مصنف ابن أبي شيبة · 40- كِتَابُ الْفِتَنِ ‹ 1- مَنْ كَرِهَ الْخُرُوجَ فِي الْفِتْنَةِ وَتَعَوَّذَ مِنْهَا. · حديث 38264
38264- حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْكَعْبَةِ ، قَالَ : انْتَهَيْت إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ وَالنَّاسُ عَلَيْهِ مُجْتَمِعُونَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ إذْ نَزَلْنَا مَنْزِلاً ، فَمِنَّا مَنْ يَضْرِبُ خِبَاءَهُ ، وَمِنَّا مَنْ يَنْتَضِلُ ، وَمِنَّا مَنْ هُوَ فِي جَشَرِهِ إذْ نَادَى مُنَادِيهِ : الصَّلاَةَ جَامِعَةً ، فَاجْتَمَعْنَا ، فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَخَطَبَنَا ، فَقَالَ : إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلاَّ كَانَ حَقَّ اللهِ عَلَيْهِ أَنْ يَدُلَّ أُمَّتَهُ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَهُمْ ، وَيُنْذِرَهُمْ مَا يَعْلَمُهُ شَرًّا لَهُمْ ، وَإِنَّ أُمَّتَكُمْ هَذِهِ جُعِلَتْ عَافِيَتُهَا فِي أَوَّلِهَا ، وَإِنَّ آخِرَهَا سَيُصِيبُهُمْ بَلاَءٌ وَأُمُورٌ تُنْكِرُونَهَا فَمِنْ ثَمَّ تَجِيءُ الْفِتْنَةُ ، فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ : هَذِهِ مُهْلِكَتِي ، ثُمَّ تَنْكَشِفُ ، ثُمَّ تَجِيءُ الْفِتْنَةُ ، فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ : هَذِهِ ، ثُمَّ تَنْكَشِفُ ، فَمَنْ سَرَّهُ مِنْكُمْ أَنْ يُزَحْزَحَ عَنِ النَّارِ وَيَدْخُلَ الْجَنَّةَ , فَلتُدْرِكْهُ مَنِيَّتُهُ وَهُوَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ، وَلْيَأْتِ النَّاسَ الَّذِي يُحِبُّ أَنْ يَأْتُوا إلَيْهِ ، وَمَنْ بَايَعَ إمَامًا فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ فَلْيُطِعْهُ مَا اسْتَطَاعَ ، فَإِنْ جَاءَ أَحَدٌ يُنَازِعُهُ فَاضْرِبُوا ، عُنُقَ الآخَرَ ، قَالَ : فَأَدْخَلْت رَأْسِي مِنْ بَيْنِ النَّاسِ ، فَقُلْتُ : أُنْشِدُك بِاللهِ ، أَسَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم ؟ قَالَ : فَأَشَارَ بِيَدَيْهِ إِلَى أُذُنَيْهِ ، سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي ، قَالَ : قُلْتُ : هَذَا ابْنُ عَمِّكَ ، يَأْمُرُنَا أَنْ نَأْكُلَ أَمْوَالَنَا بَيْنَنَا بِالْبَاطِلِ ، وَأَنْ نَقْتُلَ أَنْفُسَنَا ، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ : {لاَ تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ} إِلَى آخِرِ الآيَةِ ، قَالَ : فَجَمَعَ يَدَيْهِ فَوَضَعَهُمَا عَلَى جَبْهَتِهِ ، ثُمَّ نَكسَ هُنَيْهَةً ، ثُمَّ قَالَ أَطِعْهُ فِي طَاعَةِ اللهِ ، وَاعْصِهِ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ.
حضرت عبدالرحمان بن عبد رب الکعبہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا وہ خانہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے تھے اور لوگ ان کے گرد جمع تھے ۔ میں نے انہیں فرماتے ہوئے سنا کہ ایک سفر میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے جب ہم نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا پس کچھ ہم میں سے وہ تھے جو خیمے نصب کرنے لگے اور کچھ وہ تھے جو تیراندازی میں مقابلہ کرنے لگے اور کچھ وہ جواپنے مویشیوں ( کی دیکھ بھال ) میں ( لگ گئے ) تھے۔ناگاہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے ندادی الصلوۃ جامعۃ پس ہم جمع ہو گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا اورفرمایا یقینا مجھ سے پہلے کوئی نبی نہیں گزرا مگر اللہ کیلئے اس پرحق تھا کہ اپنی امت کی رہنمائی کرے اس بات کی طرف جو ان کے لیے بہتر ہو اور ڈرائے ان کو اس بات سے جس کے بارے میں جانتا ہو یہ ان کے لیے بری ہے۔ بے شک یہ تمہاری امت اس کی عافیت اس کے اول حصے میں ہے اور اس کے آخری حصے کو عنقریب پہنچیں گی مصیبتیں اور ایسے امور جنہیں تم نا پسند سمجھتے ہو اس موقعے پر ایک فتنہ آئے گا مؤمن کہے گا ، یہ مجھے ہلاک کرنے والا ہے پھر وہ دور ہو جائے گا۔ پھر فتنہ آئے گا پس مومن کہے گا یہ مجھے ہلاک کرنے والا ہے پھر وہ دور ہو جائے گا پس وہ شخص جسے پسند ہے تم میں سے کہ اسے آگ سے بچالیا جائے اور جنت میں داخل کر دیا جائے تو اسے موت اس حال میں آئے کہ وہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہواورلوگوں کے ساتھ ایسا ہی برتاؤ کر ے۔ جیسا وہ پسند کرتا ہے کہ لوگ اس کے ساتھ کریں اور وہ شخص جس نے کسی امام کی بیعت کی اور اس کو ہاتھ کا معاملہ اور دل کا پھل دے دے تو جہاں تک ہو سکے وہ اس کی اطاعت کرے پس اگر کوئی اس سے جھگڑا کرے تو اس دوسرے کی گردن مار دو۔ راوی فرماتے ہیں میں نے داخل کیا اپنا سر لوگوں کے درمیان پس میں نے عرض کیا میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کیا آپ یہ حدیث حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے راوی فرماتے ہیں انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا اپنے کانوں کی طرف کہ میرے کانوں نے سنا اور میرے دل نے اسے یاد کیا راوی فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یہ آپ کے چچا کے بیٹے ہمیں حکم دیتے ہیں کہ ہم اپنے مالوں کو ناحق طریقے سے کھائیں اور یہ کہ اپنے آپ کو قتل کر یں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: نہ کھاؤ آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق طریقے پر اور ان ( کے جھوٹے مقدمے ) حکام کے یہاں اس غرض سے نہ لے جاؤ۔ آیت کے اخیر تک ، راوی فرماتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ جمع کیے اوران دونوں کو اپنی پیشانی پر رکھا پھر کچھ دیر سر جھکایا پھر فر مایا اس کی اطاعت کر اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں اور اس کی نافرمانی کراللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں ۔
عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْکَعْبَةِ ← زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ
Hadith 38264
