مصنف ابن أبي شيبة · 40- كِتَابُ الْفِتَنِ ‹ 3- ما ذكِر فِي عثمان وغيره من الفتن. · حديث 38864
38864- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَن عَلْقَمَةَ ، قَالَ : قُلْتُ لِلأَشْتَرِ : لَقَدْ كُنْت كَارِهًا لِيَوْمِ الدَّارِ فَكَيْفَ رَجَعْت عَنْ رَأْيِكَ ، فَقَالَ : أَجَلْ ، وَاللهِ إِنْ كُنْت لَكَارِهًا لِيَوْمِ الدَّارِ وَلَكِنْ جِئْت بِأُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ لأُدْخِلَهَا الدَّارَ ، وَأَرَدْت أَنْ أُخْرِجَ عُثْمَانَ فِي هَوْدَجٍ ، فَأَبَوْا أَنْ يَدَعُونِي وَقَالوا : مَا لَنَا وَلَك يَا أَشْتَرُ ، وَلَكِنِّي رَأَيْت طَلْحَةَ وَالزُّبَيْرَ وَالْقَوْمَ بَايَعُوا عَلِيًّا طَائِعِينَ غَيْرَ مُكْرَهِينَ ، ثُمَّ نَكَثُوا عَلَيْهِ ، قُلْتُ : فَابْنُ الزُّبَيْرِ الْقَائِلُ : اقْتُلُونِي وَمَالِكًا ، قَالَ : لاَ وَاللهِ ، وَلاَ رَفَعْت السَّيْفَ ، عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ وَأَنَا أَرَى أَنَّ فِيهِ شَيْئًا مِنَ الرُّوحِ لأَنِّي كُنْت عَلَيْهِ بِحَنَقٍ لأَنَّهُ اسْتَخَفَّ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ حَتَّى أَخْرَجَهَا ، فَلَمَّا لَقِيته مَا رَضِيت لَهُ بِقُوَّةِ سَاعِدِي حَتَّى قُمْت فِي الرِّكَابَيْنِ قَائِمًا فَضَرَبْته عَلَى رَأْسِهِ ، فَرَأَيْتُ أَنِّي قَدْ قَتَلْته ، وَلَكِنَّ الْقَائِلَ اقْتُلُونِي وَمَالِكًا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَتَّابِ بْنِ أُسَيْدٍ ، لَمَّا لَقِيته اعْتَنَقْته فَوَقَعْت أَنَا وَهُوَ عَنْ فَرَسَيْنَا ، فَجَعَلَ يُنَادِي : اقْتُلُونِي وَمَالِكًا ، وَالنَّاسُ يَمُرُّونَ لاَ يَدْرُونَ مَنْ يَعْنِي ، وَلَمْ يَقُلْ : الأَشْتَرُ ، لَقُتِلْت.
علقمہ رحمتہ اللہ علیہ سے منقول ہے کہتے ہیں میں نے مشتہر سے کہا آپ تو یوم دار ( حضرت کے گھر کے محاصرے کا دن ) کو نا پسند کرتے تھے پھر آپ نے کیسے اپنی رائے سے رجوع کیا؟ تو اس نے کہا اللہ کی قسم میں یوم دار کو نا پسند کرتا تھا اور میں ام حبیبہ رضی اللہ عنہ بنت ابوسفیان کو لایا تاکہ میں ان کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر لے جاؤں اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ھودج میں نکال لوں ۔ مگر انہوں نے مجھے اندر جانے سے روک دیا اور کہا کہ ہمارا اشتر سے کیا واسطہ ۔لیکن میں نے طلحہ رضی اللہ عنہ زبیر رضی اللہ عنہ اور کچھ لوگوں کو دیکھا کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بغیر کسی اکراہ کے بیعت کی اور پھر اس بیعت کو توڑ ڈالا۔ علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ ابن زبیر یہ کہنے والے تھے کہ ’’ مجھے اور مالک کوقتل کر دو‘‘ تو اس نے جواب دیا نہیں اللہ کی قسم میں نے ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے تلوارنہیں ہٹائی تھی اس حال میں کہ اندر روح کو دیکھ رہاتھا (یعنی زندگی کی رمق دیکھتا رہا ) کیونکہ مجھے ان پر غصہ تھا اس بات پر کہ انہوں نے ام المومنین کو وقعت نہ دی تھی یہاں تک کہ میں ام المومنین کو واپس لے گیا۔ پس جب میرا ان سے لڑائی میں سامنا ہوا تو میں نے اپنے بازؤں کی قوت پر اکتفا نہیں کیا بلکہ میں نے دونوں رکابوں میں کھڑے ہوکر قوت کے ساتھ ان کے سر میں تلوار ماری پس میں نے اس کوقتل ہوتے ہوئے دیکھ لیا۔ لیکن ( مجھے اور مالک کو قتل کر دو) کہنے والے ،عبدالرحمن ٰبن عتاب سے جب ملاقات ہوئی تو میں نے اس پر تلوارزنی کی حتی کہ میں اور وہ اپنے گھوڑوں سے گر گئے پس اس نے پکارنا شروع کیا کہ مجھے اور مالک کو قتل کر دو اورلوگ گزر رہے تھے مگر وہ نہیں جانتے تھے کہ مالک سے اس کی مراد کیا ہے کیونکہ اس نے اشتر نہیں کہا تھا اگر وہ اشتر کہتا تو قتل کر دیا جاتا۔
عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مُغِيرَةَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ
Hadith 38864
