مصنف ابن أبي شيبة · 40- كِتَابُ الْفِتَنِ ‹ 2- ما ذكِر فِي فِتنةِ الدّجّالِ. · حديث 38792
38792- حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي الزَّعْرَاءِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ ، أَنَّهُ ذُكِرَ عِنْدَهُ الدَّجَّالَ ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ : تَفْتَرِقُونَ أَيُّهَا النَّاسُ لِخُرُوجِهِ ثَلاَثَ فِرَقٍ : فِرْقَةٌ تَتْبَعُهُ ، وَفِرْقَةٌ تَلْحَقُ بِأَرْضِ آبَائِهَا بِمَنَابِتِ الشِّيحِ ، وَفِرْقَةٌ تَأْخُذُ شَطَّ هَذَا الْفُرَاتِ فَيُقَاتِلُهُمْ وَيُقَاتِلُونَهُ حَتَّى يَجْتَمِعَ الْمُؤْمِنُونَ بِغَرْبي الشَّامِ فَيَبْعَثُونَ إلَيْهِ طَلِيعَةً فِيهِمْ فَارِسٌ عَلَى فَرَسٍ أَشْقَرَ ، أَوْ فَرَسٍ أَبْلَقَ ، فَيُقْتَلُونَ لاَ يَرْجِعُ مِنْهُمْ بَشَرٌ . 2- قَالَ سَلَمَةُ : فَحَدَّثَنِي أَبُو صَادِقٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ نَاجِدٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ ، قَالَ : فَرَسٌ أَشْقَرُ. 3- ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللهِ : وَيَزْعُمُ أَهْلُ الْكِتَابِ ، أَنَّ الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ يَنْزِلُ فَيَقْتُلُهُ ، قَالَ أَبُو الزَّعْرَاءِ : مَا سَمِعْت عَبْدَ اللهِ يَذْكُرُ عَنْ أَهْلِ الْكِتَابِ حَدِيثًا غَيْرَ هَذَا. 4- قَالَ : ثُمَّ يَخْرُجُ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ فَيَمْرَحُونَ فِي الأَرْضِ فَيُفْسِدُونَ فِيهَا ، ثُمَّ قَرَأَ عبد الله : {وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ} قَالَ : ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ دَابَّةً مِثْلَ هَذَا النَّغْفِ فَتَلِجُ فِي أَسْمَاعِهِمْ وَمَنَاخِرِهِمْ فَيَمُوتُونَ مِنْهَا ، قَالَ : فَتَنْتُنُ الأَرْضُ مِنْهُمْ فَيُجْأَرُ إِلَى اللهِ , فَيُرْسِلُ عَلَيْهِمْ مَاءً فَيُطَهِّرُ الله الأَرْضَ مِنْهُمْ ، ثُمَّ قَالَ : يُرْسِلُ اللَّهُ رِيحًا زَمْهَرِيرًا بَارِدَةً ، فَلاَ تَذَرُ عَلَى الأَرْضِ مُؤْمِنًا إِلاَّ كَفَتتهُ تِلْكَ الرِّيحَ ، قَالَ : ثُمَّ تَقُومُ السَّاعَةُ عَلَى شِرَارِ النَّاسِ. 5- قَالَ : ثُمَّ يَقُومُ مَلَكٌ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ بِالصُّورِ فَيَنْفُخُ فِيهِ ، قَالَ : وَالصُّورُ قَرْنٌ ، قَالَ : فَلاَ يَبْقَى خَلْقُ للهِ فِي السَّمَاءِ وَلاَ فِي الأَرْضِ إِلاَّ مَاتَ إِلاَّ مَا شَاءَ رَبُّك ، قَالَ : ثُمَّ يَكُونُ بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكُونَ ، قَالَ : فَيَرُشُّ اللَّهُ مَاءً مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ كَمَنِيِّ الرِّجَالِ ، قَالَ : فَلَيْسَ مِنْ ابن آدَمَ خَلْقٌ فِي الأَرْضِ إِلاَّ مِنْهُ شَيْءٌ ، قَالَ : فَتَنْبُتُ أَجْسَادُهُمْ وَلِحْمَانُهُمْ مِنْ ذَلِكَ الْمَاءِ كَمَا تُنْبِتُ الأَرْضِ مِنَ الثَّرَى ، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللهِ : {وَاللَّهُ الَّذِي أَرْسَلَ الرِّيَاحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا فَسُقْنَاهُ إِلَى بَلَدٍ مَيِّتٍ فَأَحْيَيْنَا بِهِ الأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا كَذَلِكَ النُّشُورُ}. 