مصنف ابن أبي شيبة · 27-كِتاب الأمراءِ ‹ 1- ما ذكِر مِن حدِيثِ الأمراءِ والدّخولِ عليهِم. · حديث 31174
31174- حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ : دَخَلَ شَقِيقٌ عَلَى الْحَجَّاجِ فَقَالَ : مَا اسْمُك ؟ قَالَ : مَا بَعَثَ إلَيَّ الأَمِيرُ حَتَّى عَلِمَ اسْمِي ، قَالَ : أُرِيدُ أَنْ أَسْتَعِينَ بِكَ عَلَى بَعْضِ عَمَلِي ، قَالَ : فَقَالَ : أَمَا إنِّي أَخَافُ عَلَيْكَ نَفْسِي ، فَاسْتَعْفَاهُ فَأَعْفَاهُ ، قَالَ : فَلَمَّا خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ قَامَ وَهُوَ يَقُولُ : هَكَذَا يَتَعَاشى ، قَالَ : فَقَالَ الْحَجَّاجُ : سَدِّدُوا الشَّيْخَ ، سَدِّدُوا الشَّيْخَ.
حضرت حسین بن علی سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ عبدالملک نے فرمایا کہ شقیق حجاج کے پاس تشریف لائے حجاج نے کہا آپ کا نام کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ امیر نے میرا نام جاننے سے پہلے مجھے نہیں بلایا حجاج نے کہا میں چاہتا ہوں کہ آپ سے اپنے بعض کاموں میں مدد لوں راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ مجھے تیرے پاس اپنی جان کا خوف ہے چنانچہ انہوں نے اس کے کام سے معذرت چاہی اور حجاج نے ان کی معذرت قبول کر لی راوی فرماتے ہیں کہ جب وہ اس کے پاس سے نکلے تو کھڑے ہو کر فرمانے لگے کہ یہ اسی طرح بتکلف اندھا بنتا رہے گا راوی کہتے ہیں کہ حجاج نے کہا: شیخ کو سیدھا کرو شیخ کو سیدھا کرو۔
فَقَالَ الْحَجَّاجُ سَدِّدُوا الشَّيْخَ سَدِّدُوا الشَّيْخَ. ← هَكَذَا يَتَعَاشى ← فَلَمَّا خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ قَامَ وَهُوَ ← فَقَالَ أَمَا إنِّي أَخَافُ عَلَيْكَ نَفْسِي فَاسْتَعْفَاهُ فَأَعْفَاهُ ← أُرِيدُ أَنْ أَسْتَعِينَ بِكَ عَلَى بَعْضِ عَمَلِي ← مَا بَعَثَ إلَيَّ الأَمِيرُ حَتَّى عَلِمَ اسْمِي ← عَبْدُ الْمَلِكِ دَخَلَ شَقِيقٌ عَلَى الْحَجَّاجِ فَقَالَ مَا اسْمُك ← حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 27-The Book of Princes › 1- What was mentioned about the princes speaking and entering upon them. · Hadith 31174
