مصنف ابن أبي شيبة · 40- كِتَابُ الْفِتَنِ ‹ 3- ما ذكِر فِي عثمان وغيره من الفتن. · حديث 38840
38840- حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ذَكْوَانَ أَبَا صَالِحٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ صُهَيْبٍ مَوْلَى الْعَبَّاسِ ، قَالَ : أَرْسَلَنِي الْعَبَّاسُ إِلَى عُثْمَانَ أَدْعُوهُ ، قَالَ : فَأَتَيْته فَإِذَا هُوَ يُغَدِّي النَّاسَ ، فَدَعَوْته فَأَتَاهُ ، فَقَالَ : أَفْلَحُ الْوَجْهُ أَبَا الْفَضْلِ ، قَالَ : وَوَجْهُك أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَ : مَا زِدْت أَنْ أَتَانِي رَسُولُك وَأَنَا أَغُدِّيَ النَّاسَ فَغَدَّيْتهمْ ، ثُمَّ أَقْبَلْت ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ : أُذَكِّرُك اللَّهَ فِي عَلِيٍّ ، فَإِنَّهُ ابْنُ عَمِّكَ وَأَخُوك فِي دِينِكَ وَصَاحِبُك مَعَ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم وَصِهْرُك ، وَإِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي أَنَّك تُرِيدُ أَنْ تَقُومَ بِعَلِيٍّ وَأَصْحَابِهِ فَاعْفِنِي مِنْ ذَلِكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، فَقَالَ عُثْمَان : أَنَا أول مَا أجبتك أَنْ قَدْ شَفَّعْتُك ، أَنَّ عَلِيًّا لَوْ شَاءَ مَا كَانَ أَحَدٌ دُونَهُ ، وَلَكِنَّهُ أَبَى إِلاَّ رَأْيَهُ ، وَبَعَثَ إِلَى عَلِيٍّ ، فَقَالَ لَهُ أُذَكِّرُك اللَّهَ فِي ابْنِ عَمِّكَ ، وَابْنِ عَمَّتِكَ وَأَخِيك فِي دِينِكَ وَصَاحِبِكَ مَعَ رَسُولِ اللهِ وَوَلِيِّ بَيْعَتِكَ ، فَقَالَ : وَاللهِ لَوْ أَمَرَنِي أَنْ أَخْرُجَ مِنْ دَارِي لَخَرَجْت ، فَأَمَّا أَنْ أُدَاهِنَ أَنْ لاَ يُقَامَ كِتَابُ اللهِ فَلَمْ أَكُنْ لأَفْعَلَ ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ : سَمعْته مَا لاَ أُحْصِي وَعَرَضْته عَلَيْهِ غَيْرَ مَرَّةٍ.
صہیب جو کہ عباس رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام میں سے منقول ہے عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا کہ میں ان کو بلا کر لاؤں ۔ کہتے ہیں میں ان کے پاس آیا تو وہ لوگوں کو رضی اللہ عنہ کروا رہے تھے میں نے ان کو بلایا پس وہ آ گئے اور فرمایا اے ابوالفضل آپکا چہرہ کامیاب رہے۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے بھی فرمایا اے امیر المؤمنین آپ کا چہرہ بھی فلاح کو پائے پھر عرض کیا کہ آپ کا پیغام سنتے ہی چلا آیا صرف کھانا کھلایا ہے لوگوں کو ۔ عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تم کو نصیحت کرتا ہوں علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں بے شک وہ آپ کے چچا کے بیٹے ہیں اور آپ کے ماموں کے بیٹے ہیں اور آپ کے دینی بھائی ہیں اور وہ آپ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں اور آپ کے ہم زلف ہیں ۔ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے مد مقابل کھڑا ہونا چاہتے ہیں ۔اے امیرالمؤمنین! اس کی معافی آپ مجھے دیدیں ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا آپ کی اس بات کو قبول کیا اور آپ کی سفارش کو قبول کیا بے شک اگر علی رضی اللہ عنہ چاہے تو ان کے علاوہ کوئی نہ ہومگر انہوں نے انکار کر دیا سوائے رائے دینے کے پھر عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا کہ میں تم کو تمہارے چچا کے بیٹے کے بارے میں نصیحت کرتا ہوں جو تمہارا پھوپھی کا بیٹا ہے اور دینی بھائی ہے اور آپ کے ساتھ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور آپ نے ان سے بیعت بھی کی ہوئی ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر وہ مجھے گھر سے نکلنے کا حکم دیتے تو میں ضرور نکلتا رہی بات ہدایت کی کہ اللہ کی کتاب کو قائم نہ کیا جائے تو میں ایسا نہیں کرسکتا۔محمد بن جعفر فرماتے ہیں کہ اس کو میں نے بے شمار دفعہ سنا ہے اور ان پر کئی دفعہ پیش کیا ہے۔
مَا زِدْت ← وَوَجْهُك أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ← أَفْلَحُ الْوَجْهُ أَبَا الْفَضْلِ ← فَأَتَيْته فَإِذَا هُوَ يُغَدِّي النَّاسَ فَدَعَوْته فَأَتَاهُ ← أَرْسَلَنِي الْعَبَّاسُ إِلَى عُثْمَانَ أَدْعُوهُ ← صُهَيْبٍ مَوْلَى الْعَبَّاسِ ← ذَكْوَانَ أَبَا صَالِحٍ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← غُنْدَرٌ،
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 40- Book of Temptation › 3- What was mentioned in Othman and other seditions. · Hadith 38840