6- قَالَ : ثُمَّ يَقُومُ مَلَكٌ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ بِالصُّورِ فَيَنْفُخُ فِيهِ ، قَالَ : فَتَنْطَلِقُ كُلُّ نَفْسٍ إِلَى جَسَدِهَا فَتَدْخُلُ فِيهِ ، قَالَ : ثُمَّ يَقُومُونَ فَيُحَيُّونَ تَحِيَّةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ قِيَامًا لِرَبِّ الْعَالَمِينَ. 7- ثُمَّ يَتَمَثَّلُ اللَّهُ لِلْخَلْقِ فَيَلْقَاهُمْ فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَ الْخَلْقِ مِمَّنْ يَعْبُدُ مِنْ دُونِ اللهِ شَيْئًا إِلاَّ وَهُوَ مَرْفُوعٌ لَهُ يَتْبَعُهُ فَيَلْقَى الْيَهُودَ فَيَقُولُ : مَنْ تَعْبُدُونَ ؟ فَيَقُولُونَ : نَعْبُدُ عُزَيْرًا ، فَيَقُولُ : هَلْ يَسُرُّكُمَ الْمَاءُ ، قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : فَيُرِيهِمْ جَهَنَّمَ وَهِيَ كَهَيْئَةِ السَّرَابِ ، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللهِ : {وَعَرَضْنَا جَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ لِلْكَافِرِينَ عَرْضًا}.8- ثُمَّ يَلْقَى النَّصَارَى فَيَقُولُ : مَنْ تَعْبُدُونَ ؟ قَالُوا : نَعْبُدُ الْمَسِيحَ ، قَالَ : يَقُولُ : هَلْ يَسُرُّكُمَ الْمَاءُ ، قَالُوا : نَعَمْ ، فَيُرِيهِمْ جَهَنَّمَ وَهِيَ كَهَيْئَةِ السَّرَابِ ، قَالَ : ثُمَّ كَذَلِكَ لِمَنْ كَانَ يَعْبُدُ مِنْ دُونِ اللهِ شَيْئًا ، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللهِ : {وَقِفُوهُمْ إنَّهُمْ مَسْئُولُونَ}. 9- حَتَّى يَمُرَّ الْمُسْلِمُونَ فَيَقُولُ : مَنْ تَعْبُدُونَ فَيَقُولُونَ : نَعْبُدُ اللَّهَ وَلاَ نُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ، قَالَ : فَيَقُولُ : هَلْ تَعْرِفُونَ رَبَّكُمْ ؟ فَيَقُولُونَ : سُبْحَانَهُ ، إِذَا إِعْتَرَفَ لَنَا عَرَفْنَاهُ ، قَالَ : فَعِنْدَ ذَلِكَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ فَلاَ يَبْقَى أَحَدٌ إِلاَّ خَرَّ لِلَّهِ سَاجِدًا ، وَيَبْقَى الْمُنَافِقُونَ ظُهُورُهُمْ طَبَقٌ وَاحِدٌ كَأَنَّمَا فِيهَا السَّفَافِيدُ ، قَالَ : فَيَقُولُونَ : قَدْ كُنْتُمْ تُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ وَأَنْتُمْ سَالِمُونَ. 10- وَيَأْمُرُ اللَّهُ بِالصِّرَاطِ فَيُضْرَبُ عَلَى جَهَنَّمَ قَالَ : فَيَمُرُّ النَّاسُ زُمَرًا عَلَى قَدْرِ أَعْمَالِهِمْ ، أَوَّلُهُمْ كَلَمْحِ الْبَرْقِ ، ثُمَّ كَمَرِّ الرِّيحِ ، ثُمَّ كَمَرِّ الطَّيْرِ ، ثُمَّ كَأَسْرَعِ الْبَهَائِمِ ، ثُمَّ كَذَلِكَ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ سَعْيًا ، وَحَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ مَاشِيًا ، وَحَتَّى يَكُونَ آخِرُهُمْ رَجُلٌ يَتَلَبَّطُ عَلَى بَطْنِهِ ، فَيَقُولُ : أَبْطَأْتَ بِي ، فَيَقُولُ : لَمْ أُبْطِئْ ، إنَّمَا أَبْطَأَ بِكَ عَمَلُك. 11- قَالَ : ثُمَّ يَأْذَنُ اللَّهُ بِالشَّفَاعَةِ فَيَكُونُ أَوَّلَ شَافِعٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رُوحُ الْقُدُسِ جِبْرِيلُ ، ثُمَّ إبْرَاهِيمُ خَلِيلُ الرَّحْمَن ، ثُمَّ مُوسَى ، أَوْ عِيسَى لاَ أَدْرِي مُوسَى ، أَوْ عِيسَى ، ثُمَّ يَقُومُ نَبِيُّكُمْ صلى الله عليه وسلم رَابِعًا لاَ يَشْفَعُ أَحَدٌ بَعْدَهُ فِيمَا شَفَعَ فِيهِ , وَهُوَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ : {عَسَى أَنْ يَبْعَثَك رَبُّك مَقَامًا مَحْمُودًا} فَلَيْسَ مِنْ نَفْسٍ إِلاَّ تَنْظُرُ إِلَى بَيْتٍ مِنَ النَّارِ ، أَوْ بَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ وَهُوَ يَوْمُ الْحَسْرَةِ ، فَيَرَى أَهْلُ النَّارِ الْبَيْتَ الَّذِي فِي الْجَنَّةِ فَيُقَالُ : لَوْ عَمِلْتُمْ فَتَأْخُذُهُم الْحَسْرَةُ وَيَرَى أَهْلُ الْجَنَّةِ الْبَيْتَ الَّذِي فِي الجَنَّةِ فَيَقُولُونَ : {لَوْلاَ أَنْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنَا لخسف بنا}. 12- قَالَ : ثُمَّ يَشْفَعُ الْمَلاَئِكَةُ وَالنَّبِيُّونَ وَالشُّهَدَاءُ وَالصَّالِحُونَ وَالْمُؤْمِنُونَ ، فَيُشَفِّعُهُمَ اللَّهُ ، قَالَ : ثُمَّ يَقُولُ : أَنَا أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ ، قَالَ : فَيُخْرِجُ مِنَ النَّارِ أَكْثَرَ مِمَّا أُخْرِجَ مِنْ جَمِيعِ الْخَلْقِ بِرَحْمَتِهِ حَتَّى مَا يَتْرُكُ فِيهَا أَحَدًا فِيهِ خَيْرٌ ، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللهِ : {مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ} قَالَ : وَجَعَلَ يَعْقِدُ حَتَّى عَدَّ أَرْبَعًا {قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ حَتَّى أَتَانَا الْيَقِينُ فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشَّافِعِينَ}. 13- ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللهِ : أَتَرَوْنَ فِي هَؤُلاَءِ خَيْرًا ، مَا تُرِكَ فِيهَا أَحَدٌ فِيهِ خَيْرٌ ، فَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ لاَ يُخْرِجَ مِنْهَا أَحَدًا غَيَّرَ وُجُوهَهُمْ وَأَلْوَانَهُمْ فَيَجِيءُ الرَّجُلُ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَيَقُولُ : يَا رَبِ ، فَيَقُولُ : مَنْ عَرَفَ أَحَدًا فَلْيُخْرِجْهُ ، قَالَ : فَيَجِيءُ فَيَنْظُرُ فَلاَ يَعْرِفُ أَحَدًا ، قَالَ : فَيُنَادِيه الرَّجُلُ : يَا فُلاَنُ ، أَنَا فُلاَنٌ ، فَيَقُولُ مَا أَعْرِفُك ، قَالَ : فَعِنْدَ ذَلِكَ يَقُولُونَ : {رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ} ، قَالَ : فَيَقُولُ عِنْدَ ذَلِكَ : {اخْسَئُوا فِيهَا وَلاَ تُكَلِّمُونَ} قَالَ : فَإذَا قَالَ ذَلِكَ أُطْبِقَتْ عَلَيْهِمْ فَلاَ يَخْرُجُ مِنْهُمْ بَشَرٌ.
