مصنف ابن أبي شيبة · 39- كِتَابُ الْمَغَازِي ‹ 44- مَا جَاءَ فِي خِلاَفَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ. · حديث 38217
38217- حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ سَعيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ ؛ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَامَ خَطِيبًا يَوْمَ جُمُعَةٍ ، أَوْ خَطَبَ يَوْمَ جُمُعَةٍ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ ذَكَرَ نَبِيَّ اللهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبَا بَكْرٍ ، ثُمَّ قَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ رُؤْيَا كَأَنَّ دِيكًا أَحْمَرَ نَقَرَنِي نَقْرَتَيْنِ ، وَلاَ أَرَى ذَلِكَ إِلاَّ لِحُضُورِ أَجَلِي ، وَإِنَّ النَّاسَ يَأْمُرُونَنِي أَنْ أَسْتَخْلِفَ ، وَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَكُنْ لِيُضَيِّعَ دِينَهُ وَخِلاَفَتَهُ ، وَالَّذِي بَعَثَ بِهِ نَبِيَّهُ صلى الله عليه وسلم ، فَإِنْ عُجِّلَ بِي أَمْرٌ ، فَالْخِلاَفَةُ شُورَى بَيْنَ هَؤُلاَءِ الرَّهْطِ السِّتَّةِ ، الَّذِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ ، فَأَيُّهُمْ بَايَعْتُمْ لَهُ ، فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا ، وَقَدْ عَرَفْتُ أَنَّ رِجَالاً سَيَطْعَنْونَ فِي هَذَا الأَمْرِ ، وَإِنِّي قَاتَلْتُهُمْ بِيَدِي هَذِهِ عَلَى الإِسْلاَمِ ، فَإِنْ فَعَلُوا ذَلِكَ فَأُولَئِكَ أَعْدَاءُ اللهِ الْكَفَرَةُ الضُّلاَّلُ. إنِّي وَاللهِ مَا أَدَعُ بَعْدِي أَهَمَّ إِلَيَّ مِنْ أَمْرِ الْكَلاَلَةِ ، وَقَدْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم ، فَمَا أَغْلَظَ لِي فِي شَيْءٍ مَا أَغْلَظَ لِي فِيهَا ، حَتَّى طَعَنْ بِأُصْبُعِهِ فِي جَنْبِي ، أَوْ صَدْرِي ، ثُمَّ قَالَ : يَا عُمَرُ ، تَكْفِيك آيَةُ الصَّيْفِ الَّتِي أُنْزِلَتْ فِي آخِرِ النِّسَاءِ ، وَإِنْ أَعِشْ فَسَأَقْضِي فِيهَا قَضِيَّةً لاَ يَخْتَلِفُ فِيهَا أَحَدٌ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ ، أَوْ لاَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ. ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أُشْهِدُك عَلَى أُمَرَاءِ الأَمْصَارِ ، فَإِنِّي إِنَّمَا بَعَثْتُهُمْ لِيُعَلِّمُوا النَّاسَ دِينَهُمْ ، وَسُنَّةَ نَبِيِّهِمْ صلى الله عليه وسلم ، وَيَقْسِمُوا فِيهِمْ فَيْأَهُمْ ، وَيَعْدِلُوا فِيهِمْ ، فَمَنْ أَشْكَلَ عَلَيْهِ شَيْءٌ رَفَعَهُ إِلَيَّ. ثُمَّ قَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّكُمْ تَأْكُلُونَ شَجَرَتَيْنِ لاَ أَرَاهُمَا إِلاَّ خَبِيثَتَيْنِ ؛ هَذَا الثُّومُ وَهَذَا الْبَصَلُ ، لَقَدْ كُنْت أَرَى الرَّجُلَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم يُوجَدُ رِيحُهُ مِنْهُ ، فَيُؤْخَذُ بِيَدِهِ حَتَّى يُخْرَجَ بِهِ إِلَى الْبَقِيعِ ، فَمَنْ كَانَ آكِلْهُمَا لاَ بُدَّ فَلِيُمِتْهُمَا طَبْخًا. قَالَ : فَخَطَبَ بِهَا عُمَرُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَأُصِيبَ يَوْمَ الأَرْبِعَاءِ ، لأَرْبَعٍ بَقِينَ لِذِي الْحَجَّةِ.
