حضرت ابوعبیدہ بن حذیفہ روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی کہتا ہے ۔ میں نے کہا میں عدی بن حاتم کی خبر کے بارے میں پوچھتا ہوں اور میں کوفہ کی ایک بستی میں تھا تا کہ میں اس بات کو خودان سے سُننے والا ہو جاؤں ۔ پس میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا۔ کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں؟ انہوں نے جواب میں کہا: ہاں ! تم فلاں بن فلاں ہو ۔ اور نام لے کر بتایا۔ میں نے کہا: آپ مجھے بات بیان کر یں ۔ انہوں نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا تو مجھے یہ بات اس قدر نا پسند گزری کہ جتنا میں نے کسی چیز کو (کبھی) نا پسند کیا تھا۔ پس میں چل دیا۔ یہاں تک کہ میں اہل عرب کے آخری حصہ پر ، جوروم سے ملحق ہے ، جا کر اُترا۔ پھر مجھے اپنی وہ جگہ پہلی جگہ سے بھی زیادہ نا پسند ہوگئی تو میں نے کہا: میں ضرور بالضرور اس آدمی کے پاس جاؤں گا۔ پس اگر وہ جھوٹا ہے تو وہ مجھے نقصان نہیں پہنچا پائے گا۔اورا گر وہ سچا ہے تو پھر مجھ پر واضح ہو جائے گا۔۲۔پس میں مدینہ میں حاضر ہوا۔ لوگوں نے میری طرف اہتمام سے دیکھا اور کہنے لگے ۔ عدی بن حاتم آ گیا ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عدی! اسلام لے آؤ ، سلامتی پا جاؤ گے۔ میں نے عرض کیا۔ میں بھی ایک دین والا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تیرے دین کا تجھ سے زیادہ عالم ہوں ۔فرماتے ہیں : میں نے کہا: آپ میرے دین کے مجھ سے ( بھی ) زیادہ جاننے والے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ! میں تیرے دین کا تجھ سے زیادہ جاننے والا ہوں ۔ میں نے (دوبارہ) عرض کیا۔ آپ میرے دین کے مجھ سے بھی زیادہ جاننے والے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! ( پھر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم رکوسی ( عیسائیت اور صابئیت کے مابین مذہب )نہیں ہو؟ میں نے کہا: کیوں نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اپنی قوم کے سردار نہیں ہو؟ میں نے کہا۔ کیوں نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ایک رُبع نہیں وصول کر تے ؟ میں نے کہا: کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:یہ تمہارے دین میں تمہارے لئے حلال نہیں ہے ۔ عدی کہتے ہیں : میں اندر ہی اندر خود کو گھٹیا سمجھتا رہا۔۳۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عدی بن حاتم! اسلام لے آؤ سلامتی پا جاؤ گے۔ میرا خیال یا میرا گمان یہی ہے کہ تمہیں اسلام لانے سے صرف یہ بات مانع ہے کہ تم میرے اردگر دفقراء کو دیکھ رہے ہو۔ اورتم ہمارے خلاف لوگوں کو متحد اورمتفق پاتے ہو۔ کیا تم حیرہ میں گئے ہو؟ میں نے عرض کیا: نہیں! لیکن مجھے اس کی جگہ معلوم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: قریب ہے وہ وقت کہ ایک مسارعورت حیرہ سے بغیر کسی ہمسفر کے روانہ ہو کر بیت اللہ کا طواف کرے گی ۔ اور البتہ ضرور بالضرور تم پر کسریٰ بن ہرمز کے خزانے کھول دیئے جائیں گے۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ دہرائی ۔ قریب ہے وہ وقت کہ آدمی ایسے شخص کو ڈھونڈے گا جواس کی زکوۃ قبول کر لے گا۔۴۔پس تحقیق میں (عدی) نے مسافر عورت کو دیکھا کہ وہ ہمسفر کے بغیر حیرہ سے نکل کر بیت اللہ کا طواف کرنے کو آئی ۔ اور تحقیق میں مدائن پر لشکر کشی کرنے والے گھڑ سواروں میں تھا ۔ اور البتہ تیری بات کا وقت ( بھی ) آ جائے گا۔ کیونکہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ارشادفرمائی تھی ۔
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 39 - Al-Maghazi Book › 18- The Islam of Uday ibn Hatim al-Ta’i, may God be pleased with him. · Hadith 37761
مصنف ابن أبي شيبة · 39- كِتَابُ الْمَغَازِي ‹ 19- إِسْلاَمُ جَرِيرِ بنِ عَبْدِ اللهِ ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ. · حديث 37762
37762- حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُبَيْلِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، قَالَ : لَمَّا أَنْ دَنَوْتُ مِنَ الْمَدِينَةِ ، أَنَخْتُ رَاحِلَتِي ، ثُمَّ حَلَلْتُ عَيْبَتِي ، وَلَبِسْتُ حُلَّتِي ، فَدَخَلْتُ وَرَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ ، فَسَلَّمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ، فَرَمَانِي النَّاسُ بِالْحَدَقِ ، قَالَ : فَقُلْتُ لِجَلِيسٍ لِي : يَا عَبْدَ اللهِ ، هَلْ ذَكَرَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ أَمْرِي شَيْئًا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، ذَكَرَك بِأَحْسَنِ الذِّكْرِ ، قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ إِذْ عَرَضَ لَهُ فِي خُطْبَتِهِ ، فَقَالَ : إِنَّهُ سَيَدْخُلُ عَلَيْكُمْ مِنْ هَذَا الْفَجِّ ، أَوْ مِنْ هَذَا الْبَابِ مِنْ خَيْرِ ذِي يَمَنٍ ، أَلاَ وَإِنَّ عَلَى وَجْهِهِ مَسَحَةُ مَلَكٍ ، قَالَ جَرِيرٌ : فَحَمِدْتُ اللَّهَ عَلَى مَا أَبْلاَنِي.
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: فرماتے ہیں: جب میں مدینہ کے قریب آیا تو میں نے اپنی اونٹنی کو بٹھایا پھر میں نے اپنا معمولی لباس اُتارا اور اپنی عمده پوشاک پہنی اور میں اندر آ یا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشادفرمارہے تھے ۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ تو لوگوں نے مجھے گھورنا شروع کر دیا۔ فرماتے ہیں: میں نے اپنے ساتھی سے پوچھا: اے اللہ کے بندے! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے معاملہ میں کسی بات کا ذکر فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارا بہت اچھا ذکر کیا ہے۔ فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشادفرمارہے تھے کہ اس دوران ارشادفرمایا: بلا شبہ عنقریب تم پر اس طرف سے ، یا فرمایا: اس دروازہ سے یمن والوں میں بہترین شخص داخل ہوگا۔خبر دار! اس کے چہرے پر شاہی اثرات ہوں گے ۔ حضرت جریر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ پس میں نے اللہ کی تعریف کی اس بات پر جس کے ساتھ اللہ نے آزمایا۔
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 39 - Al-Maghazi Book › 19- Islam Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him. · Hadith 37762
مصنف ابن أبي شيبة · 39- كِتَابُ الْمَغَازِي ‹ 20- مَا قَالُوا فِي مُهَاجِرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ ، وَقُدُومِ مَنْ قَدِمَ. · حديث 37763
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کا ارادہ فر مایا تو میں نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کے گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے توشہ دان تیار کیا۔ بیان کرتی ہیں کہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے توشہ دان اور پانی کی مشک کے لئے کوئی چیز نہیں ملی جس سے ہم ان دونوں کو باندھتے ۔ میں نے ابو بکر رضی اللہ عنہ سے کہا : بخدا! مجھے باندھنے کے لئے کوئی چیز (رسی وغیرہ) نہیں ملتی سوائے اپنے پٹکے کے ۔فرماتی ہیں : سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اُسی ( پٹکے) کو دو حصوں میں پھاڑلو۔ اور ایک کے ذریعہ سے پانی کی مشک کو باندھ دو اور دوسرے سے تو شہ دان کو ۔ اسی وجہ سے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کا نام ذات النطاقین معروف ہو گیا۔
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 39 - Al-Maghazi Book › 20- What they said in the migrations of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, and the firstborn of the firstborn, and the arrival of those who came · Hadith 37763
مصنف ابن أبي شيبة · 39- كِتَابُ الْمَغَازِي ‹ 20- مَا قَالُوا فِي مُهَاجِرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ ، وَقُدُومِ مَنْ قَدِمَ. · حديث 37764
حضرت عمر بن اسحاق روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ مد ینہ کی طرف نکلے تو سراقہ بن مالک بھی ان کے پیچھے ہولیا۔ پس جب ان کے پاس آیا تو کہنے لگا۔ یہی دوشخص قریش کو مطلوب ہیں ۔ کاش میں قریش کو ان کے مطلوبہ افراد واپس لوٹا دوں ۔ راوی کہتے ہیں : اس نے اپنا گھوڑا ان دوحضرات کی طرف دوڑ ایا تو گھوڑاز مین میں دھنس گیا۔ سراقہ نے کہا۔ آپ دونوں اللہ سے دعا کر یں کہ وہ گھوڑے کو باہر نکال دے ۔ میں آپ لوگوں کے قریب نہیں آؤں گا۔ راوی کہتے ہیں: پس گھوڑا باہر نکل گیا۔ تو سراقہ نے پھر پہلے والی حرکت کی۔ حتی کہ یہ دو یا تین مرتبہ ہوا۔ راوی کہتے ہیں ۔ پھر سراقہ رُک گیا ۔ پھر کہنے لگا۔ آپ آئیں۔یہ توشہ اور سواری لے لیں ۔ انہوں نے جواب دیا۔ ہمارا ارادہ نہیں ہے اور ہمیں اس کی ضرورت بھی نہیں ہے ۔
