مصنف ابن أبي شيبة · 39- كِتَابُ الْمَغَازِي ‹ 44- مَا جَاءَ فِي خِلاَفَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ. · حديث 38229
38229- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، وَيَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ ، وَأَشْيَاخٌ ، قَالَوا : رَأَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي الْمَنَامِ ، فَقَالَ : رَأَيْتُ دِيكًا أَحْمَرَ نَقَرَنِي ثَلاَثَ نَقَرَاتٍ ، بَيْنَ الثَّنِيَّةِ وَالسُّرَّةِ ، قَالَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ ، أُمُّ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ : قُولُوا لَهُ فَلِيُوصِ ، وَكَانَتْ تَعْبُرُ الرُّؤْيَا ، فَلاَ أَدْرِي أَبَلَغَهُ ذَلِكَ ، أَمْ لاَ ، فَجَاءَهُ أَبُو لُؤْلُؤَةَ الْكَافِرُ الْمَجُوسِيُّ ، عَبْدُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، فَقَالَ : إِنَّ الْمُغِيرَةَ قَدْ جَعَلَ عَلَيَّ مِنَ الْخَرَاجِ مَا لاَ أُطِيقُ ، قَالَ : كَمْ جَعَلَ عَلَيْك ؟ قَالَ ، كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : وَمَا عَمَلُك ؟ قَالَ : أَجُوبُ الأَرْحَاءَ ، قَالَ : وَمَا ذَاكَ عَلَيْك بِكَثِيرٍ ، لَيْسَ بِأَرْضِنَا أَحَدٌ يَعْمَلُهَا غَيْرُك ، أَلاَ تَصْنَعُ لِي رَحًى ؟ قَالَ : بَلَى ، وَاللهِ لأَجْعَلَنَّ لَك رَحًى يَسْمَعُ بِهَا أَهْلُ الآفَاقِ. فَخَرَجَ عُمَرُ إِلَى الْحَجِّ ، فَلَمَّا صَدَرَ اضْطَجَعَ بِالْمُحَصَّبِ ، وَجَعَلَ رِدَاءَهُ تَحْتَ رَأْسِهِ ، فَنَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ فَأَعْجَبَهُ اسْتِوَاؤُهُ وَحُسْنُهُ ، فَقَالَ : بَدَأَ ضَعِيفًا ، ثُمَّ لَمْ يَزَلَ اللَّهُ يَزِيدُهُ وَيُنْمِيهِ حَتَّى اسْتَوَى ، فَكَانَ أَحْسَنَ مَا كَانَ ، ثُمَّ هُوَ يَنْقُصُ حَتَّى يَرْجِعَ كَمَا كَانَ ، وَكَذَلِكَ الْخَلْقُ كُلُّهُ ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ إِنَّ رَعِيَّتِي قَدْ كَثُرَتْ وَانْتَشَرَتْ ، فَاقْبِضْنِي إِلَيْك غَيْرَ عَاجِزٍ ، وَلاَ مُضَيِّعٍ. فَصَدَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَذُكِرَ لَهُ أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الْمُسْلِمِينَ مَاتَتْ بِالْبَيْدَاءِ ، مَطْرُوحَةً عَلَى الأَرْضِ ، يَمُرُّ بِهَا النَّاسُ لاَ يُكَفِّنُهَا أَحَد ، وَلاَ يُوَارِيهَا أَحَدٌ ، حَتَّى مَرَّ بِهَا كُلَيْبُ بْنُ الْبُكَيْرِ اللَّيْثِي ، فَأَقَامَ عَلَيْهَا ، حَتَّى كَفَّنَهَا وَوَارَاهَا ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعُمَرَ ، فَقَالَ : مَنْ مَرَّ عَلَيْهَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ؟ فَقَالُوا : لَقَدْ مَرَّ عَلَيْهَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ ، فِيمَنْ مَرَّ عَلَيْهَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَدَعَاهُ ، وَقَالَ : وَيْحَكَ ، مَرَرْتَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مَطْرُوحَةً عَلَى ظَهْرِ الطَّرِيقِ ، فَلَمْ تُوَارِهَا وَلَمْ تُكَفِّنْهَا ؟ قَالَ : مَا شَعَرْتُ بِهَا ، وَلاَ ذَكَرَهَا لِي أَحَدٌ ، فَقَالَ : لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لاَ يَكُونَ فِيك خَيْرٌ ، فَقَالَ : مَنْ وَارَاهَا وَمَنْ كَفَّنَهَا ؟ قَالَوا : كُلَيْبُ بْنُ بُكَيْر اللَّيْثِيُّ ، قَالَ : وَاللهِ لَحَرِيٌّ أَنْ يُصِيبَ كُلَيْبٌ خَيْرًا. فَخَرَجَ عُمَرُ يُوقِظُ النَّاسَ بِدِرَّتِهِ لِصَلاَةِ الصُّبْحِ ، فَلَقِيَهُ الْكَافِرُ أَبُو لُؤْلُؤَةَ ، فَطَعَنْهُ ثَلاَثَ طَعَنْاتٍ بَيْنَ الثَّنِيَّةِ وَالسُّرَّةِ ، وَطَعَنْ كُلَيْبَ بْنَ بُكَيْر فَأَجْهَزَ عَلَيْهِ ، وَتَصَايَحَ النَّاسُ ، فَرَمَى رَجُلٌ عَلَى رَأْسِهِ بِبُرْنُسٍ ، ثُمَّ اضْطَبَعَهُ إِلَيْهِ ، وَحُمِلَ عُمَرُ إِلَى الدَّارِ ، فَصَلَّى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ بِالنَّاسِ ، وَقِيلَ لِعُمَرَ : الصَّلاَةُ ، فَصَلَّى وَجُرْحُهُ يَثْعَبُ ، وَقَالَ : لاَ حَظَّ فِي الإِسْلاَمِ لِمَنْ لاَ صَلاَةَ لَهُ ، فَصَلَّى وَدَمُهُ يَثْعَبُ ، ثُمَّ انْصَرَفَ النَّاسُ عَلَيْهِ ، فَقَالُوا : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنَّهُ لَيْسَ بِكَ بَأْسٌ ، وَإِنَّا لَنَرْجُو أَنْ يُنْسِئَ اللَّهُ فِي أَثَرِكَ ، وَيُؤَخِّرَك إِلَى حِينٍ ، أَوْ إِلَى خَيْرٍ. فَدَخَلَ عَلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ ، وَكَانَ يُعْجَبُ بِهِ ، فَقَالَ : اُخْرُجْ ، فَانْظُرْ مَنْ صَاحِبِي ؟ ثُمَّ خَرَجَ فَجَاءَ ، فَقَالَ : أَبْشِرْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، صَاحِبُك أَبُو لُؤْلُؤَةَ الْمَجُوسِيُّ ، غُلاَمُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، فَكَبَّرَ حَتَّى خَرَجَ صَوْتُهُ مِنَ الْبَابِ ، ثُمَّ قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَجْعَلْهُ رَجُلاً مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، يُحَاجُّنِي بِسَجْدَةٍ سَجَدَهَا لِلَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ ، فَقَالَ : أَكَانَ هَذَا عَنْ مَلأٍ مِنْكُمْ ؟ فَقَالُوا : مَعَاذَ اللهِ ، وَاللهِ لَوَدِدْنَا أَنَّا فَدَيْنَاك بِآبَائِنَا ، وَزِدْنَا فِي عُمْرِكَ مِنْ أَعْمَارِنَا ، إِنَّهُ لَيْسَ بِكَ بَأْسٌ. قَالَ : أَيْ يَرْفَأُ وَيْحَك ، اسْقِنِي ، فَجَاءَهُ بِقَدَحٍ فِيهِ نَبِيذٌ حُلْوٌ فَشَرِبَهُ ، فَأَلْصَقَ رِدَاءَهُ بِبَطْنِهِ ، قَالَ : فَلَمَّا وَقَعَ الشَّرَابُ فِي بَطْنِهِ خَرَجَ مِنَ الطَّعَنْاتِ ، قَالَوا : الْحَمْدُ لِلَّهِ ، هَذَا دَمٌ اسْتَكَنَ فِي جَوْفِكَ ، فَأَخْرَجَهُ اللَّهُ مِنْ جَوْفِكَ ، قَالَ : أَيْ يَرْفَأُ ، وَيْحَك اسْقِنِي لَبَنًا ، فَجَاءَ بِلَبَنٍ فَشَرِبَهُ ، فَلَمَّا وَقَعَ فِي جَوْفِهِ خَرَجَ مِنَ الطَّعَنْاتِ ، فَلَمَّا رَأَوْا ذَلِكَ عَلِمُوا أَنَّهُ هَالِكٌ. قَالَوا : جَزَاك اللَّهُ خَيْرًا ، قَدْ كُنْتَ تَعْمَلُ فِينَا بِكِتَابِ اللهِ ، وَتَتَّبِعُ سُنَّةَ صَاحِبَيْك ، لاَ تَعْدِلُ عَنْهَا إِلَى غَيْرِهَا ، جَزَاك اللَّهُ أَحْسَنَ الْجَزَاءِ ، قَالَ : بِالإِمَارَةِ تَغْبِطُونَنِي ، فَوَاللهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي أَنْجُو مِنْهَا كَفَافًا لاَ عَلَيَّ ، وَلاَ لِي ، قُومُوا فَتَشَاوَرُوا فِي أَمْرِكُمْ ، أَمِّرُوا عَلَيْكُمْ رَجُلاً مِنْكُمْ ، فَمَنْ خَالَفَهُ فَاضْرِبُوا رَأْسَهُ ، قَالَ : فَقَامُوا ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ مُسْنِدُهُ إِلَى صَدْرِهِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ : أَتُؤَمِّرُونَ وَأَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ حَيٌّ ؟ فَقَالَ عُمَرُ : لاَ ، وَلِيُصَلِّ صُهَيْبٌ ثَلاَثًا ، وَانْتَظِرُوا طَلْحَةَ ، وَتَشَاوَرُوا فِي أَمْرِكُمْ ، فَأَمِّرُوا عَلَيْكُمْ رَجُلاً مِنْكُمْ ، فَإِنْ خَالَفَكُمْ فَاضْرِبُوا رَأْسَهُ ، قَالَ : اذْهَبْ إِلَى عَائِشَةَ ، فَاقْرَأْ عَلَيْهَا مِنِّي السَّلاَمَ ، وَقُلْ : إِنَّ عُمَرَ يَقُولُ : إِنْ كَانَ ذَلِكَ لاَ يَضُرُّ بِكِ ، وَلاَ يَضِيقُ عَلَيْكِ ، فَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ أُدْفَنَ مَعَ صَاحِبَي ، وَإِنْ كَانَ يَضُرُّ بِكِ وَيَضِيقُ عَلَيْكِ ، فَلَعَمْرِي لَقَدْ دُفِنَ فِي هَذَا الْبَقِيعِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم وَأُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْ عُمَرَ ، فَجَاءَهَا الرَّسُولُ ، فَقَالَتْ : إِنَّ ذَلِكَ لاَ يَضُرُّ ، وَلاَ يَضِيقُ عَلَيَّ ، قَالَ : فَادْفِنُونِي مَعَهُمَا ، قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ : فَجَعَلَ الْمَوْتُ يَغْشَاهُ ، وَأَنَا أُمْسِكُهُ إِلَى صَدْرِي ، قَالَ : وَيْحَك ضَعْ رَأْسِي بِالأَرْضِ ، قَالَ : فَأَخَذَتْهُ غَشْيَةٌ ، فَوَجَدْتُ مِنْ ذَلِكَ ، فَأَفَاقَ ، فَقَالَ : وَيْحَك ، ضَعْ رَأْسِي بِالأَرْضِ ، فَوَضَعْتُ رَأْسَهُ بِالأَرْضِ ، فَعَفَّرَهُ بِالتُّرَابِ ، فَقَالَ : وَيْلُ عُمَرَ ، وَوَيْلُ أُمِّهِ إِنْ لَمْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُ. قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو : وَأَهْلُ الشُّورَى : عَلِيٌّ ، وَعُثْمَان ، وَطَلْحَةُ ، وَالزُّبَيْرُ ، وَسَعْدٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَن بْنُ عَوْفٍ.
حضرت یحییٰ بن عبدالرحمٰن بن حاطب اور دوسرے بزرگ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے شہادت سے پہلے خواب میں دیکھا کہ ایک مرغے نے ان کی ناف اور سینے کے درمیان چونچ ماری ہے ۔ حضرت اسماء بنت عمیس تعبیر کی ماہرتھیں ، انہوں نے یہ خواب سنا تو فرمایا کہ ان سے کہو کہ وصیت کر دیں ۔ میں نہیں جانتا کہ یہ تعبیران تک پہنچی یا نہیں ۔ کچھ دنوں بعد مغیرہ بن شعبہ کا غلام ابو لؤلؤ ،حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ تم کیا کرتے ہو؟ اس نے کہا میں چکیاں بناتا ہوں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر تو بہت زیادہ نہیں کیونکہ یہاں تمہارے علاوہ کوئی یہ کام نہیں کرتا ،کیاتم مجھے ایک چکی بنا کر دو گے؟ اس نے کہا میں آپ کوایسی چکی بنا کر دوں گا کہ اس کی شہرت سارے عالم میں ہوگی ۔۲) پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ حج کے لئے چل پڑے پس جب آپ رضی اللہ عنہ پہنچے تو آپ رضی اللہ عنہ رمی جمار کی جگہ لیٹ گئے اور اپنی چادر کو اپنے سر کے نیچے رکھ لیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے چاند کی طرف دیکھا تو آپ رضی اللہ عنہ کو اس کی خوبصورتی اور برابری بہت پیاری لگی اس پر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ میرا بتداء میں کمزور سا ظاہر ہوتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اس میں اضافہ کرتے رہتے ہیں اور اس کو بڑھاتے رہتے ہیں یہاں تک کہ یہ برابر ہو جاتا ہے۔ اور پھر یہ کمال حسن تک پہنچ جا تا ہے ۔ پھر یہ کم ہونا شروع ہوتا ہے یہاں تک دوبارہ و یسا ہی ( پہلے جیسا ) ہو جا تا ہے ۔ ساری مخلوق کی حالت ایسی ہی ہے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور عرض کیا۔اے اللہ ! میری رعایا بہت زیادہ ہوگئی ہے ۔ اور بہت پھیل گئی ہے پس تو مجھے اپنی طرف واپس بلالے عاجز اور ضائع کیے بغیر ۔۳) پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ مدینہ واپس آئے تو ان کے سامنے ذکر کیا گیا کہ مسلمانوں کی ایک عورت مقام بیداء میں مر گئی تھی ، وہ زمین پر پڑی ہوئی تھی اور لوگ اس کے پاس سے گزرتے جارہے تھے۔ کسی نے بھی اس کو کفن نہ دیا اور نہ ہی اس کو دفنایا یہاں تک کہ حضرت کلیب بن بکیر لیثی اس عورت کے پاس سے گزرے تو وہ اس کے پاس ٹھہرے رہے یہاں تک کہ انہوں نے اس کو کفنایا اور دفنایا۔ یہ بات حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے ذکر کی گئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا۔ مسلمانوں میں سے کون لوگ اس کے پاس سے گزرے تھے؟ لوگوں نے جواب دیا۔ اس کے پاس سے گزرنے والے لوگوں میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کو بلایا اورفرمایا تو ہلاک ہو جائے ۔ تو ایک مسلمان عورت پر سے جو راستہ میں زمین پر گری پڑی تھی گزرا اور تو نے اس کا کفنایا ، دفنایا کیوں نہیں؟ انہوں نے جواب دیا۔ مجھے تو اس کا پتہ ہی نہیں چلا اور نہ ہی مجھ سے کسی نے اس کے بارے میں ذکر کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں تو خیر سے خالی نہ ہو۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا۔ اس عورت کو کس نے کفنایا اور دفتایا؟ لوگوں نے جواب دیا کہ کلیب بن بکیر لیثی نے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خدا کی قسم! کلیب اس بات کا حق دار ہے کہ اس کو خیر پہنچے۔۴) پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کو صبح کی نماز کے لئے بیدار کرنے کے لئے نکلے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ کوابولولو کافر ملا اور اس نے آپ رضی اللہ عنہ کی ناف اور سینے کے درمیان تین وار کئے ۔ اور حضرت کلیب بن بکیر کو مارا اور ان کا کام تمام کر دیا۔لوگوں نے آوازیں بلند کیں تو ایک آدمی نے اس پر بڑی چادر پھینک دی۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اٹھا کر گھر لے جایا گیا ۔ اور حضرت عبد الرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی ۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا۔ نماز ! تو آپ رضی اللہ عنہ نے اس حالت میں نماز پڑھی کہ آپ رضی اللہ عنہ کے زخموں سے خون بہہ رہا تھا ۔ اور آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا ۔ جس آدمی کی نماز نہیں ، اس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ۔ پس آپ رضی اللہ عنہ نے اس حالت میں نماز ادا فرمائی کہ آپ رضی اللہ عنہ کا خون ٹپک رہا تھا۔ پھر لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے۔ اے امیر المؤمنین! آپ کو کوئی زخم نہیں ہیں ۔ اور یقینا ً ہمیں امید ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے فیض کو مزید باقی رکھے گا اور آپ رضی اللہ عنہ کومزید ایک وقت تک یا ایک خیر ( کے کام ) تک مہلت دے گا ۔۵) پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے ۔۔۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ابن عباس رضی اللہ عنہ سے محبت تھی ۔۔۔۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم دیکھو کہ مجھے قتل کر نے والا کون ہے؟ چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنہ باہر چلے گئے پھر واپس آئے تو فرمایا۔اے امیر المؤمنین! آپ کو خوشخبری ہو کہ آپ کا قاتل حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا غلام ابولؤلؤ مجوسی ہے۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ اکبر کہا۔ یہاں تک ( بلند آواز میں کہا کہ) آپ رضی اللہ عنہ کی آواز دروازے سے باہر نکل گئی پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ تمام تعریفیں اس خدا کے لئے ہیں جس نے قاتل کو مسلمان آدمی نہیں بنایا کہ بروز قیامت وہ میرے ساتھ کسی ایسے سجدہ کی وجہ سے مخاصمت کرتا جو اس سے صرف خدا کے لئے کیا ہوتا۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا۔ کیا یہ آدمی تمہارے قوم میں سے ہے؟ لوگوں نے کہا۔ اللہ کی پناہ ! ہم تو اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ ہم آپ پر اپنے آباء کو فداء کر دیں اور آپ کی عمر میں اپنی عمروں سے اضافہ کردیں ۔ آپ کوکوئی زیادہ زخم نہیں ہیں ۔ ۶) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا۔ اے میرفاء! تو مر جائے ! مجھے کچھ پلاؤ۔ چنانچہ وہ آپ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ایک پیالہ لے کر حاضر ہوا جس میں بیٹھی نبیذ تھی پس آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو پیا۔ اور آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی چادر کو اپنے پیٹ کے ساتھ چمٹالیا۔ راوی کہتے ہیں : پس جب یہ مشروب آپ رضی اللہ عنہ پیٹ میں پہنچا تو یہ زخموں سے باہر نکل آیا۔لوگوں نے کہا۔الحمد للہ ۔ یہ خون آپ کے پیٹ میں ٹھہرا ہوا تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کو آپ کے پیٹ سے باہر نکال دیا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا۔اے یرفاء! تو مر جائے ۔ مجھے دودھ پلاؤ ۔ چنانچہ وہ دودھ لے کر حاضر ہوا ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو نوش فرمایا ۔ پس جب وہ بھی آپ کے پیٹ میں پہنچا تو زخموں سے باہر آ گیا۔ چنانچہ لوگوں نے یہ منظر دیکھا تو انہیں معلوم ہو گیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ (اب) فوت ہو جائیں گے۔ ۷) لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین بدلہ عطا کرے۔ یقینا ً آپ ہمارے درمیان اللہ کی کتاب پر عمل کرتے تھے اور اپنے دو پیشواؤں کی سنت کی پیروی کرتے تھے۔ اس کے سوا آپ کسی چیز کی طرف نہیں جھکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین بدلہ عطا کرے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا۔ کیا تم لوگ امارت کی وجہ سے مجھ پرشک کر رہے ہو؟ خدا کی قسم ! مجھے تو یہ بات محبوب ہے کہ میں امارت ( کے حساب ) سے برابر برابر نکل جاؤں۔ نہ مجھے کوئی نفع ہو نہ کوئی نقصان ہو ۔ تم اٹھ جاؤ اور اپنے معاملہ میں مشاورت کرو ۔ تم اپنے میں سے ایک آدمی کو خود پر امیر بنالو۔ پھر جو کوئی اس کی مخالفت کرے تو تم اس کی گردن مار دو۔ راوی کہتے ہیں : پس لوگ اٹھ گئے اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے سینہ کی طرف آپ رضی اللہ عنہ نے تکیہ لگایا ہوا تھا۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا۔ کیا تم امیر مقرر کر رہے ہو جبکہ امیرالمؤمنین زندہ ہیں؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا نہیں! اور صہیب کو چاہیے کہ تین دن لوگوں کو نماز پڑھائے ۔اور حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کا انتظار کرواور (پھر ) تم اپنے معاملہ میں باہم مشاورت کرو ۔اور تم خود پر اپنے میں سے ایک آدمی کو امیر مقر کر لو پھر اگر کوئی تمہارے مخالفت کرے تو اس کے سر کو اڑا دو ۔ ۸) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا۔ تم جاؤ امی عائشہ رضی اللہ عنہ کی طرف اور انہیں میری طرف سے سلام کہواور کہو کہ عمر رضی اللہ عنہ کہہ رہا ہے اگر آپ کو تکلیف اورتنگی نہ ہوتو میں اس بات کو پسند کرتا ہوں ۔ کہ میں اپنے دو ساتھیوں ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ ) کے ساتھ دفن کیا جاؤں ۔اوراگر آپ کو تکلیف اور تنگی ہو تو میری عمر کی قسم ! بقیع میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہ اور امہات المؤمنین میں سے ایسے لوگ دفن ہوئے ہیں جو عمر سے بہتر تھے ۔ پس قاصد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پہنچا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہا۔ مجھے اس بات میں قطعاً کوئی تکلیف اورتنگی نہیں ہے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم لوگ مجھے ان دونوں کے ہمراہ دفن کر دینا۔۹) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ۔ پھر موت نے ان کو آ ڈھانپا اور میں نے ان کو اپنے سینہ کی طرف اٹھایا ہوا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا۔تو مر جائے ۔ میرا سرزمین پر رکھ دے۔ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کوغشی طاری ہوگئی تو میں اسی طرح رہا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ کو افاقہ ہوا ۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ۔ تو مر جائے ۔میرا سرزمین پر رکھ دے ۔ پس میں نے آپ رضی اللہ عنہ کا سرزمین پر رکھ دیا اور آپ رضی اللہ عنہ نے سرکو خاک آلود کر لیا۔ اور فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ نے عمر کو معاف نہ کیا تو عمر ہلاک ہو جائے گا اور اس کے ماں ہلاک ہو جائے گی ۔۱۰) محمد بن عمرو کہتے ہیں : اہل شوری ٰیہ تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ ، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ ،حضرت سعد رضی اللہ عنہ ، حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ ۔
يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ وَأَشْيَاخٌ ← أَبُو سَلَمَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 39 - Al-Maghazi Book › 44- What was stated in the succession of Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 38229
