِّينَ ، اعْتَصَمَ مُعَاوِيَةُ وَأَصْحَابُهُ بِجَبَلٍ ، فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ : أَرْسِلْ إِلَى عَلِيٍّ بِالْمُصْحَفِ , فَلاَ وَاللهِ لاَ يَرُدُّهُ عَلَيْكَ ، قَالَ : فَجَاءَ بِهِ رَجُلٌ يَحْمِلُهُ يُنَادِي : بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ كِتَابُ اللهِ {أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَابِ يُدْعَوْنَ إِلَى كِتَابِ اللهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ يَتَوَلَّى فَرِيقٌ مِنْهُمْ وَهُمْ مُعْرِضُونَ} ، قَالَ : فَقَالَ عَلِيٌّ : نَعَمْ ، بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ كِتَابُ اللهِ , أَنَا أَوْلَى بِهِ مِنْكُمْ. 2- قَالَ : فَجَاءَتِ الْخَوَارِجُ ، وَكُنَّا نُسَمِّيهِمْ يَوْمَئِذٍ الْقُرَّاءَ . قَالَ : فَجَاؤُوا بِأَسْيَافِهِمْ عَلَى عَوَاتِقِهِمْ ، فَقَالُوا : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ , أَلاَ نَمْشِي إِلَى هَؤُلاَءِ الْقَوْمِ حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ , فَقَامَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ ، فَقَالَ َيُّهَا النَّاسُ , اتَّهِمُوا أَنْفُسَكُمْ , لَقَدْ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم ، يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ ، وَلَوْ نَرَى قِتَالاً لَقَاتَلْنَا , وَذَلِكَ فِي الصُّلْحِ الَّذِي كَانَ بَيْنَ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ فَجَاءَ عُمَرُ فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ , أَلَسْنَا عَلَى حَقٍّ ، وَهُمْ عَلَى بَاطِلٍ ؟ قَالَ : بَلَى ، قَالَ : أَلَيْسَ قَتْلاَنَا فِي الْجَنَّةِ ، وَقَتْلاَهُمْ فِي النَّارِ ؟ قَالَ : بَلَى ، قَالَ : فَفِيمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا ، وَنَرْجِعُ ، وَلَمَّا يَحْكُمِ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ ؟ فَقَالَ : يَا ابْنَ الْخَطَّابِ , إِنِّي رَسُولُ اللهِ ، وَلَنْ يُضَيِّعَنِي اللَّهُ أَبَدًا. 3- قَالَ : فَانْطَلَقَ عُمَرُ ، وَلَمْ يَصْبِرْ مُتَغَيِّظًا ، حَتَّى أَتَى أَبَا بَكْرٍ ، فَقَالَ : يَا أَبَا بَكْرٍ , أَلَسْنَا عَلَى حَقٍّ ، وَهُمْ عَلَى بَاطِلٍ ؟ فَقَالَ : بَلَى ، قَالَ : أَلَيْسَ قَتْلاَنَا فِي الْجَنَّةِ ، وَقَتْلاَهُمْ فِي النَّارِ ؟ قَالَ : بَلَى ، قَالَ : فَعَلاَمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا وَنَرْجِعُ ، وَلَمَّا يَحْكُمِ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ ؟ فَقَالَ : يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، إِنَّهُ رَسُولُ اللهِ ، وَلَنْ يُضَيِّعَهُ اللَّهُ أَبَدًا. 4- قَالَ : فَنَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم بِالْفَتْحِ , فَأَرْسَلَ إِلَى عُمَرَ ، فَأَقْرَأَهُ إِيَّاهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ , أَوَ فَتْحٌ هُوَ ؟ قَالَ : نَعَمْ , فَطَابَتْ نَفْسُهُ وَرَجَعَ. 5- فَقَالَ عَلِيٌّ : أَيُّهَا النَّاسُ , إِنَّ هَذَا فَتْحٌ , فَقَبِلَ عَلِيٌّ الْقَضِيَّةَ وَرَجَعَ , وَرَجَعَ النَّاسُ. 6- ثُمَّ إِنَّهُمْ خَرَجُوا بِحَرُورَاءَ ، أُولَئِكَ الْعِصَابَةُ مِنَ الْخَوَارِجِ ، بِضْعَةَ عَشَرَ أَلْفًا , فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ يُنَاشِدُهُمُ اللَّهَ , فَأَبَوْا عَلَيْهِ ، فَأَتَاهُمْ صَعْصَعَةُ بْنُ صُوحَانَ ، فَنَاشَدَهُمُ اللَّهَ ، وَقَالَ : عَلاَمَ تُقَاتِلُونَ خَلِيفَتَكُمْ ؟ قَالُوا : نَخَافُ الْفِتْنَةَ ، قَالَ : فَلاَ تَعَجِّلُوا ضَلاَلَةَ الْعَامِ ، مَخَافَةَ فِتْنَةِ عَامٍ قَابِلٍ ، فَرَجَعُوا ، فَقَالُوا : نَسِيرُ عَلَى نَاحِيَتِنَا , فَإِنْ عَلِيًّا قَبِلَ الْقَضِيَّةَ , قَاتَلْنَا عَلَى مَا قَاتَلْنَاهُمْ يَوْمَ صِفِّينَ , وَإِنْ نَقَضَهَا قَاتَلْنَا مَعَهُ. 7- فَسَارُوا حَتَّى بَلَغُوا النَّهْرَوَانَ , فَافْتَرَقَتْ مِنْهُمْ فِرْقَةٌ ، فَجَعَلُوا يَهُدُّونَ النَّاسَ قَتْلاً ، فَقَالَ أَصْحَابُهُمْ : وَيْلَكُمْ ، مَا عَلَى هَذَا فَارَقْنَا عَلِيًّا. فَبَلَغَ عَلِيًّا أَمْرُهُمْ ، فَقَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ ، فَقَالَ : مَا تَرَوْنَ , أَتَسِيرُونَ إِلَى أَهْلِ الشَّامِ ، أَمْ تَرْجِعُونَ إِلَى هَؤُلاَءِ الَّذِينَ خَلَّفُوا إِلَى ذَرَارِيكُمْ ؟ فَقَالُوا : لاَ , بَلْ نَرْجِعُ إِلَيْهِمْ , فَذَكَرَ أَمْرَهُمْ ، فَحَدَّثَ عَنْهُمْ مَا قَالَ فِيهِمْ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : إِنَّ فِرْقَةً تَخْرُجُ عِنْدَ اخْتِلاَفٍ مِنَ النَّاسِ ، تَقْتُلُهُمْ أَقْرَبُ الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقِّ , عَلاَمَتُهُمْ رَجُلٌ فِيهِمْ ، يَدُهُ كَثَدْيِ الْمَرْأَةِ. 8- فَسَارُوا حَتَّى الْتَقَوْا بِالنَّهْرَوَانِ ، فَاقْتَتَلُوا قِتَالاً شَدِيدًا , فَجَعَلَتْ خَيْلُ عَلِيٍّ لاَ تَقُومُ لَهُمْ ، فَقَامَ عَلِيٌّ ، فَقَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنْ كُنْتُمْ إِنَّمَا تُقَاتِلُونَ لِي ، فَوَاللهِ مَا عِنْدِي مَا أَجْزِيكُمْ بِهِ , وَإِنْ كُنْتُمْ إِنَّمَا تُقَاتِلُونَ للهِ ، فَلاَ يَكُنْ هَذَا قِتَالَكُمْ , فَحَمَلَ النَّاسُ حَمْلَةً وَاحِدَةً شَدِيدَةً ، فَانْجَلَتِ الْخَيْلُ عَنْهُمْ وَهُمْ مُكِبُّونَ عَلَى وُجُوهِهِمْ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : اطْلُبُوا الرَّجُلَ فِيهِمْ ، قَالَ : فَطَلَبَ النَّاسُ ، فَلَمْ يَجِدُوهُ ، حَتَّى قَالَ بَعْضُهُمْ : غَرَّنَا ابْنُ أَبِي طَالِبٍ مِنْ إِخْوَانِنَا حَتَّى قَتَلْنَاهُمْ , فَدَمَعَتْ عَيْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : فَدَعَا بِدَابَّتِهِ فَرَكِبَهَا ، فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَى وَهْدَةً فِيهَا قَتْلَى ، بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ ، فَجَعَلَ يَجُرُّ بِأَرْجُلِهِمْ ، حَتَّى وَجَدَ الرَّجُلَ تَحْتَهُمْ , فَاجْتَرُّوهُ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : اللَّهُ أَكْبَرُ , وَفَرِحَ النَّاسُ وَرَجَعُوا ، وَقَالَ عَلِيٌّ : لاَ أَغْزُو الْعَامَ , وَرَجَعَ إِلَى الْكُوفَةِ وَقُتِلَ , وَاسْتُخْلِفَ حَسَنٌ ، فَسَارَ بِسِيرَةِ أَبِيهِ ، ثُمَّ بَعَثَ بِالْبَيْعَةِ إِلَى مُعَاوِيَةَ
حضرت حبیب بن ابی ثابت فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابو وائل کے پاس آیا اور میں نے ان سے اس قوم کے بارے میں سوال کیا جن سے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قتال کیا تھا۔ میں نے کہا کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کیوں چھوڑا؟ ان کے خون کو حلال کیوں سمجھا ؟ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں کس چیز کی دعوت دی تھی؟ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کے خون کو کس بنا پر حلال قرار دیا؟ انہوں نے فرمایا کہ جب صفین کے مقام پر اہل شام میں قتل زور پکڑ گیا تو حضرت معاویہ اوران کے ساتھیوں نے ایک پہاڑکو ٹھکانہ بنایا۔ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف مصحف بھیجو، خدا کی قسم ! وہ اس کا انکار نہیں کریں گے۔ پس ایک آدمی مصحف لایا اور وہ یہ اعلان کر رہا تھا کہ ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب ہے (أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَابِ يُدْعَوْنَ إِلَى كِتَابِ اللهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ يَتَوَلَّى فَرِيقٌ مِنْهُمْ وَهُمْ مُعْرِضُونَ) اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہاں ، ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب ہے اور میں اس پر عمل کرنے کا تم سے زیادہ پابند ہوں ۔ (۲) پھر خوارج آئے اور ان دنوں ہم انہیں’’ قراء‘‘ کہا کرتے تھے۔ وہ اپنی تلواروں کو کندھے پر لٹکا کر لائے اور کہنے لگے اے امیرالمؤمنین ! کیا ہم ان لوگوں کی طرف پیش قدمی نہ کریں کہ اللہ ان کے اور ہمارے درمیان فیصلہ فرما دے۔ اس پر حضرت سہل بن حنیف نے فرمایا کہاے لوگو! اپنے نفوس کی مذمت کرو، ہم حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ اگر ہم قتال کومستحسن سمجھتے تو قتال کرتے ۔ یہ وہ صلح کا معاہدہ تھا جو مشرکین اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ہوا تھا۔ اس موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ کیا ہم حق پر اور ہمارا دشمن باطل پر نہیں ہے؟ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں ۔ ایسا ہی ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ کیا ہمار مقتول جنت میں اور ان کے مقتول جہنم میں نہیں جائیں گے ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا ہی ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ پھر ہم اپنے دین میں ذلت کو کیوں قبول کریں ، اور واپس لوٹ جائیں جبکہ اللہ نے ان کے اور ہمارے درمیان فیصلہ نہیں فرمایا ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابن خطاب ! میں اللہ کا رسول ہوں ،اللہ مجھے ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔ (۳) پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ غصے کی حالت میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ اے ابوبکر! کیا ہم حق پر اور ہمارا دشمن باطل پر نہیں ہے؟ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرما یاکیوں نہیں۔ ایسا ہی ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے مقتول جہنم میں نہیں جائیں گے؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایسا ہی ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ پھر ہم اپنے دین میں ذلت کو کیوں قبول کر یں ، اور واپس لوٹ جائیں جبکہ اللہ نے ان کے اور ہمارے درمیان فیصلہ نہیں فرمایا ہے ۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فر مایا کہ اے ابن خطاب ! وہ اللہ کے رسول ہوں ،اللہ انہیں ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔ (۴) پھر اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ الفتح کو نازل کیا، آپ نے کسی کو بھیج کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بلایا اوران کے سامنے اس سورت کی تلاوت فرمائی ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! کیا یہ فتح ہے؟ آپ نے فرمایا جی ہاں ۔ پھر وہ خوش ہو گئے اور واپس چلے گئے ۔ (۵) اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اے لوگو! یہ فتح ہے ۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس فیصلے کو قبول فرمالیا اور واپس چلے گئے اور لوگ بھی واپس چلے گئے۔ (۶) حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اس فیصلے کو قبول کرنے کے بعد خوارج کے دس ہزار سے زیادہ لوگ حر وراء چلے گئے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں اللہ کا واسطہ دے کر واپس آنے کو کہا لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ پھران کے پاس صعصعہ بن صوحان آئے اور اللہ کا واسطہ دیا اور ان سے پوچھا کہ تم کس بنیاد پر اپنے خلیفہ سے قتال کروگے ؟ انہوں نے کہا کہ ہمیں فتنہ کا خوف ہے۔ اس نے کہا کہ آنے والے سال کے فتنے سے عوام کو ابھی سے گمراہ مت کرو۔ وہ واپس چلے گئے اور انہوں نے کہا کہ ہم اپنے علاقے میں جارہے ہیں کیونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فیصلے کو قبول کر لیا ہے ۔ ہم نے اسی وجہ سے قتال کیا جس وجہ سے صفین کی جنگ میں قتال کیا تھا اور اگر وہ فیصلے کو قبول کرنے سے انکار کر دیں تو ہم ان کے ساتھ قتال کر یں گے ۔ (۷) پھر وہ لوگ چلے اور جب وہ نہروان پہنچے تو ایک جماعت ان سے الگ ہوگئی اور لوگوں کو قتل کی دھمکی دینے لگی ۔ان کے ساتھیوں نے کہا کہ تمہارا ناس ہو کیا ہم نے اس بات پر حضرت علی سے علیحدگی اختیار کی تھی ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ان کی یہ خبر پہنچی تو آپ نے لوگوں میں کھڑے ہوکر خطبہ ارشاد فرمایا اور اس میں فرمایا کہ تم کیا دیکھتے ہو؟ کیا تم شام کی طرف جار ہے ہو یا تم ان لوگوں کی طرف لوٹ رہے ہو؟ انہوں نے کہا نہیں بلکہ ہم ان لوگوں کی طرف لوٹ رہے ہیں ۔ پھر انہوں نے ان کے معاملے کا تذکرہ کیا اوران کے بارے میں وہ بات بیان کی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمائی تھی کہ لوگوں کے اختلاف کے وقت ایک فرقہ کا خروج ہوگا ، انہیں حق کے سب سے قریب تر فرقہ قتل کرے گا۔ اس خروج کرنے والے فرقے میں ایک آدمی کا ہاتھ عورت کے پستان کی طرح ہوگا ۔ (۸) پھر یہ لوگ چلے اور نہروان جا کر ایک دوسرے سے مل گئے۔ وہاں شد ید قتال ہوا ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بھیجے ہوئے گھڑ سواراس جنگ کے لئے پوری طرح تیارنہیں ہورہے تھے ، آپ کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ اے لوگو! اگر تم میری خاطر لڑ رہے ہو تو خدا کی قسم میرے پاس تمہیں دینے کے لئے کچھ نہیں اور اگر تم اللہ کے لئے لڑ رہے ہوتو یہ قتال تمہارا نہیں یہ لڑائی اللہ کی ہے۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے بھر پور حملے کئے اورخارجیوں کے گھوڑ ے ان کے ہاتھوں سے نکل گئے اور وہ زمین پر منہ کے بل گر پڑے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس آدمی ( جس کا ہاتھ عورت کے پستان کی طرح ہے ) کو تلاش کرو ۔ لوگوں نے تلاش کیا لیکن وہ آدمی نہ ملا۔ اس پر کچھ لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ علی نے ہمیں ہمارے بھائیوں سے لڑوادیا اور ہم نے اپنے بھائیوں کو مار ڈالا ( کیونکہ ان میں پیشین گوئی کے مطابق وہ آدمی نہیں ہے )یہ بات سن کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔ آپ اپنی سواری پر سوار ہوئے اور اس جگہ آئے جہاں مقتولین پڑے تھے۔ آپ انہیں ان کے پاؤں سے کھینچنے لگے تو ان میں وہ آدمی مل گیا جس کی پیشین گوئی کی گئی تھی ۔ یہ دیکھ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اللہ اکبر کہا ،لوگ بھی خوش ہوئے اور واپس آ گئے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں اس سال جنگ نہیں کروں گا۔ پھر آپ کوفہ کی طرف واپس چلے گئے اور وہاں شہید کر دیئے گئے ۔ پھر حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا گیا اور آپ اپنے والد ماجد کے نقشِ قدم پر چلتے رہے، پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی گئی۔
أتيته فسألته ← أَبِي وَائِلٍ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ سِيَاهٍ ← ابْنِ نُمَيْرٍ،
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 41- Sentence book › 3- What was mentioned in Al-Kharij · Hadith 39069