مصنف ابن أبي شيبة · 39- كِتَابُ الْمَغَازِي ‹ 20- مَا قَالُوا فِي مُهَاجِرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ ، وَقُدُومِ مَنْ قَدِمَ. · حديث 37773
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ (كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ) کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلمٍ کے ہمراہ مدینہ کی طرف ہجرت کی ۔
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 39 - Al-Maghazi Book › 20- What they said in the migrations of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, and the firstborn of the firstborn, and the arrival of those who came · Hadith 37773
مصنف ابن أبي شيبة · 39- كِتَابُ الْمَغَازِي ‹ 20- مَا قَالُوا فِي مُهَاجِرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ ، وَقُدُومِ مَنْ قَدِمَ. · حديث 37774
37774- حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَسْلَمَةَ بْنَ مَخْلَدٍ ، يَقُولُ : وُلِدْتُ حِينَ قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ، وَقُبِضَ وَأَنَا ابْنُ عَشْرٍ.
حضرت مسلمہ بن مخلَّد فرماتے ہیں ۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلمٍ تشریف لائے تو میری ولادت ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلمٍ کی وفات ہوئی تو میں دس سال کا تھا۔
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 39 - Al-Maghazi Book › 20- What they said in the migrations of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, and the firstborn of the firstborn, and the arrival of those who came · Hadith 37774
مصنف ابن أبي شيبة · 39- كِتَابُ الْمَغَازِي ‹ 20- مَا قَالُوا فِي مُهَاجِرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ ، وَقُدُومِ مَنْ قَدِمَ. · حديث 37775
37775- حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، سَمِعَ أَنَسًا ، يَقُولُ : قدِمَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ وَأَنَا ابْنُ عَشْرٍ ، وَقُبِضَ وَأَنَا ابْنُ عِشْرِينَ ، وَكُنَّ أُمَّهَاتِي يَحْثُثْنَنِي عَلَى خِدْمَتِهِ.
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمٍ مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو میں دس سال کا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلمٍ کی وفات ہوئی تو میں بیس سال کا تھا اور میری مائیں مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلمٍ کی خدمت کی ترغیب دیا کرتی تھیں ۔
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 39 - Al-Maghazi Book › 20- What they said in the migrations of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, and the firstborn of the firstborn, and the arrival of those who came · Hadith 37775
مصنف ابن أبي شيبة · 39- كِتَابُ الْمَغَازِي ‹ 20- مَا قَالُوا فِي مُهَاجِرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ ، وَقُدُومِ مَنْ قَدِمَ. · حديث 37776
37776- حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا هَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ ، هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ ، وَعَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ ، قَالَ : اسْتَقْبَلَتْهُمْ هَدِيَّةُ طَلْحَةَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فِي الطَّرِيقِ ، فِيهَا ثِيَابٌ بِيضٌ ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ فِيهَا الْمَدِينَةَ.
حضرت ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلمٍ ، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی ۔ کہتے ہیں: تو حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کا ہدیہ راستہ میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو ملا جس میں سفید کپڑے تھے ۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمٍ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کپڑوں میں مدینہ میں داخل ہوئے ۔
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 39 - Al-Maghazi Book › 20- What they said in the migrations of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, and the firstborn of the firstborn, and the arrival of those who came · Hadith 37776
مصنف ابن أبي شيبة · 39- كِتَابُ الْمَغَازِي ‹ 20- مَا قَالُوا فِي مُهَاجِرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ ، وَقُدُومِ مَنْ قَدِمَ. · حديث 37777
37777- حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ ابْنَةِ أَبِي بَكْرٍ ؛ أَنَّهَا هَاجَرَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم وَهِيَ حُبْلَى بِعَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، فَوَضَعَتْهُ بِقُبَاءَ ، فَلَمْ تُرْضِعْهُ حَتَّى أَتَتْ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ، فَأَخَذَهُ فَوَضَعَهُ فِي حِجْرِهِ ، فَطَلَبُوا تَمْرَةً لِيُحَنِّكُوهُ حَتَّى وَجَدُوهَا فَحَنَّكُوهُ ، فَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ دَخَلَ بَطْنَهُ رِيقُ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم ، وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللهِ.
