مصنف ابن أبي شيبة · 39- كِتَابُ الْمَغَازِي ‹ 38- مَا جَاءَ فِي غَزْوَةِ ذِي قَرَدٍ. · حديث 38157
38157- حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ، فَخَرَجْت أَنَا وَرَبَاحٌ ، غُلاَمُ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم ، بَعَثَهُ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم مَعَ الإِبِلِ ، وَخَرَجْتُ مَعَهُ بِفَرَسِ طَلْحَةَ أُنْدِّيهِ مَعَ الإِبِلِ ، فَلَمَّا كَانَ بِغَلَسٍ أَغَارَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُيَيْنَةَ عَلَى إِبِلِ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم ، فَقَتَلَ رَاعِيَهَا ، وَخَرَجَ يَطْرُدُهَا هُوَ وَأُنَاسٌ مَعَهُ فِي خَيْلٍ ، فَقُلْتُ : يَا رَبَاحُ ، اُقْعُدْ عَلَى هَذَا الْفَرَسِ ، فَأَلْحِقْهُ بِطَلْحَةِ ، وَأَخْبِرْ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم ، أَنَّهُ قَدْ أُغِيرَ عَلَى سَرْحِهِ. قَالَ : فَقُمْت عَلَى تَلٍّ ، وَجَعَلْت وَجْهِي مِنْ قِبَلِ الْمَدِينَةِ ، ثُمَّ نَادَيْت ثَلاَثَ مَرَّاتٍ : يَا صَبَاحَاهُ ، ثُمَّ اتَّبَعْتُ الْقَوْمَ ، مَعِي سَيْفِي وَنَبْلِي ، فَجَعَلْتُ أَرْمِيهِمْ وَأَعْقِرُ بِهِمْ ، وَذَاكَ حِينَ يَكْثُرُ الشَّجَرُ ، قَالَ : فَإِذَا رَجَعَ إِلَيَّ فَارِسٌ جَلَسْتُ لَهُ فِي أَصْلِ شَجَرَةٍ ، ثُمَّ رَمَيْتُ ، فَلاَ يُقْبِلُ عَلَيَّ فَارِسٌ إِلاَّ عَقَرْتُ بِهِ ، فَجَعَلْتُ أَرْمِيهُمْ وَأَقُولُ : أَنَا ابْنُ الأَكْوَعِ ... وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ. فَأَلْحَقُ بِرَجُلٍ فَأَرْمِيهِ وَهُوَ عَلَى رَحْلِهِ ، فَيَقَعُ سَهْمِي فِي الرَّجُلِ ، حَتَّى انْتَظَمَتْ كَتِفُهُ ، قُلْتُ : خُذْهَا : وَأَنَا ابْنُ الأَكْوَعِ ... وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ. فَإِذَا كُنْتُ فِي الشَّجَرَةِ أَحْرَقْتُهُمْ بِالنَّبْلِ ، وَإِذَا تَضَايَقَتِ الثَّنَايَا عَلَوْتُ الْجَبَلَ فَرَدَّيْتُهُمْ بِالْحِجَارَةِ ، فَمَا زَالَ ذَلِكَ شَأْنِي وَشَأْنُهُمْ ، أَتْبَعُهُمْ وَأَرْتَجِزُ ، حَتَّى مَا خَلَقَ اللَّهُ شَيْئًا مِنْ ظَهْرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ خَلَّفْتُهُ وَرَاءَ ظَهْرِي ، وَاسْتَنْقَذْتُهُ مِنْ أَيْدِيهِمْ ، قَالَ : ثُمَّ لَمْ أَزَلْ أَرْمِيهُمْ حَتَّى أَلْقَوْا أَكْثَرَ مِنْ ثَلاَثِينَ رُمْحًا ، وَأَكْثَرَ مِنْ ثَلاَثِينَ بُرْدَةً ، يَسْتَخْفُونَ مِنْهَا ، وَلاَ يُلْقُونَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا إِلاَّ جَعَلْت عَلَيْهِ آرَامًا مِنَ الْحِجَارَةِ ، وَجَمَعْتُهُ عَلَى طَرِيقِ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم ، حَتَّى إِذَا امْتَدَّ الضُّحَى ، أَتَاهُمْ عُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ الْفَزَارِي ، مُمِدًّا لَهُمْ ، وَهُمْ فِي ثَنِيَّةٍ ضَيِّقَةٍ ، ثُمَّ عَلَوْتُ الْجَبَلَ فَأَنَا فَوْقَهُمْ ، قَالَ عُيَيْنَةُ : مَا هَذَا الَّذِي أَرَى ؟ قَالَوا : لَقِينَا مِنْ هَذَا الْبَرْحَ ، مَا فَارَقْنَا بِسَحَرٍ حَتَّى الآنَ ، وَأَخَذَ كُلَّ شَيْءٍ فِي أَيْدِينَا ، وَجَعَلَهُ وَرَاءَ ظَهْرِهِ ، فَقَالَ عُيَيْنَةُ : لَوْلاَ أَنَّ هَذَا يَرَى أَنَّ وَرَاءَهُ طَلَبًا لَقَدْ تَرَكَكُمْ ، قَالَ : لِيَقُمْ إِلَيْهِ نَفَرٌ مِنْكُمْ ، فَقَامَ إِلَيَّ نَفَرٌ مِنْهُمْ أَرْبَعَةٌ ، فَصَعِدُوا فِي الْجَبَلِ ، فَلَمَّا أَسْمَعْتُهُمَ الصَّوْتَ ، قُلْتُ لَهُمْ : أَتَعْرِفُونِي ؟ قَالَوا : وَمَنْ أَنْتَ ؟ قُلْتُ : أَنَا ابْنُ الأَكْوَعِ ، وَالَّذِي كَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ لاَ يَطْلُبُنِي رَجُلٌ مِنْكُمْ فَيُدْرِكُنِي ، وَلاَ أَطْلُبُهُ فَيَفُوتُنِي ، قَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ : إِنْ أَظُنُّ. قَالَ : فَمَا بَرِحْتُ مَقْعَدِي ذَاكَ حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى فَوَارِسِ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَتَخَلَّلُونَ الشَّجَرَ ، وَإِذَا أَوَّلُهُمَ الأَخْرَمُ الأَسَدِيُّ ، وَعَلَى أَثَرِهِ أَبُو قَتَادَةَ فَارِسُ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم ، وَعَلَى أَثَرِ أَبِي قَتَادَةَ الْمِقْدَادُ الْكِنْدِيُّ ، قَالَ : فَوَلَّوْا الْمُشْرِكِينَ مُدْبِرِينَ ، وَأَنْزِلُ مِنَ الْجَبَلِ ، فَأَعْرِضُ لِلأَخْرَمِ ، فَآخُذُ عَنْانَ فَرَسِهِ ، قُلْتُ : يَا أَخَرَمُ ، أَنْذِرْ بِالْقَوْمِ ، يَعَنْي أُحَذِّرُهُمْ ، فَإِنِّي لاَ آمَنُ أَنْ يَقْطَعُوك ، فَاتَّئِدْ حَتَّى يَلْحَقَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ ، قَالَ : يَا سَلَمَةُ ، إِنْ كُنْتَ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ، وَتَعْلَمُ أَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ وَالنَّارَ حَقٌّ ، فَلاَ تَحُل بَيْنِي وَبَيْنَ الشَّهَادَةِ ، قَالَ : فَخَلَّيْتُ عَنْانَ فَرَسِهِ ، فَيَلْحَقُ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُيَيْنَةَ ، وَيَعْطِفُ عَلَيْهِ عَبْدُ الرَّحْمَان ، فَاخْتَلَفَا طَعَنْتَيْنِ ، فَعَقَرَ الأَخْرَمُ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَطَعَنْهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَتَلَهُ ، وَتَحَوَّلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَلَى فَرَسِ الأَخْرَمِ. فَلَحِقَ أَبُو قَتَادَةَ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ فَاخْتَلَفَا طَعَنْتَيْنِ فَعَقَرَ بِأَبِي قَتَادَةَ ، وَقَتَلَهُ أبُو قَتَادَةَ ، وَتَحَوَّلَ أَبُو قَتَادَةَ عَلَى فَرَسِ الأَخْرَمِ. ثُمَّ إِنِّي خَرَجْتُ أَعْدُو فِي أَثَرِ الْقَوْمِ ، حَتَّى مَا أَرَى مِنْ غُبَارِ صَحَابَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم شَيْئًا ، وَيَعْرِضُونَ قَبْلَ غَيْبُوبَةِ الشَّمْسِ إِلَى شِعْبٍ فِيهِ مَاءٌ ، يُقَالُ لَهُ : ذُو قَرَدٍ ، فَأَرَادُوا أَنْ يَشْرَبُوا مِنْهُ ، فَأَبْصَرُونِي أَعْدُو وَرَاءَهُمْ ، فَعَطَفُوا عَنْهُ ، وَشَدُّوا فِي الثَّنِيَّةِ ، ثَنِيَّةِ ذِي ثَبيرٍ ، وَغَرَبَتِ الشَّمْسُ فَأَلْحَقُ بِهِمْ رَجُلاً فَأَرْمِيهِ ، فَقُلْتُ : خُذْهَا : وَأَنَا ابْنُ الأَكْوَعِ ... وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ. فَقَالَ : يَا ثَكِلَتْنِي أُمِّي ، أَكْوَعِي بُكْرَةَ ، قُلْتُ : نَعَمْ أَيْ عَدُوَّ نَفْسِهِ ، وَكَانَ الَّذِي رَمَيْتُهُ بُكْرَةَ فَأَتْبَعْتُهُ بِسَهْمٍ آخَرَ ، فَعَلَقَ فِيهِ سَهْمَانِ ، وَتَخَلَّفُوا فَرَسَيْنِ ، فَجِئْتُ بِهِمَا أَسُوقُهُمَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم ، وَهُوَ عَلَى الْمَاءِ الَّذِي حَلأَتْهُمْ عَنْهُ : ذِي قَرَدٍ. فَإِذَا نَبِيُّ اللهِ صلى الله عليه وسلم فِي خَمْسِ مِئَةٍ ، وَإِذَا بِلاَلٌ قَدْ نَحَرَ جَزُورًا مِمَّا خَلَّفْتُ ، فَهُوَ يَشْوِي لِرَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ كَبِدِهَا وَسَنَامِهَا ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، خَلِّنِي ، فَأَنْتَخِبُ مِنْ أَصْحَابِكَ مِئَةَ رَجُلٍ ، فَآخُذَ عَلَى الْكُفَّارِ بِالْعَشْوَةِ ، فَلاَ يَبْقَى مِنْهُمْ مُخْبِرٌ إِلاَّ قَتَلْتُهُ ، قَالَ : أَكُنْتَ فَاعِلاً ذَاكَ يَا سَلَمَةُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَالَّذِي أَكْرَمَ وَجْهَك ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى رَأَيْتُ نَوَاجِذَهُ فِي ضَوْءِ النَّارِ. قَالَ : ثُمَّ قَالَ : إِنَّهُمْ يُقْرَوْنَ الآنَ بِأَرْضِ غَطَفَانَ ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ غَطَفَانَ ، قَالَ : مَرُّوا عَلَى فُلاَنٍ الْغَطَفَانِي ، فَنَحَرَ لَهُمْ جَزُورًا ، فَلَمَّا أَخَذُوا يَكْشِطُونَ جِلْدَهَا ، رَأَوْا غَبَرَةً فَتَرَكُوهَا وَخَرَجُوا هُرَّابًا ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : خَيْرُ فُرْسَانِنَا الْيَوْمَ أَبُو قَتَادَةَ ، وَخَيْرُ رَجَّالَتِنَا سَلَمَةُ ، فَأَعْطَانِي رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم سَهْمَ الْفَارِسِ وَالرَّاجِلِ جَمِيعًا ، ثُمَّ أَرْدَفَنِي وَرَاءَهُ عَلَى الْعَضْبَاءِ رَاجِعِينَ إِلَى الْمَدِينَةِ. فَلَمَّا كَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهَا قَرِيبٌ مِنْ ضَحْوَةٍ ، وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ ، كَانَ لاَ يُسْبَقُ ، فَجَعَلَ يُنَادِي : هَلْ مِنْ مُسَابِقٍ ، أَلاَ رَجُلٌ يُسَابِقُ إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَعَلَ ذَلِكَ مِرَارًا ، وَأَنَا وَرَاءَ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم مُرْدَفًا ، قُلْتُ لَهُ : أَمَا تُكْرِمُ كَرِيمًا ، وَلاَ تَهَابُ شَرِيفًا ؟ قَالَ : لاَ ، إِلاَّ رَسُولَ اللهِ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي خَلِّنِي ، فَلأُسَابِقُ الرَّجُلَ ، قَالَ : إِنْ شِئْتَ ، قُلْتُ : اِذْهَبْ إِلَيْك ، فَطَفَرَ عَنْ رَاحِلَتِهِ ، وَثَنَيْت رِجْلِي فَطَفَرْت عَنِ النَّاقَةِ ، ثُمَّ إِنِّي رَبَطْتُ عَلَيْهَا شَرَفًا ، أَوْ شَرَفَيْنِ ، يَعَنْي اسْتَبْقَيْت نَفْسِي ، ثُمَّ إِنِّي عَدَوْتُ حَتَّى أَلْحَقَهُ ، فَأَصُكَّ بَيْنَ كَتِفَيْهِ بِيَدَي ، فَقُلْتُ سَبَقْتُك وَاللهِ ، أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا ، قَالَ : فَضَحِكَ ، وَقَالَ : إِنْ أَظُنُ ، حَتَّى قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ.
