37760- حدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي قُرَّةَ الْكِنْدِيِّ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ : كُنْتُ مِنْ أَبْنَاءِ أَسَاوِرَةِ فَارِسَ ، وَكُنْتُ فِي كُتَّابٍ وَمَعِي غُلاَمَانِ , وَكَانَا إِذَا رَجَعَا مِنْ عِنْدِ مُعَلِّمِهِمَا أَتَيَا قَسًّا ، فَدَخَلاَ عَلَيْهِ ، فَدَخَلْتُ مَعَهُمَا ، فَقَالَ : أَلَمْ أَنْهَكُمَا أَنْ تَأْتِيَانِي بِأَحَدٍ ؟ قَالَ : فَجَعَلْتُ أَخْتَلِفُ إِلَيْهِ ، حَتَّى إِذَا كُنْتُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْهُمَا ، قَالَ : فَقَالَ لِي : إِذَا سَأَلَكَ أَهْلُكَ : مَنْ حَبَسَكَ ؟ فَقُلْ : مُعَلِّمِي , وَإِذَا سَأَلَكَ مُعَلِّمُكَ : مَنْ حَبَسَكَ ؟ فَقُلْ : أَهْلِي. ثُمَّ إِنَّهُ أَرَادَ أَنْ يَتَحَوَّلَ , فَقُلْتُ لَهُ : أَنَا أَتَحَوَّلُ مَعَكَ , فَتَحَوَّلْتُ مَعَهُ ، فَنَزَلْنَا قَرْيَةً , فَكَانَتِ امْرَأَةٌ تَأْتِيهِ ، فَلَمَّا حُضِرَ ، قَالَ لِي : يَا سَلْمَانُ : احْفُرْ عِنْدَ رَأْسِي , فَحَفَرْتُ عِنْدَ رَأْسِهِ ، فَاسْتَخْرَجْتُ جَرَّةً مِنْ دَرَاهِمَ ، فَقَالَ لِي : صُبَّهَا عَلَى صَدْرِي , فَصَبَبْتُهَا عَلَى صَدْرِهِ , فَكَانَ يَقُولُ : وَيْلٌ لاِقْتِنَائِي ، ثُمَّ إِنَّهُ مَاتَ ، فَهَمَمْتُ بِالدَّرَاهِمِ أَنْ آخُذَهَا ، ثُمَّ إِنِّي ذَكَرْتُ فَتَرَكْتُهَا ، ثُمَّ إِنِّي آذَنْتُ الْقِسِّيسِينَ وَالرُّهْبَانَ بِهِ فَحَضَرُوهُ ، فَقُلْتُ لَهُمْ : إِنَّهُ قَدْ تَرَكَ مَالاً ، قَالَ : فَقَامَ شَبَابٌ فِي الْقَرْيَةِ ، فَقَالُوا : هَذَا مَالُ أَبِينَا , فَأَخَذُوهُ. قَالَ : فَقُلْتُ لِلرُّهْبَانِ : أَخْبِرُونِي بِرَجُلٍ عَالِمٍ أَتَّبِعْهُ ، قَالُوا : مَا نَعْلَمُ فِي الأَرْضِ رَجُلاً أَعْلَمَ مِنْ رَجُلٍ بِحِمْصَ , فَانْطَلَقْتُ إِلَيْهِ ، فَلَقِيتُهُ ، فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ ، قَالَ : فَقَالَ : أَوَ مَا جَاءَ بِكَ إِلاَّ طَلَبُ الْعِلْمِ ؟ قُلْتُ : مَا جَاءَ بِي إِلاَّ طَلَبُ الْعِلْمِ ، قَالَ : فَإِنِّي لاَ أَعْلَمُ الْيَوْمَ فِي الأَرْضِ أَعْلَمَ مِنْ رَجُلٍ يَأْتِي بَيْتَ الْمَقْدِسِ كُلَّ سَنَةٍ , إِنِ انْطَلَقْتَ الآنَ وَجَدْتَ حِمَارَهُ ، قَالَ : فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا أَنَا بِحِمَارِهِ عَلَى بَابِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ , فَجَلَسْتُ عِنْدَهُ ، وَانْطَلَقَ , فَلَمْ أَرَهُ حَتَّى الْحَوْلِ , فَجَاءَ ، فَقُلْتُ لَهُ : يَا عَبْدَ اللهِ , مَا صَنَعْتَ بِي ؟ قَالَ : وَإِنَّك لَهَاهُنَا ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَإِنِّي وَاللهِ مَا أَعْلَمُ الْيَوْمَ رَجُلاً أَعْلَمَ مِنْ رَجُلٍ خَرَجَ بِأَرْضِ تَيْمَاءَ , وَإِنْ تَنْطَلِقِ الآنَ تُوَافِقْهُ , وَفِيهِ ثَلاَثُ آيَاتٍ : يَأْكُلُ الْهَدِيَّةَ ، وَلاَ يَأْكُلُ الصَّدَقَةَ , وَعِنْدَ غُضْرُوفِ كَتِفِهِ الْيُمْنَى خَاتَِمُ النُّبُوَّةِ ، مِثْلُ بَيْضَةِ الْحَمَامَةِ ، لَوْنُهَا لَوْنُ جِلْدِهِ. قَالَ : فَانْطَلَقْتُ ، تَرْفَعُنِي أَرْضٌ وَتَخْفِضُنِي أُخْرَى ، حَتَّى مَرَرْتُ بِقَوْمٍ مِنَ الأَعْرَابِ ، فَاسْتَعْبَدُونِي فَبَاعُونِي ، حَتَّى اشْتَرَتْنِي امْرَأَةٌ بِالْمَدِينَةِ , فَسَمِعْتُهُمْ يَذْكُرُونَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ، وَكَانَ الْعَيْشُ عَزِيزًا ، فَقُلْتُ لَهَا : هَبِي لِي يَوْمًا ، قَالَتْ : نَعَمْ , فَانْطَلَقْتُ ، فَاحْتَطَبْتُ حَطَبًا فَبِعْتُهُ , وَصَنَعْتُ طَعَامًا ، فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ، وَكَانَ يَسِيرًا ، فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ قُلْتُ : صَدَقَةٌ ، قَالَ : فَقَالَ لأَصْحَابِهِ : كُلُوا , وَلَمْ يَأْكُلْ ، قَالَ : قُلْتُ : هَذَا مِنْ عَلاَمَتِهِ. ثُمَّ مَكَثْتُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ أَمْكُثَ ، ثُمَّ قُلْتُ لِمَوْلاَتِي : هَبِي لِي يَوْمًا ، قَالَتْ : نَعَمْ , فَانْطَلَقْتُ فَاحْتَطَبْتُ حَطَبًا فَبِعْتُهُ بِأَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، وَصَنَعْتُ بِهِ طَعَامًا , فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ جَالِسٌ بَيْنَ أَصْحَابِهِ ، فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، قَالَ : مَا هَذَا ؟ قُلْتُ : هَدِيَّةٌ , فَوَضَعَ يَدَهُ ، وَقَالَ لأَصْحَابِهِ : خُذُوا بِاسْمِ اللهِ , وَقُمْتُ خَلْفَهُ , فَوَضَعَ رِدَاءَهُ ، فَإِذَا خَاتَِمُ النُّبُوَّةِ ، فَقُلْتُ : أَشْهَدُ أَنَّك رَسُولُ اللهِ ، قَالَ : وَمَا ذَاكَ ؟ فَحَدَّثْتُهُ عَنِ الرَّجُلِ ، ثُمَّ قُلْتُ : أَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ فَإِنَّهُ حَدَّثَنِي أَنَّك نَبِيٌّ ، قَالَ : لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلاَّ نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ.
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں فارس کے گھڑ سواروں کی اولاد میں سے تھا۔ اور میں ایک مکتب میں تھا اور میرے ساتھ دولڑ کے ( اور ) تھے ۔ جب یہ دونوں لڑ کے اپنے مُعلم (استاد) کے پاس سے واپس آئے تو ایک پادری کے پاس آئے اور اس پر داخل ہوئے ۔ پس میں بھی ان کے ہمراہ اس پادری پر داخل ہوا۔ پادری نے کہا۔ کیا میں نے تم دونوں (لڑکوں ) کو اس بات سے منع نہیں کیا تھا کہ تم میرے پاس کسی کو لے کر آؤ؟ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے اس پادری کے پاس آنا جانا شروع کیا۔ یہاں تک کہ میں اس کو ان دونوں لڑکوں سے زیادہ محبوب ہو گیا ۔ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ۔ پادری نے مجھے کہا: جب تجھ سے تیرے گھر والے سوال کر یں کر تمہیں کس نے روکے رکھا؟ تو تم کہنا۔ میرے اُستاد نے ۔ اور جب تم سے تمہارا اُستاد پوچھے۔ تمہیں کس نے روکے رکھا؟ تو تم کہنا: میرے گھر والوں نے۔۲۔پھر اس پادری نے ( وہاں سے) منتقل ہونے کا ارادہ کیا۔ تو میں نے اس پادری سے کہا۔ میں ( بھی ) آپ کے ساتھ نقل مکانی کروں گا۔ پس میں نے اس کے ہمرانقل مکانی کی اور ہم ایک بستی میں اُترے۔ پس ایک عورت ( وہاں پر) اس کے پاس آتی تھی ۔ پھر جب اس پادری کی مرگ کا وقت قریب ہوا تو اس پادری نے مجھے کہا۔اے سلمان ! میرے سر کے پاس گڑھا کھودو۔ میں نے اس کے پاس گڑھا کھوداتو در ہموں کا ایک گھڑا نکلا ۔ پادری نے مجھ سے کہا۔ اس گھٹرے کو میرے سینہ پرانڈ یل دو ۔ میں نے وہ گھڑ اس کے سینہ پرانڈیل دیا۔ پھر پادری کہنے لگا۔ ہلاکت ہو میری ذخیرہ اندوزی کی ۔ پھر وہ پادری مر گیا۔ میں نے دراہم کو لینے کا ارادہ کیا۔ پھر مجھے اس کی بات یاد آئی تو میں نے دراہم کو چھوڑ دیا۔ پھر میں نے پادریوں اور عبادت گزاروں کو اس میت کی خبر دی تو وہ اس کے پاس حاضر ہوئے ۔ میں نے ان حاضرین سے کہا۔ یہ اس میت نے کچھ مال چھوڑا ہے۔ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: بستی میں سے کچھ نوجوان کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا: یہ تو ہمارے باپ کا مال ہے۔ پس انہوں نے وہ مال لے لیا۔ ۳۔حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے عبادت گزاروں سے کہا۔ مجھے کسی صاحب علم آدمی کا بتاؤ تا کہ میں اس کے پیچھے چلوں ۔انہوں نے جواب دیا۔ ہمیں روئے زمین پر حمص کے آدمی سے بڑا صاحب علم معلوم نہیں ہے ۔سو میں اس کی طرف چل دیا اور میں نے اس سے ملاقات کی ۔ اور اس کو یہ سارا قصہ سُنایا۔ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ۔ اس نے کہا۔ کیا تمہیں صرف علم کی طلب ( یہاں ) لائی ہے؟ میں نے جواباً کہا۔ مجھے صرف علم کی طلب ہی ( یہاں ) لائی ہے ۔اس نے کہا: میں تو آج روئے زمین پر اس ایک آدمی سے بڑا کسی کو عالم نہیں جانتا جو آدمی ہر سال بیت المقدس میں آتا ہے۔ اگر تم ابھی چل پڑو گے تو اس کے گدھے کو موجود پاؤ گے ۔ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ۔ میں چل پڑا تو ا چا نک میں نے بیت المقدس کے دروازہ پر اس کے گدھے کو موجودپایا۔ پس میں اس کے پاس بیٹھ گیا اور وہ آدمی چل دیا۔ میں نے اس آدمی کو پورا سال نہیں دیکھا۔ پھر وہ آدمی آیا تو میں نے اس سے کہا: اے بندہ ِخدا! تو نے میرے ساتھ کیا کیا ہے؟ اس نے پوچھا:اور( کیا) تم یہیں پر ( رہے) ہو؟ میں نے جواب دیا: ہاں! اس نے کہا: مجھے تو ، بخدا! اس آدمی سے بڑے عالم کا پتہ نہیں ہے جو کہ ارضِ تیماء میں ظاہر ہوا ہے ۔ اگر تم ابھی چل پڑو گے تو تم اس کو پالو گے اور اس میں تین نشانیاں ہوں گی ۔ و شخص ہد یہ کھائے گا ۔ اور صدقہ نہیں کھائے گا ۔ اور اس کے داہنے کندھے کی نرم ہڈی کے پاس مہر نبوت ہوگی ۔ جو کہ کبوتری کے انڈے کے مشابہ ہوگی اور اس کا رنگ کھال والا ہوگا ۔۴۔حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : پس میں چلا درانحالیکہ مجھے زمین کی پستی اور بلندی متاثر کرتی رہی ۔ یہاں تک میں دیہاتی لوگوں کے پاس سے گزرا تو انہوں نے مجھے غلام بنالیا پھر انہوں نے مجھے بیچ دیا۔ یہاں تک کہ مجھے مدینہ میں ایک عورت نے خرید لیا۔ میں نے لوگوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہوئے سُنا ۔ زندگی بہت سخت گزر رہی تھی ۔ میں نے اس عورت سے کہا: تم مجھے ایک دن ہدیہ کر دو ۔ اس نے کہا ٹھیک ہے ۔ میں چلا گیا اور لکڑیاں چُنی ۔ اور ان کو فروخت کیا ۔ اور کھانا تیار کیا۔ پھر اس کھانے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا۔ وہ کھانا تھوڑا سا تھا۔ میں نے وہ کھانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا۔صدقہ ہے: کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کھاؤ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود تناول نہیں فرمایا: فرماتے ہیں ۔ میں نے کہا: یہ اس شخص کی علامات میں سے ہے۔۵۔پھر جتنی دیر اللہ نے چاہا ٹھہرارہا پھر میں نے اپنی مالکن سے کہا۔ تم مجھے ایک دن ہد یہ کر دو ۔ اس نے کہا۔ٹھیک ہے۔ میں چل پڑا اورلکڑیاں اکھٹی کیں اور انہیں پہلے سے زیادہ قیمت پر فروخت کیا اور اس رقم کا کھانا تیار کیا۔ کھانا لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کے درمیان تشریف فرما تھے ۔ میں نے وہ کھانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا۔ یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا ۔ ہد یہ ہے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میں داخل کیا اور اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے فرمایا۔ اللہ کا نام لے کر شروع کر دو۔ ۶۔ اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے والی جانب کھڑا ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر مبارک ہٹائی تو اچانک مجھے مہر نبوت دکھائی دی ۔ میں نے کہا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا۔ یہ کیا معاملہ ہے؟ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس آدمی کے بارے میں بیان کیا پھر میں نے پوچھا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا وہ شخص جنت میں جائے گا؟ کیونکہ اس نے مجھے یہ بیان کیا تھا کہ آپ نبی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً ارشادفرمایا۔ جنت میں صرف مؤمن جان ہی داخل ہو گی ۔
سَلْمَانَ ← أَبِي قُرَّةَ الْكِنْدِيِّ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 39 - Al-Maghazi Book › 17- Islam, Salman, may God be pleased with him. · Hadith 37760