حضرت معدان بن ابی طلحہ یعمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے یا آپ رضی اللہ عنہ نے جمعہ کا خطبہ دیا۔۔۔پس اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا۔اے لوگو! میں نے ایک خواب دیکھا ہے۔ گویا کہ ایک مرغ تھا اس نے مجھے دو مرتبہ ٹھونگ ماری اور میں اس خواب کو اپنی عمر کے پورا ہونے سے ہی کنایہ دیکھ رہا ہوں اور لوگ مجھے کہہ رہے ہیں کہ میں خلیفہ مقرر کر دوں ۔ یقین کرو کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کو خلافت کو ضائع نہیں کرے گا اور اس چیز کو بھی ضائع نہیں کرے گا جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا ہے ۔ پس اگر مجھے جلد ہی موت نے آلیا تو پھر خلافت ان چھ لوگوں کے درمیان مشاورت کے ساتھ (طے ) ہوگی جن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رضا مندی کے ساتھ رخصت ہوئے ۔ان میں سے جس کی بھی تم بیعت کر لوتو پھر اس کی بات سنو اور مانو ۔ یقینا ً مجھے معلوم ہے کہ عنقریب کچھ لوگ اس معاملہ میں طعن کریں گے ۔ اگر یہ لوگ ایسا کریں گے تو یہ اللہ کے دشمن ، کافر اور گمراہ ہوں گے ۔۲) میں نے اپنے بعد کلالہ کے معاملہ سے زیادہ اہم بحث نہیں چھوڑی اور تحقیق میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہ سوال کیا تھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی چیز میں اتنی سختی نہیں کی جو سختی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ اس ( کلالہ ) میں فرمائی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ اے عمر رضی اللہ عنہ تمہیں سورۃ نساء کے آخر میں نازل ہونے والی آیتہ الصیف کافی ہے ۔ ‘‘ اور اگر میں مزید زندہ رہا تو عنقریب میں کلالہ کے بارے میں ایسا فیصلہ کر جاؤں گا کہ پھر کوئی اس مسئلہ میں اختلاف نہیں کرے گا ۔ چاہے وہ قرآن پڑھا ہو یا نہ پڑھا ہو۔ ۳) پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا۔۔۔ اے اللہ! میں تجھے شہروں کے امراء پر گواہ بناتا ہوں ۔ کیونکہ میں نے انہیں صرف اس لئے بھیجا تھا تاکہ وہ لوگوں کو ان کا دین اور ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سکھائیں ۔ اوران کی فئی ان ہی میں تقسیم کریں اور ان میں انصاف کریں اور انہیں جس بات کا اشکال ہو وہ بات مجھ تک لائیں ۔۴) پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا۔اے لوگو! تم دو درخت ( پیداوار ) ایسے کھاتے ہو کہ جن کو میں خبیث ( نا پسند ید ہ ) ہی خیال کرتا ہوں ۔ یہ تھوم اور یہ پیاز ہے یقینا ً میں ایک آدمی کو عہد پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم میں دیکھتا کہ اس سے یہ بو آتی تو اس کو ہاتھ سے پکڑ کر باہر لے جایا جاتا یہاں تک کہ اس کو بقیع کی طرف نکال دیا جاتا ۔ پس جو شخص ان کو ضرور کھانا چاہے تو پکا کر ان کی بوکو مارڈالے۔۵) راوی کہتے ہیں : پس یہ خطبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن ارشاد فرمایا اور بدھ کے روز آپ رضی اللہ عنہ کو زخمی کر دیا گیا ۔ ابھی ذی الحجہ میں چار دن باقی تھے ۔
سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← ابْنُ عُلَيَّةَ،
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 39 - Al-Maghazi Book › 44- What was stated in the succession of Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 38217