حضرت اسما بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلمٍ کی طرف اس حالت میں ہجرت کی کہ وہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو حمل میں اٹھائے ہوئے تھی ۔ پس قباء کے مقام پریہ حمل وضع ہوا۔ تو انہوں نے نومولود کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلمٍ کے پاس پہنچنے تک دودھ پلایا ، یہاں تک کہ اس کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلمٍ کی خدمت میں حاضر ہوئیں ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلمٍ نے اس کو پکڑا اور اسے اپنی گود مبارک میں رکھا۔ لوگوں نے کھجور کی تلاش شروع کی ۔ تا کہ اس کوتحسنیک دے سکیں ۔ پس سب سے پہلی شئی جوان کے پیٹ میں داخل ہوئی وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلمٍ کی تھوک تھی ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلمٍ نے اس کا نام عبداللہ رکھا ۔
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 39 - Al-Maghazi Book › 20- What they said in the migrations of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, and the firstborn of the firstborn, and the arrival of those who came · Hadith 37777
مصنف ابن أبي شيبة · 39- كِتَابُ الْمَغَازِي ‹ 20- مَا قَالُوا فِي مُهَاجِرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ ، وَقُدُومِ مَنْ قَدِمَ. · حديث 37778
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 39 - Al-Maghazi Book › 20- What they said in the migrations of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, and the firstborn of the firstborn, and the arrival of those who came · Hadith 37778
مصنف ابن أبي شيبة · 39- كِتَابُ الْمَغَازِي ‹ 20- مَا قَالُوا فِي مُهَاجِرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ ، وَقُدُومِ مَنْ قَدِمَ. · حديث 37779
حضرت قتادہ ،سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا: پہلے مہاجرین اور بعد کے مہاجرین میں حدِ فاصل کیا بات ہے؟ انہوں نے جواب دیا۔ان دونوں کے درمیان حدِ فاصل دو قبلے ہیں ۔ پس جس آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمٍ کے ہمراہ دونوں قبلوں کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی تو وہ مہا جر ین اولین میں سے ہے۔
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 39 - Al-Maghazi Book › 20- What they said in the migrations of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, and the firstborn of the firstborn, and the arrival of those who came · Hadith 37779
مصنف ابن أبي شيبة · 39- كِتَابُ الْمَغَازِي ‹ 20- مَا قَالُوا فِي مُهَاجِرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ ، وَقُدُومِ مَنْ قَدِمَ. · حديث 37780
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ، مکہ سے لے کر مد ینہ تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ردیف تھے ۔اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ شام کی طرف آیا جایا کرتے تھے۔ تو آپ پہچانے جاتے تھے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلمٍ پہچانے نہیں جاتے تھے۔ تو لوگ پوچھتے تھے۔اے ابوبکر! آپ کے آگے یہ نو جوان کون ہیں؟ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ فرماتے ۔یہ ر ہبر ہیں مجھے راستہ دکھاتے ہیں ۔ رادی کہتے ہیں ۔ پس جب دونوں مدینہ کے قریب پہنچے۔ دونوں حرہ میں اترے ۔انصار کی طرف کسی کو بھیجا گیا تو وہ بھی تشریف لے آئے ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ۔میں نے اس دن میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلمٍ کو دیکھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلمٍ مدینہ میں داخل ہوئے تھے۔ تو میں نے کوئی دن اس دن سے زیادہ خوبصورت اور روشن نہیں دیکھا جس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلمٍ ہمارے ہاں تشریف لائے ۔اور پھر جس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی میں تب بھی حاضر تھا تو میں نے کوئی دن اس دن سے زیادہ بُرا اور اندھیرے والانہیں دیکھا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلمٍ کی وفات ہوئی ۔
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 39 - Al-Maghazi Book › 20- What they said in the migrations of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, and the firstborn of the firstborn, and the arrival of those who came · Hadith 37780