حضرت سلمہ بن کھیل رضی اللہ عنہ ابی الزعراء سے اور وہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں ان کے پاس دجال کا ذکر کیا گیا حضرت عبداللہ نے فرمایا اے لوگواس کے خروج کے وقت تم تین گروہوں میں بٹ جاؤ گے ایک گروہ اس کی پیروی کرے گا اور ایک گروہ اپنے آباؤ اجداد کی زمین میں گھاس اگنے کی جگہوں پر چلا جائے گا اور ایک گروہ اس فرات کا کنارہ پکڑے گا۔ وہ ( دجال ) ان سے لڑائی کرے گا اور وہ (لوگ ) اس سے لڑائی کر یں گے یہاں تک کہ مومنین شام کے مغربی جانب جمع ہو جائیں گے وہ اس کی طرف آگے جانے والے لشکر کو بھیجیں گے ان میں ایک سوار ہوگا سفید سرخی کے گھوڑے پر یا چتکبرے گھوڑے پر سوار ہو گا وہ سارے قتل کر دیے جائیں گے ان میں سے کوئی انسان نہیں لوٹے گا۔سلمہ نے فرمایا مجھ سے ابوصادق نے بیان کیا ربیعہ بن ناجد سے کہ حضرت عبداللہ نے فرمایا سفید سرخی مائل گھوڑا ہوگا پھر حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ اہل کتاب کہتے ہیں مسیح عیسی ٰبن مریم اتریں گے اور اسے قتل کر یں گے ابوالزعراء نے فرمایا کہ میں نے حضرت عبداللہ کو اہل کتاب سے اس حدیث کے علاوہ کوئی حدیث نقل کرتے ہوئے نہیں سنا۔ پھر حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ پھر یاجوج ماجوج نکلیں گے وہ زمین میں اتراتے پھریں گے اور زمین میں فساد پھلائیں گے پھر حضرت عبداللہ نے پڑھا ( وهم من كل حدب ينسلون) اور وہ ہر اونچی جگہ سے بھاگتے ہوئے آئیں گے حضرت عبداللہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ان پر ایک کیڑا بھیجیں گے اونٹ کے ناک میں پیدا ہونے والے کیڑے کی طرح وہ ان کے کانوں اور ان کے نتھنوں میں داخل ہو جائے گا وہ اس سے مر جائیں گے ارشاد فرمایا کہ ان سے زمین متعفن ہو جائے گی اللہ تعالیٰ سے فریاد کی جائے گی پس اللہ تعالیٰ ان پر بارش اتاریں گے اور اللہ تعالیٰ سخت ٹھنڈی ہوا چھوڑیں گے پس وہ زمین پر کوئی مومن نہیں چھوڑے گی مگر اسے یہ ہوا الٹ پلٹ کر دے گی ارشاد فرمایا پھر شریر لوگوں پر قیامت قائم ہوگی ۔ارشاد فرمایا پھر زمین وآسمان کے درمیان فرشتہ صور لے کر کھڑا ہوگا اور اس صور میں پھونکے گا راوی نے کہا کہ صور سینگ ہے ارشاد فرمایا کہ آسمانوں اور زمینوں میں اللہ کی مخلوق نہیں باقی رہے گی مگر وہ مر جائے گی مگر جس کے بارے میں اللہ چاہے پھر وہ اللہ چاہے فرمایا کہ پھر دونوں نفخوں کے درمیان اتنا وقت ہوگا جتنا کہ وقت ہونا اللہ چاہیں گے ( راوی نے فرمایا ) کہ اللہ تعالیٰ عرش کے نیچے سے پانی پھینکیں گے مردوں کی منی کی طرح ارشاد فرمایا کہ آدمی کی اولاد میں سے کوئی مخلوق نہیں بچے گی مگر اس سے ( پانی سے ) کچھ اسے پہنچے گا پس ان کے جسم اور ان کا گوشت اس پانی سے دوبارہ حیات یافتہ ہوگا جیسا کہ زمین تیزی سے سبزہ اگاتی ہے۔ پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی ترجمہ اور اللہ وہ ذات ہے جو ہواؤں کو بھیجتی ہے وہ ہوائیں بادلوں کو اٹھاتی ہیں پس ہم اس کو ہانکتے ہیں مردہ شہر کی طرف پس ہم اس سے زمین کو زندہ کرتے ہیں اس کے مرے پیچھے اس طرح دوبارہ زندہ کیا جائے گا پھر ارشاد فرمایا پھر زمین و آسمان کے درمیان فرشتہ صور لے کر کھڑا ہوگا اس کو پھونکے گا پھر ہر روح اپنے جسم کی طرف چلے گی اور اس میں داخل ہو جائے گی فرمایا پھر کھڑے ہوں گے اور ایک آدمی کی طرح زندہ ہوں گے اور رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے ۔ پھر اللہ تعالیٰ مخلوق کے لیے ایک صورت میں ظاہر ہوں گے اور ان لوگوں کو ملیں گے پس مخلوق میں سے جو کوئی اللہ کے علاوہ کسی اور چیز کی عبادت کرتا ہوگا ان میں سے کوئی بھی نہیں رہے گا مگر وہ چیز اس کے لیے بلند کی جائے گی وہ اس کے پیچھے چلے گا پس یہود سے ملیں گے اور کہیں گے تم کن کی عبادت کرتے ہو وہ کہیں گے ہم عزیر کی عبادت کرتے ہیں پس اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا تمہیں پانی پسند ہے وہ کہیں گے جی ہاں (ارشاد فرمایا ) اللہ تعالیٰ ان کو جہنم دکھائیں گے اور وہ سراب کی طرح ہوگی ( سراب سے مراد ریت جو دھوپ میں پانی دکھائی دیتی ہے ) پھر حضرت عبداللہ نے آیت تلاوت کی ترجمہ اور ہم اس دن کفار کے سامنے جہنم کو لائیں گے ۔ پھر انصاری ٰسے ملیں گے اور پوچھیں گے تم کس کی عبادت کرتے ہو وہ کہیں گے حضرت مسیح ( عیسی ٰعلیہ السلام ) کی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ کیا تمہیں پانی پسند ہے وہ کہیں گے جی ہاں اللہ تعالیٰ انہیں جہنم دکھائیں گے اور وہ سراب ( وہ چمکیلی ریت جو دھوپ کی روشنی سے پانی دکھائی دے ) ہوگی ۔ پھر فرمایا کہ پھر تمام وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کی عبادت کیا کرتے تھے ان کے ساتھ یہی معاملہ ہوگا۔ پھر حضرت عبداللہ نے آیت پڑھی ترجمہ:۔ ان کوٹھہراؤ کیونکہ ان سے پوچھا جائے گا یہاں تک کہ مسلمانوں کی جماعت سامنے آئے گی اللہ تعالیٰ پوچھیں گے کہ تم کس کی عبادت کرتے ہو؟ وہ کہیں گے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے؟ راوی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ کیا تم اللہ تعالیٰ کو پہچانتے ہو؟ وہ کہیں گے پاک ہے وہ ذات جب وہ ہمارے سامنے آئے گی تو ہم پہچان لینگے راوی نے فرمایا کہ اس وقت اللہ تعالیٰ ساق کی تجلی فرمائیں گے ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا مگر یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہو جائے گا منافقین باقی رہ جائیں گے اور ان کی پشتیں تختہ ہو جائیں گی گویا کہ ان میں سلاخیں ہیں راوی نے فرمایا کہ فرشتے کہیں گے کہ تمہیں سجدے کی طرف بلایا جاتا تھا اس حال میں کہ تم صحیح سالم تھے۔اللہ تعالیٰ پل صراط کے بارے میں حکم دینگے اسے جہنم پر بچھا دیا جائے گا فرمایا کہ لوگ گروہوں میں اپنے اعمال کے بقدر اس پر سے گزریں گے ان میں سے کچھ بجلی کی چمک کی طرح گزر جائیں گے پھر کچھ ہوا کے چلنے کی طرح گزر جائیں گے پھر اس کے بعد کچھ پرندے کے اڑنے کی طرح گزرجائیں گے پھر کچھ چو پاؤں میں سے سب سے تیز چوپائے کی طرح گزرجائیں گے پھر اسی طرح ہوگا یہاں تک کہ ایک آدمی دوڑ کر گزرے گا یہاں تک کہ دوسرا آدمی پیدل چل کے گزرے گا وہ کہے گا کہ تو نے مجھے بہت تاخیر سے گزارا اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ میں نے تمہیں پیچھے نہیں کیا بلکہ تمہارے عمل نے تمہیں پیچھے کیا۔ راوی نے فرمایا کہ پھر اللہ تعالیٰ شفاعت کی اجازت دیں گے پس قیامت والے دن سب سے پہلے سفارش کرنے والے وہ روح القدس پھر ابراہیم خلیل الرحمن پھر موسی ٰیا عیسی ٰفرمایا راوی فرماتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ موسیٰ فرمایا یا عیسی ٰپھر تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم چوتھے نمبر پر کھڑے ہوں گے جن چیزوں کے بارے میں وہ سفارش کر یں گے کوئی بھی ان میں سفارش نہیں کرے گا اور یہ مقام محمود ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے تذکرہ فرمایا (عسى ان يبعثك ربك مقاماً محمودا) قريب ہے کہ آپ کا رب آپ کو مقام محمود پر پہنچادے پس کوئی بھی جان نہیں ہوگی مگر وہ اپنے جہنم میں گھر کو یا جنت میں گھر کو دیکھ لے گی وہ حسرت کا دن ہوگا جہنمی اس گھر کو دیکھیں گے جو کہ جنت میں ان کے لیے تھا ان سے کہا جائے گا کاش کہ تم عمل کرتے ( تو تمہیں یہ مل جاتا ) پس انہیں حسرت لاحق ہوگی اور جنتی اپنے اس گھر کو جو جہنم میں تھا اس کو دیکھیں گے اور کہیں گے کہ اگر اللہ تعالیٰ ہم پر احسان نہ کرتے تو ہم بھی دھنسا دیے جاتے راوی نے فرمایا پھر ملائکہ، انبیاء ،شہداء ،صلحاء ، اور مومنین شفاعت کریں گے اللہ تعالیٰ ان کی شفاعت کو قبول کریں گے پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ میں سب رحم کرنے والوں میں سے زیادہ رحم کرتا ہوں پس اللہ تعالیٰ جہنم سے اپنی رحمت سے جتنے ساری مخلوق سے ( شفاعت سے ) نکالے ہوں گے ان سے زیادہ نکالیں گے یہاں کہ اس میں نہیں چھوڑیں گے جس میں کوئی بھلائی ہو پھر حضرت عبداللہ نے یہ آیت پڑھی ( ما سلککم في سقر) کہ تمہیں کس چیز نے دوزخ میں داخل کر دیا راوی نے فرمایا وہ گننے لگے یہاں تک کہ چار مرتبہ شمار کیا ( قالوا لم نك من المصلين ولم نك نطعم المسكين وکنا نخوض مع الخائضين وكنا نكذب بيوم الدين حتى أتانا اليقين فما تنفعهم شفاعة الشافعين) ترجمہ وہ کہیں گے کہ ہم نماز پڑھنے والوں میں نہیں تھے اور ہم مسکینوں کو کھانا نہیں کھلاتے تھے اور جو لوگ بیہودہ باتوں میں گھستے ہم بھی ان کے ساتھ گھس جایا کرتے تھے ،اور ہم روز جزا کے دن کو جھوٹ قرار دیتے تھے یہاں تک کہ وہ یقینی بات ہمارے پاس آ گئی چنانچہ سفارش کرنے والوں کی سفارش ایسے لوگوں کے کام نہ آئے گی ۔ پھر حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ کیا تم ان میں کوئی بھلائی دیکھتے ہو جبکہ ان میں ایسا کوئی نہیں چھوڑا گیا جس میں کوئی بھلائی ہو جب اللہ تعالیٰ ارادہ کر یں گے کہ جہنم سے کسی کو نہ نکالیں تو ان کے چہرے اور ان کے رنگ بدل دیں گے پس مومنوں میں سے ایک آدمی آئے گا اور عرض کرے گا اے رب اللہ تعالیٰ فرمائیں گے جو کسی کو پہچانتا ہے وہ ا سے نکال لے راوی نے فرمایا کہ وہ آئے گا اور دیکھے گا وہ کسی کو پہچان لیں کہے گا فرمایا کہ ایک آدمی اسے پکارے گا اے فلاں میں فلاں ہوں وہ کہے گا میں تمہیں پہچانتا نہیں ہوں فرمایا اس وقت وہ کہیں گے تر جمہ اے ہمارے پروردگار ہمیں اس سے نکال دے اگر ہم دوبارہ وہی کام کریں تو بیشک ہم ظالم ہوں گے راوی نے فرمایا اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اس (دوزخ) میں ذلیل ہوکر پڑے رہو اور مجھ سے بات بھی نہ کہ دوراوی نے بتلایا جب اللہ تعالیٰ یہ فرما دیں گے تو جہنم کا دروازہ ان پر بند کر دیا جائے گا پھر کوئی انسان وہاں سے نہ نکل سکے گا۔
عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الزَّعْرَاءِ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 40- Book of Temptation › 2- What was mentioned in the charlatan of the Antichrist. · Hadith 38792
