مصنف ابن أبي شيبة · 25- كِتاب الإِيمانِ والرّؤيا ‹ 1- ما ذكِر فِي الإِيمانِ والإِسلامِ. · حديث 30945
30945- حَدَّثَنَا إسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَا الإِيمَانُ ؟ فَقَالَ : الإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ وَمَلائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَلِقَائِهِ وَرُسُلِهِ وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ الآخِرِ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَا الإسْلامُ ، قَالَ : أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ ، وَلا تُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمَ الصَّلاةَ الْمَكْتُوبَةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ وَتَصُومَ رَمَضَانَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَا الإِحْسَانُ ؟ قَالَ : أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّك تَرَاهُ فَإِنَّك إِنْ لاَ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاك.
حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہﷺ لوگوں میں کھلی جگہ میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ ایک آدمی آپ ﷺ کی خدمت میں حآضر ہو کر عرض کی ا: اے ا للہ کے رسول ﷺ ایمان کی حقیقت کیا ہے ۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ایمان کی حقیقت یہ ہے کہ تم اللہ کو اور اس کے فرشتوں کو اور اس کی کتاب کو اور اس سے ملاقات کرنے اور اس کے رسول کو دل سے مانو ۔ اور مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے کو دل سے مانو۔ اس آدمیں نے عرض کیا: اسلام کی حقیقت کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے ارفشاد فرما یا : اسلام کی حقیقت یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو بھی شریک مت ٹھہراؤ اور فرمض نمازقں کو قائم کرو اور فرض زکوٰۃ کی ادائیگی کرو اور رمضان کے روزے رکھو اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ احسان کی حقیقت کیا ہے ؟ آپﷺ نےا رشاد فرمایا : یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کلرو گویا تم اس کو دیکھ رہے ہو ۔ پس اگر ایسا ممکن نہیں کہ تم اے دیکھ سکو پھر اس کا گمان کرو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے ۔
کَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← أَبِي حَيَّانَ، ← إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ،
Hadith 30945