مصنف ابن أبي شيبة · 39- كِتَابُ الْمَغَازِي ‹ 21- مَا ذُكِرَ فِي كُتُبِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَبعوثِهِ. · حديث 37781
حضرت عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کسریٰ نے بادام کولکھا کہ مجھے خبر دی گئی ہے ۔ کہ ایک آدمی وہ بات کہتا ہے جو مجھے معلوم نہیں ہے ۔ پس تم اس کی طرف کسی کو بھیجو تا کہ وہ اپنے گھر میں سکون کرے اور لوگوں میں کسی بات کو نہ پھیلائے وگرنہ میرے ساتھ کوئی وقت اور جگہ مقرر کر لے میں اس سے وہاں ملوں گا۔ راوی کہتے ہیں ۔ باذام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمٍ کے پاس دو داڑھی منڈے ہوئے آدمیوں کو بھیجا جن کی مونچھیں لمبی تھیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں اس بات پر کس نے ابھارا ہے؟ راوی کہتے ہیں: ان دونوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا ۔ کہ ہمیں اُس نے اِس بات کا حکم دیا ہے جو لوگوں کے گمان کے مطابق ان کا پروردگار ہے ۔ راوی کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا لیکن ہم تمہارے طریقہ کی مخالفت کرتے ہیں ۔ ہم اس کو (مونچھوں کو) صاف کرتے ہیں اور اس ( داڑھی) کو بڑھاتے ہیں ۔ راوی کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک درازمونچھوں والا قریشی مردگز را تو آپ صلی اللہ علیہ وسلمٍ نے اس کو حکم دیا کہ انہیں کاٹ دو۔راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلمٍ نے ان قاصدوں کو بیس سے کچھ اُوپر دن چھوڑے رکھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: تم دونوں اس کے پاس جاؤ جس کوتم اپنا پروردگارگمان کرتے ہو اور اس کو بتاؤ کہ میرے رب نے اس شخص کو قتل کر دیا ہے جو اپنے گمان میں رب بنا ہوا تھا ۔ ان آدمیوں نے پوچھا: یہ کب ہوا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلمٍ نے فرمایا: آج کے دن ۔ راوی کہتے ہیں : پس یہ دونوں باذام کی طرف گئے اور جا کر اس کو یہ خبر دی ۔ راوی کہتے ہیں : اس نے کسریٰ کو خط لکھا تو انہوں نے کسری ٰکے قتل کو آج ہی کے دن میں رونما پا یا۔
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 39 - Al-Maghazi Book › 21- What was mentioned in the books of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, and his envoys? · Hadith 37781
مصنف ابن أبي شيبة · 39- كِتَابُ الْمَغَازِي ‹ 21- مَا ذُكِرَ فِي كُتُبِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَبعوثِهِ. · حديث 37782
37782- حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ الأَسْلَمِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، يَقُولُ : كَتَبَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم إلَى كِسْرَى وَقَيْصَرَ وَالنَّجَاشِيِّ : أَمَّا بَعْدُ ، {تَعَالَوْا إلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ ، أَلاَ نَعْبُدَ إلاَّ اللَّهَ ، وَلاَ نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا ، وَلاَ يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللهِ ، فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ}. قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ : فَمَزَّقَ كِسْرَى الْكِتَابَ وَلَمْ يَنْظُرْ فِيهِ ، قَالَ نَبِيُّ اللهِ صلى الله عليه وسلم : مُزِّقَ وَمُزِّقَتْ أُمَّتُهُ ، فَأَمَّا النَّجَاشِيُّ فَآمَنَ ، وَآمَنَ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ ، وَأَرْسَلَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم يُهْدِيهِ حُلَّةً ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : اُتْرُكُوهُ مَا تَرَكَكُمْ. وَأَمَّا قَيْصَرُ ؛ فَقَرَأَ كِتَابَ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم ، فَقَالَ : هَذَا كِتَابٌ لَمْ أَسْمَعْ بِهِ بَعْدَ سُلَيْمَانَ النَّبِيِّ :{بسم الله الرَّحْمَن الرحيم} ، ثُمَّ أَرْسَلَ إلَى أَبِي سُفْيَانَ وَالْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، وَكَانَا تَاجِرَيْنِ بِأَرْضِهِ ، فَسَأَلَهُمَا عَنْ بَعْضِ شَأْنِ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم ، وَسَأَلَهُمَا مَنْ تَبِعَهُ ، فَقَالاَ : تَبِعَهُ النِّسَاءُ وَضَعَفَةُ النَّاسِ ، فَقَالَ : أَرَأَيْتُمَا الَّذِينَ يَدْخُلُونَ مَعَهُ يَرْجِعُونَ ؟ قَالاَ : لاَ ، قَالَ : هُوَ نَبِيٌّ ، لَيَمْلِكَنَّ مَا تَحْتَ قَدَمِي ، لَوْ كُنْتُ عِنْدَهُ لَقَبَّلْتُ قَدَمَيْهِ.
