مصنف ابن أبي شيبة · 40- كِتَابُ الْفِتَنِ ‹ 2- ما ذكِر فِي فِتنةِ الدّجّالِ. · حديث 38672
38672- حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ طَلْحَةَ ، عَنْ خَيْثَمَة ، قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللهِ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ فِي الْمَسْجِدِ فَأَتَى عَلَى هَذِهِ الآيَةِ {كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ} فَقَالَ عَبْدُ اللهِ : أَنْتُمَ الزَّرْعُ وَقَدْ دَنَا حَصَادُكُمْ ، ثُمَّ ذَكَرُوا الدَّجَّالَ فِي مَجْلِسِهِمْ ذَلِكَ ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ : لَوَدِدْنَا أَنَّهُ قَدْ خَرَجَ حَتَّى نَرْمِيَهُ بِالْحِجَارَةِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ : أَنْتُمْ تَقُولُونَ ، وَالَّذِي لاَ إلَهَ غَيْرُهُ ، لَوْ سَمِعْتُمْ بِهِ بِبَابِلَ لأَتَاهُ أَحَدُكُمْ وَهُوَ يَشْكُو إلَيْهِ الْحَفَا مِنَ السُّرْعَةِ.
حضرت خیثمہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مسجد میں قرآن مجید پڑھ رہے تھے اس آیت پر پہنچے ’’ کزرع اخرج شطاہ‘ ‘حضرت عبداللہ نے فرمایا تم کھیتی ہواور تمہارے کٹنے کا وقت قریب ہو چکا ہے پھر لوگوں نے دجال کا تذکرہ کیا اپنی اس مجلس میں کچھ نے کہا ہم یہ چاہتے ہیں وہ نکلے اور ہم اسے پتھروں سے ماریں حضرت عبداللہ نے فرمایاتم یہ کہتے ہو اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں اگر تم اس کے بارے میں سنو کہ بابل میں ہے تو تم میں کوئی اس کے پاس آئے گا تو وہ اس کی طرف پاؤں گھسنے کی شکایت کرے گا تیزی سے اس تک پہنچنے کی وجہ سے ۔
خيثمة ← طَلْحَةَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 40- Book of Temptation › 2- What was mentioned in the charlatan of the Antichrist. · Hadith 38672