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 39 - Al-Maghazi Book › 20- What they said in the migrations of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, and the firstborn of the firstborn, and the arrival of those who came · Hadith 37764
مصنف ابن أبي شيبة · 39- كِتَابُ الْمَغَازِي ‹ 20- مَا قَالُوا فِي مُهَاجِرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ ، وَقُدُومِ مَنْ قَدِمَ. · حديث 37765
حضرت براء بن عازب سے روایت ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عازب رضی اللہ عنہ سے ایک سامانِ سفر تیرہ درہموں میں خریدا ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عازب رضی اللہ عنہ سے کہا۔ آپ براء کو حکم دیں کہ وہ اس کو میرے کجاوہ تک اٹھا کر لے آئے ۔ حضرت عازب رضی اللہ عنہ نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے کہا۔ نہیں! یہاں تک کہ آپ ہمیں بتائیں کہ آپ نے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا تھا۔ جب آپ لوگ نکلے تھے اور مشرکین تمہیں تلاش کر رہے تھے ۔ ۲۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم نے مکہ سے کوچ کیا تو ہم ایک رات اور دن جاگ کر چلتے رہے یہاں تک کہ ہمیں دو پہر ہوگئی اور زوال کا وقت ہو گیا۔ میں نے نظر دوڑائی کہ کیا مجھے کوئی سایہ دکھائی دیتا ہے جس کی طرف ہم ٹھکا نہ پکڑ یں تو اچا تک مجھے ایک چٹان دکھائی دی پس ہم اس کی طرف پہنچے ۔ اس کا کچھ سایہ باقی تھا۔ میں نے اس کے بقیہ سایہ کو دیکھا اور اس ( کی جگہ ) کو درست کیا پھر میں نے اس سایہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے چمڑا بچھایا۔ پھر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ جائیے ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لیٹ گئے ۔ پھر میں نے اپنے اردگرد میں دیکھ بھال شروع کر دی کہ کیا مجھے کوئی متلاشی دکھائی دیتا ہے تو اچانک مجھے ایک چرواہا دکھائی دیا جواپنی بکریوں کو اسی چٹان کی طرف ہانک رہا تھا۔ اس کا چٹان سے وہی مقصد تھا جو میرا مقصود تھا۔ میں نے اس سے پوچھا: میں نے کہا: اے لڑ کے ! تم کس کے ہو؟ اس نے جواب دیا۔ قریش کے ایک آدمی کا ۔ابو بکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ اس غلام نے آدمی کا نام لیا تو میں اس کو پہچان گیا ۔۳۔ میں نے پوچھا: کیا تمہاری بکریوں میں دودھ ہے؟ اس نے جواب دیا: ہاں ! میں نے کہا: کیا تم میرے لئے دودھ نکال دو گے؟ اس نے کہا: ہاں! حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اس کو حکم دیا تو اس نے ایک بکری اپنی بکریوں میں سے قابو کر لی ۔ پھر میں نے اس کو بکری کے تھنوں سے غبار جھاڑنے کا حکم دیا۔ پھر میں نے اس کو حکم دیا کہ وہ اپنی ہتھیلیوں کو جھاڑے ۔اس نے کہا: یوں؟ پھر اس نے اپنے ایک ہاتھ سے دوسرے کو مارا پھر اس نے تھوڑا سا دودھ دوہا۔ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پانی کا ایک برتن تھا جس کے منہ پر کپڑا بندھا ہوا تھا۔ میں نے دودھ پر بہا دیا یہاں تک کہ وہ نیچے سے ٹھنڈا ہو گیا۔ پھر میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں پایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو چکے تھے ۔ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !نوش فرمائیے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرمایا یہاں تک کہ میں خوش ہو گیا ۔۴۔پھر میں نے عرض کیا اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خدا !کوچ کرنےکا آ گیا ہم نے کوچ کیا حالانکہ لوگ ہماری تلاش میں تھے۔ ان لوگوں میں سے سراقہ بن مالک بن جعشم کے سوا ہمیں کسی نے نہیں پایا۔ وہ اپنے گھوڑے پر سوار تھا۔ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ متلاشی ہم تک پہنچ گیا ہے۔ اور میں (یہ کہہ کر) رو پڑا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :تمہیں کیا بات رُلا رہی ہے؟ میں نے عرض کیا۔ بخدا! میں اپنی جان ( کے خوف سے) نہیں رورہا لیکن مجھے آپ (کی جان ) پر رونا آ رہا ہے ۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سراقہ کے لئے بد دعا فرمائی اور کہا۔اے اللہ ! تو اس کو ہماری طرف سے جس طرح تو چاہے ۔کافی ہو جا۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ پس سراقہ کا گھوڑا پیٹ تک زمین میں دھنس گیا ۔ سراقہ نے گھوڑے سے چھلانگ لگائی ۔ پھر اس نے کہا۔ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے معلوم ہے کہ یہ آپ ہی کا کام ہے ۔ پس آپ اللہ سے دعا کر یں کہ وہ مجھے اس مصیبت سے نجات دے دے۔ بخدا! میں اپنے پچھلے متلاشیوں پر (اس بات کو) ضرور پوشیدہ رکھوں گا۔ اور یہ میرا ترکش ہے آپ اس میں سے تیرلے لیں ۔ اور آپ عنقریب فلاں جگہ پر میرے اونٹ اور بکریوں پر سے گزریں گے آپ ان میں سے بھی اپنی ضرورت کا لے لیجئے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: ہمیں تیرے اونٹوں کی ضرورت نہیں ۔ پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے واپس مڑا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے دعا فرمائی ۔سراقہ واپس اپنے ساتھیوں میں چلا گیا۔ ۵۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم لے کے ہمراہ تھا۔ یہاں تک کہ ہم رات کے وقت مدینہ میں پہنچے۔ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جھگڑا شروع کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس کے گھر میں اتریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: آج کی رات میں بنی نجار میں اتروں گا جو کہ عبدالمطلب کے ماموں ہیں ۔ میں انہیں یہ اعزاز دوں گا۔ پھر لوگ چل نکلے یہاں تک کہ مدینہ میں داخل ہو گئے ۔ راستہ میں گھروں پر بچے اور خدام کھڑے کہہ ر ہے تھے۔محمد آ گئے ، اللہ کے رسول آ گئے ۔ پھر جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم چل پڑے تا آنکہ جہاں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مامور تھے وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ ڈالا ۔ ۶۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے سولہ یا سترہ مہینے نماز پڑھی تھی ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات محبوب تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبلہ رُخ ( کا حکم ) کر دیا جائے تو اللہ تعالی ٰ نے یہ آیات نازل فرمائی ۔( قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ ، فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا ، فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ) صدیق اکبر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔آپ ان کو قبلہ رخ ( کا حکم) کر دیا گیا تو بے وقوف لوگوں نے اعتراض کیا۔( مَا وَلاَهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمَ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا ، قُلْ لِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ، يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ) . ۷۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھی۔ پھر وہ نماز پڑھنے کے بعد باہر نکلا اور انصار کی ایک قوم پرگز راجو کہ عصر کی نماز میں بیت المقدس کی طرف رُخ کیے ہوئے تھے۔ تو اس آدمی نے کہا کہ وہ گواہی دیتا ہےکہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز ادا کی ہے اور بلاشبہ تحقیق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبلہ رُخ ( کا حکم) کر دیا گیا ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ پس وہ تمام لوگ پھر گئے یہاں تک کہ وہ تمام قبلہ رُخ ہو گئے ۔۸۔حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ ہمارے پاس مہاجرین میں سے بنی عبد الدار بن قصی کے بھائی حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ تشریف لائے ۔ ہم نے ان سے پوچھا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا ہے؟ انہوں نے جواباً کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ پر ہی ہیں ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہ میرے پیچھے (آ رہے) ہیں ۔ پھر ہمارے پاس ان کے بعد حضرت عمرو بن مکتوم رضی اللہ عنہ تشریف لائے جو کہ بنی فہر کے بھائی تھے اور نابینا تھے ۔ تو ہم نے ان سے پوچھا۔ آپ کے پیچھے جو ، رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ رضی اللہ عنہ کے صحابہ رضی اللہ عنہ میں انہوں نے کیا (ارادہ) کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا۔ وہ لوگ میرے پیچھے ہیں ۔ پھران کے بعد ہمارے پاس حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور بلال رضی اللہ عنہ تشریف لائے پھر ان کے بعد حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیس سواروں کی معیت تشریف لائے پھران کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے اور ان کے ساتھ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف نہیں لائے تھے یہاں تک کہ میں نے مفصل سورتوں میں سے کچھ سورتیں پڑھ لیں ۔ پھر ہم باہر نکلے تا آنکہ ہماری ملاقات قافلہ سے ہوئی تو ہم نے ان کو چوکنا اور چوکس پایا۔
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 39 - Al-Maghazi Book › 20- What they said in the migrations of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, and the firstborn of the firstborn, and the arrival of those who came · Hadith 37765
مصنف ابن أبي شيبة · 39- كِتَابُ الْمَغَازِي ‹ 20- مَا قَالُوا فِي مُهَاجِرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ ، وَقُدُومِ مَنْ قَدِمَ. · حديث 37766
حضرت ابواسحاق فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ میں سے سب سے پہلے ہمارے پاس مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اور ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور ان دونوں نے لوگوں کو قرآن پڑھانا شروع کیا۔ پھر حضرت عمار رضی اللہ عنہ ، بلال رضی اللہ عنہ اور سعد رضی اللہ عنہ تشریف لائے پھر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیس سواروں کی جمعیت میں تشریف لائے ۔ پھر رسول خد ا صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ۔ راوی کہتے ہیں ۔ میں نے اہل مدینہ کو اس بات سے زیادہ کسی چیز پرفرحاں و شاداں نہیں دیکھا۔ براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ۔ ( ابھی) کوئی ایک بھی صحابی نہیں آیا تھا اور میں نے(سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى) مفصل سورتوں میں پڑھ لی تھی۔
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 39 - Al-Maghazi Book › 20- What they said in the migrations of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, and the firstborn of the firstborn, and the arrival of those who came · Hadith 37766
مصنف ابن أبي شيبة · 39- كِتَابُ الْمَغَازِي ‹ 20- مَا قَالُوا فِي مُهَاجِرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ ، وَقُدُومِ مَنْ قَدِمَ. · حديث 37767
حضرت حسن سے روایت ہے کہ سراقہ بن مالک المدلجی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو بیان کیا کہ قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے متعلق چالیس اوقیہ مقررفرمائی ۔ کہتے ہیں ۔ میں بیٹھا ہوا تھا کہ اس دوران ایک آدمی میرے پاس آیا اور اس نے کہا۔ وہ آدمی جن کے بارے میں قریش نے اپنا اعلان ِ( انعام ) کیا ہے ۔ تمہارے قریب ہیں ۔ فلاں جگہ پر، کہتے ہیں ۔ میں اپنے گھوڑے کے پاس آیا اور گھوڑ اچَر رہا تھا۔ میں اس کو لے کر دوڑا پھر میں نے اپنے نیزے کو پکڑا۔ کہتے ہیں : میں اس پر سوار ہو گیا۔ اور میں نے اس ڈر سے نیزے کو کھینچنا شروع کیا کہ کہیں ان دونوں کے بارے میں میرے ساتھ کوئی شریک نہ ہو جائے۔فرماتے ہیں۔ پس جب میں نے ان دونوں کو دیکھ لیا تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ متلاشی ہے جو ہمیں تلاش کر رہا ہے۔ نبی گریم صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے اللہ ! جس طرح تو چاہتا ہے اس کو ہمارے طرف سے کافی ہو جا۔ سراقہ کہتے ہیں۔ میرا گھوڑ از مین میں دھنس گیا حالانکہ میں سخت زمین میں تھا۔ اور میں ایک پتھر پر گرا اور پلٹی کھائی تو میں نے عرض کیا۔ آپ اس ہستی سے دعا کر یں جس نے میرے گھوڑے کے ساتھ جو کیا ہے میں اس کو دیکھ رہا ہوں ۔ کہ وہ اس کو یہاں سے نکال دے۔ کہتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سراقہ کے لئے دُعا کی تو گھوڑا باہر آ گیا ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم یہ مجھے ہدیہ کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا۔ جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پس یہاں ہی رہو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں سے ہماری حالت کومخفی رکھنا ۔ ۲۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سمندر کے ساتھ ساحل کا راستہ پکڑ لیا۔ کہتے ہیں ۔ میں دن کے آغاز میں ان کا متلاشی تھا اور دن کے آخر میں ان کا محافظ تھا ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: جب ہم مد ینہ کو اپنا سفر بنا لیں تو اگر تمہاری رائے ہوتو ہمارے پاس آنا ۔ سراقہ کہتے ہیں ۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے اور اہل بدر ، اہل اُحد پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غلبہ حاصل ہوا۔ لوگ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گردوالوں نے اسلام قبول کر لیا۔ سراقہ کہتے ہیں ۔ مجھے یہ بات پہنچی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نبی مدلج کی طرف حضرت خالد بن الولید رضی اللہ عنہ کو بھیجنے کا ارادہ کر رہے ہیں ۔ کہتے ہیں۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض گیا۔ میں آپ کو انعام ( کا وعدہ) یاد دلاتا ہوں لوگ کہنے لگے ۔ رک جاؤ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: اس کو چھوڑ دو ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کیا ارادہ ہے؟ میں نے عرض کیا ۔ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ میری قوم کی طرف خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ اور مجھے یہ بات محبوب ہے کہ آپ ان کے ساتھ عہد و پیمان کر لیں ۔ پھر اگر ان کی قوم ایمان لے آئی تو وہ بھی ایمان لے آئیں گے ۔ اور اگر ان کی قوم ایمان نہ لائی تو پھر ان پر ان کی قوم کے دل سخت نہیں ہوں گے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ ااور ان سے فرمایا: اس کے ساتھ جاؤ اور جو یہ چاہتا ہے وہی معاملہ کرو۔ ۳۔ پس حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بنی مدلج کی طرف تشریف لے گئے اور ان سے یہ پیمان لیا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مدد نہیں کریں گے ۔اگر قریش اسلام لے آئے تو وہ بھی ان کے ساتھ اسلام لے آئیں گے ۔(اس پر) اللہ تعالی ٰ نے یہ آیات نازل کیں ۔( وَدُّوا لَوْ تَكْفُرُونَ كَمَا كَفَرُوا…… حَتَّى بَلَغَ…… إِلاَّ الَّذِينَ يَصِلُونَ إِلَى قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ ، أَوْ جَاؤُوكُمْ حَصِرَتْ صُدُورُهُمْ أَنْ يُقَاتِلُوكُمْ ، أَوْ يُقَاتِلُوا قَوْمَهُمْ ، وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَيْكُمْ فَلَقَاتَلُوكُمْ).حضرت حسن فرماتے ہیں ۔ وہ لوگ جن کے بارے میں حضرت صدور هم کہا گیا وہ بنو مد لج ہیں ۔ جوشخص بنی مدلج کے پاس پہنچ گیا سو وہ بھی ان کے جیسے معاہدہ میں ہوگا ۔
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 39 - Al-Maghazi Book › 20- What they said in the migrations of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, and the firstborn of the firstborn, and the arrival of those who came · Hadith 37767
مصنف ابن أبي شيبة · 39- كِتَابُ الْمَغَازِي ‹ 20- مَا قَالُوا فِي مُهَاجِرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ ، وَقُدُومِ مَنْ قَدِمَ. · حديث 37768
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ جب ہم غار میں تھے تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا۔ اگر ان لوگوں میں سے کوئی بھی اپنے قدموں کی طرف نظر کرے تو البتہ ہمیں اپنے قدموں کے نیچے پا لے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اے ابوبکر ! تیراان دو آدمیوں کے بارے میں کیا گمان ہے جن کا تیسر اخدا ہو ۔
أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ،
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 39 - Al-Maghazi Book › 20- What they said in the migrations of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, and the firstborn of the firstborn, and the arrival of those who came · Hadith 37768
مصنف ابن أبي شيبة · 39- كِتَابُ الْمَغَازِي ‹ 20- مَا قَالُوا فِي مُهَاجِرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ ، وَقُدُومِ مَنْ قَدِمَ. · حديث 37769
37769- حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : حدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ؛ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ كَانَ الَّذِي يَخْتَلِفُ بِالطَّعَامِ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ وَهُمَا فِي الْغَارِ.
حضرت ہشام اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن ابو بکر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس کھانا لے کر جایا کرتے تھے جبکہ وہ دونوں غار میں تھے۔
هِشَامٍ ← أَبُو أُسَامَةَ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 39 - Al-Maghazi Book › 20- What they said in the migrations of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, and the firstborn of the firstborn, and the arrival of those who came · Hadith 37769
مصنف ابن أبي شيبة · 39- كِتَابُ الْمَغَازِي ‹ 20- مَا قَالُوا فِي مُهَاجِرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ ، وَقُدُومِ مَنْ قَدِمَ. · حديث 37770
حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ سے (إِلاَّ تَنْصُرُوهُ)کی تفسیر کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت پرآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اول وقت کی حالت کا ذکر فرمایا۔ اور کہا: اللہ پاک ان کی مدد کرے گا ۔ اللہ اس کا مددگار ہے جس طرح دو میں سے دوسرے نے اس کی مدد کی ۔
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 39 - Al-Maghazi Book › 20- What they said in the migrations of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, and the firstborn of the firstborn, and the arrival of those who came · Hadith 37770
مصنف ابن أبي شيبة · 39- كِتَابُ الْمَغَازِي ‹ 20- مَا قَالُوا فِي مُهَاجِرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ ، وَقُدُومِ مَنْ قَدِمَ. · حديث 37771
37771- حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : مَكَثَ أَبُو بَكْرٍ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الْغَارِ ثَلاَثًا.
حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غار میں تین ( دن) ٹھہرے تھے۔
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 39 - Al-Maghazi Book › 20- What they said in the migrations of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, and the firstborn of the firstborn, and the arrival of those who came · Hadith 37771
مصنف ابن أبي شيبة · 39- كِتَابُ الْمَغَازِي ‹ 20- مَا قَالُوا فِي مُهَاجِرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ ، وَقُدُومِ مَنْ قَدِمَ. · حديث 37772
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ دونوں ( نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر رضی اللہ عنہ ) غار کے پاس پہنچے ۔فرماتے ہیں: وہاں پر سوراخ تھے ۔ راوی کہتے ہیں : حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس سوراخ میں اپنی ایڑی کو داخل کر لیا ۔ اور فرمایا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اگر کوئی ڈسنے یاڈ نک مارنے والا ہو تو مجھے ملے گا ۔
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 39 - Al-Maghazi Book › 20- What they said in the migrations of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, and the firstborn of the firstborn, and the arrival of those who came · Hadith 37772