حضرت سعید بن المسیب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسریٰ ، قیصر اور نجاشی کو خط لکھا۔ اما بعد !’’ایک ایسی بات کی طرف آجاؤ جو ہم تم میں مشترک ہے ( اور وہ یہ ہے) کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کر یں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اللہ کو چھوڑ کر ہم ایک دوسرے کو رب نہ بنائیں‘‘ پھر بھی اگر وہ منہ موڑ یں تو کہہ دو’’ گواہ رہنا ہم مسلمان ہیں ۔ حضرت سعید بن المسیب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: کسری ٰنے خط کو پھاڑ دیا اور اس کو دیکھا ہی نہیں ۔ نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلمٍ نے فرمایا: وہ خود پھٹ گیا ہے اور اس کی امت بھی پھٹ گئی ہے ۔ اور نجاشی نے ایمان قبول کر لیا اور اس کے پاس جولوگ تھے وہ بھی ایمان لے آئے ۔اور اس نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلمٍ کے پاس ایک جوڑاہدیہ میں بھیجا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمٍ نے فرمایا: جب تک وہ تمہیں چھوڑے رکھے تم بھی ان کو چھوڑ دو۔ اور قیصر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمٍ کا خط پڑھا اور کہا۔ میں نے سلیمان علیہ السلام نبی کے خط کے بعد بسم اللہ الرحمان الرحیم والا خط نہیں سُنا ۔ پھر اس نے ابوسفیان اور مغیرہ بن شعبہ کی طرف قاصد بھیجا۔ یہ دونوں ارضِ قیصر میں تاجر کی حیثیت سے موجود تھے۔ قیصر نے ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمٍ کے بعض احوال کے متعلق سوال کیا ۔ اور ان سے یہ سوال کیا ۔ کون لوگ اس کے تابع دار ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: ان کے پیچھے چلنے والے کمز ورلوگ اور عورتیں ہیں ۔ پھر اس نے پوچھا: یہ بتاؤ! جولوگ اس کے پاس گئے ہیں وہ واپس پلٹے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا۔ نہیں! قیصر نے کہا ۔ یہ شخص نبی ہے ۔ میرے قدموں کے نیچے والے حصہ زمین پریہ شخص ضرور بالضرور تمکن حاصل کرے گا ۔ اگر میں اس کے پاس ہوتا تو میں اس کے قدم چوم لیتا۔
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 39 - Al-Maghazi Book › 21- What was mentioned in the books of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, and his envoys? · Hadith 37782
مصنف ابن أبي شيبة · 39- كِتَابُ الْمَغَازِي ‹ 21- مَا ذُكِرَ فِي كُتُبِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَبعوثِهِ. · حديث 37783
حضرت جعفر بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمٍ نے چا رافراد کو چارافراد کی طرف قاصد بنا کر بھیجا۔ ایک آدمی کو کسریٰ کی طرف ۔ ایک آدمی کو قیصر کی طرف، ایک آدمی کو مقوقس کی طرف اور عمرو بن امیہ کو نجاشی کی طرف ۔ ان میں سے ہر ایک آدمی اس قوم کی زبان بولنے والا ہو گیا جن کی طرف انہیں ( قاصد بنا کر )بھیجا گیا تھا۔ پس جب حضرت عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ ،نجاشی کے پاس تشریف لائے ، تو انہوں نے انکے ہاں ایک چھوٹا دروازہ پایا جس میں سے لوگ جھک کر گزرتے تھے۔ پس جب حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھا تو آپ رضی اللہ عنہ الٹے پاؤں واپس ہو لئے ۔ راوی کہتے ہیں۔ یہ بات نجاشی کی مجلس میں بیٹھے حبشی لوگوں کو شاق گزری یہاں تک کہ انہوں نے ان کا ارادہ کیا۔