مصنف ابن أبي شيبة · 27-كِتاب الأمراءِ ‹ 1- ما ذكِر مِن حدِيثِ الأمراءِ والدّخولِ عليهِم. · حديث 31222
31222- حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : حدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَ قَيْسُ بْنُ سَعْد بْنُ عُبَادَةَ مَعَ عَلِيٍّ عَلَى مُقَدِّمَتَهُ ، وَمَعَهُ خَمْسَةُ آلاَفٍ قَدْ حَلَقُوا رُؤُوسَهُمْ بَعْدَ مَا مَاتَ عَلِيٌّ ، فَلَمَّا دَخَلَ الْحَسَنُ فِي بَيْعَةِ مُعَاوِيَةَ أَبَى قَيْسٌ أَنْ يَدْخُلَ ، فَقَالَ لأَصْحَابِهِ : مَا شِئْتُمْ ، إنْ شِئْتُمْ جَالَدْت بِكُمْ أَبَدًا حَتَّى يَمُوتَ الأَعْجَلُ ، وَإِنْ شِئْتُمْ أَخَذْت لَكُمْ أَمَانًا ، فَقَالُوا لَهُ : خُذْ لَنَا أَمَانًا ، فَأَخَذَ لَهُمْ أَنَّ لَهُمْ كَذَا وَكَذَا ، وَلاَ يُعَاقَبُوا بِشَيْءٍ وَإِنِّي رَجُلٌ مِنْهُمْ ، وَلَمْ يَأْخُذْ لِنَفْسِهِ خَاصّة شَيْئًا ، فَلَمَّا ارْتَحَل نَحْوَ الْمَدِينَةِ وَمَضَى بِأَصْحَابِهِ جَعَلَ يَنْحَرُ لَهُمْ كُلَّ يَوْمٍ جَزُورًا حَتَّى بَلَغَ.
31222 - حضرت عروہ سے روایت ہے کہ قیس بن سعد بن عبادہ حضرت علی کے ساتھ ان کے لشکر کے اگلے حصے میں رہے تھے اور ان کے ساتھ پانچ ہزار افرادتھے جنہوں نے حضرت علی کی وفات کے بعد اپنے سروں کو منڈوا لیا تھا پس جب حضرت حسن حضرت معاویہ کی بیعت میں داخل ہو گئے تو قیس نے داخل ہونے سے انکار کر دیا پھر اپنے ساتھیوں سے کہا تم کیا چاہتے ہو؟ اگر تم چاہتے ہو تو میں تمہیں لے کر ہمیشہ لڑتا ہوں گا یہاں تک کہ ہم میں سے پہلے مرنے وال مر جائے اور اگر تم چاہو تو میں تمہارے لئے امان طلب کر لوں وہ کہنے لگے آپ ہمارے لئے امان طلب کر لیں چنانچہ انہوں نے ان کے لئے کچھ شرائط اور معاوضے کےساتھ صلح کر لی اور شرط ٹھہرائی کہ ان کو کسی قسم کی سزا نہ دی جائے اور یہ کہا کہ میں ان کا ایک فرد ہوں گا اور اپنے لئے کوئی شرط نہیں لگائی جب وہ مدینہ کی طرف اپنے ساتھیوں کو لے کر واپس چلے تو سارے راستے میں روزانہ ان کے لئے ایک اونٹ ذبح کرتے رہے یہاں تک کہ مدینہ پہنچ گئے ۔
كَانَ قَيْسُ بْنُ سَعْد بْنُ عُبَادَةَ مَعَ عَلِيٍّ عَلَى مُقَدِّمَتَهُ ← أَبِيهِ ← هِشَامٍ ← أَبُو أُسَامَةَ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 27-The Book of Princes › 1- What was mentioned about the princes speaking and entering upon them. · Hadith 31222
