مصنف ابن أبي شيبة · 39- كِتَابُ الْمَغَازِي ‹ 41- مَا ذَكْرُوا فِي أَهْلِ نَجْرَانَ ، وَمَا أَرَادَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِهِمْ. · حديث 38169
38169- حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُلاَعَنْ أَهْلَ نَجْرَانَ قَبِلُوا الْجِزْيَةَ أَنْ يُعْطُوهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : لَقَدْ أَتَانِي الْبَشِيرُ بِهَلَكَةِ أَهْلِ نَجْرَانَ ، لَوْ تَمُّوا عَلَى الْمُلاَعَنْة ، حَتَّى الطَّيْرِ عَلَى الشَّجَرِ ، أَوِ الْعُصْفُورِ عَلَى الشَّجَرِ ، وَلَمَّا غَدَا إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم أَخَذَ بِيَدِ حَسَنٍ وَحُسَيْنٍ ، وَكَانَتْ فَاطِمَةُ تَمْشِي خَلْفَهُ.
حضرت شعبی رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل نجران کے ساتھ مباہلہ کرنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کو جزیہ ادا کرنا قبول کر لیا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”تحقیق مجھے ایک بشارت دینے والے نے اہل نجران کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی اگر یہ لوگ مباہلہ میں مکمل شریک ہو جاتے حتی کہ درختوں پر پر ندے بھی ۔۔۔ یا ۔۔۔۔ فرمایا ۔۔۔درختوں پر چڑیا بھی ۔ ‘‘ اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان اہل نجران کی طرف جا رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ آپ ان کے پیچھے چل رہی تھیں ۔
لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللهِ أَنْ يُلاَعَنْ أَهْلَ نَجْرَانَ قَبِلُوا الْجِزْيَةَ أَنْ يُعْطُوهَا ← الشَّعْبِيِّ، ← مُغِيرَةَ، ← جَرِيرٌ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 39 - Al-Maghazi Book › 41- They were not mentioned in the people of Najran, and the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, did not want them. · Hadith 38169