اور یہاں تک کہ انہوں نے نجاشی بادشاہ سے کہا۔ یہ آدمی اس طرح اندرنہیں داخل ہوا جس طرح ہم داخل ہوتے ہیں ۔ نجاشی نے پوچھا۔ تمہیں لوگوں کی طرح اندر داخل ہونے سے کس چیز نے منع کیا ہے؟ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم یہ کام اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلمٍ ٍکے ساتھ نہیں کرتے اور اگر ہم یہ کام کسی کے ساتھ کرتے تو ہم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلمٍ کے ساتھ یہ کام کر تے نجاشی نے کہا۔ اس نے سچ کہا ہے اور نجاشی نے کہا۔اس کو چھوڑ دو ۔لوگوں نے نجاشی سے کہا۔ اس آدمی کا گمان ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام مملوک ہیں ۔ نجاشی نے پوچھا: تم عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ اللہ کا کلمہ اور روح اللہ ہیں ۔ نجاشی نے کہا۔ عیسیٰ علیہ السلام اس بات سے آگے نہیں بڑھ سکتے ۔ (یعنی واقعہ ایسا ہی ہے)
جعفر بن عمرو ← يَعْقُوبُ، ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 39 - Al-Maghazi Book › 21- What was mentioned in the books of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, and his envoys? · Hadith 37783
مصنف ابن أبي شيبة · 39- كِتَابُ الْمَغَازِي ‹ 21- مَا ذُكِرَ فِي كُتُبِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَبعوثِهِ. · حديث 37784
حضرت مجاہد فرماتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے دادا کو خط تحریرفرمایا تھا۔ اور یہ ہمارے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نامہ مبارک ہے ۔’’ شروع اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان اور رحم کرنے والا ہے ۔ یہ خط ذی مر ان عمیر کی طرف اور ہمدان کے مسلمانوں کی طرف ہے۔ تم پر سلام ہوا! میں تمہارے سامنے اس اللہ کی تعریف کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ۔ اس کے بعد ! ہمیں ارضِ روم سے واپسی پر تمہارے اسلام کی خبر پہنچی ہے ۔ پس تمہارے لیے بشارت ہو کہ اللہ تعالی ٰ نے تمہیں اپنی ہدایت میں سے ہدایت بخشی ہے۔ اور جب تم نے لوگوں اس بات کی گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ اور تم نے نماز کو قائم کیا اور تم نے زکوٰۃ کوادا کیا ۔ تو پس تمہارے لئے اللہ تعالی ٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تمہارے اموال اور خون پر ذمہ ہے اور وہ درمیانی زمین جس پر تم اسلام لائے ہواس کا ہموار رقبہ، اس کے پہاڑ ، اس کے چشمے اور اس کی چراگا ہیں تمہاری ہیں ۔ نہ تم پرظلم کیا جائے گا اورنہ تمہیں تنگ کیا جائے گا۔ پس بلاشبہ صدقہ ( کا مال) محمد اور اہلِ بیت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے حلال نہیں ہے ۔ یہ تو وہ زکوۃ ہے جس کے ذریعہ تم اپنے مالوں کو یہ زکوۃ مسلمانوں فقراءکو دے کر پاک کرو گے ۔ بے شک مالک بن مرارہ ر ہاوی نے غیب کی باتوں کو یاد کیا اور خبر کو آگے پہنچایا ۔ اوراے ذی مران ! میں تمہیں اس کے ساتھ خیر کا حکم کرتا ہوں کیونکہ یہ منظور نظرہے۔اور یہ خط علی بن ابی طالب نے لکھا ہے ۔ والسلام علیکم ۔ تمہارا رب تم پر سلامتی بھیجے ۔
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 39 - Al-Maghazi Book › 21- What was mentioned in the books of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, and his envoys? · Hadith 37784