حضرت ایاس بن سلمہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں صلح حدیبیہ کے دنوں میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مدینہ میں آیا تھا۔ پس ( ایک مرتبہ ) میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام حضرت رباح باہر نکلے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رباح کواونٹوں کے ہمراہ بھیجا اور میں ان کے ساتھ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کا گھوڑا لے کر نکلا اور اونٹوں کے ساتھ میں گھوڑے کو ایڑ لگاتا رہا۔ پس جب صبح کا اندھیرا ( چھایا ہوا ) تھا تو عبدالرحمان بن عیینہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں پرحملہ کر دیا اور اونٹوں کے چرواہے کو قتل کر دیا۔اور وہ اس کے ساتھ جو گھڑ سوار لوگ تھے وہ اونٹوں کو لے گئے ۔ میں نے کہا۔ اے رباح ! اس گھوڑے پر بیٹھ جاؤ اور یہ حضرت طلحہ تک پہنچا دو۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دے دو کہ ان پر حملہ ہو گیا ہے۔ ۲) سلمہ کہتے ہیں: پھر میں ایک ٹیلہ پر کھڑا ہو گیا اور اپنا منہ مدینہ کی طرف کیا اور پھر میں نے تین مرتبہ آواز لگائی ۔ یا صبا حاہ! اس کے بعد ان لوگوں کے پیچھے چل نکلا۔ میرے پاس میری تلوار اور تیر تھے ۔ پس میں نے ان کی طرف تیر پھینکنے شروع کیے اور ان کو زخمی کر کے روکنے لگا ۔ اور یہ بات تب ہوتی جب درخت زیادہ ہوتے۔ ۔۔۔کہتے ہیں: جب میری طرف کوئی سوار آتا تو میں کسی درخت کی اوٹ میں بیٹھ جاتا اور پھر تیراندازی کرتا۔ چنانچہ کوئی سوار میری طرف نہ بڑھتا مگر یہ کہ میں اس کو زخمی کر کے روک دیتا میں ان پر تیر برساتا اور یہ کہتا۔ میں ابن الاکوع ہوں اور آج کا دن ذلیلوں کی ہلاکت کا دن ہے۔ ۳) پھر میں ایک آدمی کے پاس پہنچا تو میں نے اس کو تیر مارا جبکہ وہ اپنی سواری پر تھا۔ میرا تیر اس آدمی کو لگا یہاں تک کہ وہ اس کے کندھے میں پیوست ہو گیا ۔ میں نے کہا۔ اس کو پکڑ ۔اور ’’ میں ابن الاکوع ہوں ۔ اور آج کا دن ذلیلوں کی ہلاکت کا دن ہے۔‘‘ ۴) جب میں درختوں کے (جھرمٹ )میں ہوتا تو میں ان لوگوں پر خوب تیراندازی کرتا اور جب گھاٹیاں تنگ ہو جاتیں تو میں پہاڑ پر چڑھ جاتا اور ان پر پتھر پھینکتا۔ میری اور ان کی یہی حالت رہی کہ میں ان کے پیچھے دوڑتا رہا اور جزیہ اشعار پڑھتا رہا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواریوں میں سے جو کچھ پیدا کیا ہوا تھا میں اس سب کو اپنے پیچھے چھوڑ آیا اور میں نے اس کو حملہ آوروں سے چھڑالیا۔ ۵) سلمہ کہتے ہیں: پس میں ان پر تیراندازی کرتا رہا یہاں تک کہ تیس سے زیادہ نیزے اور تیس سے زیادہ چادریں گرا دیں جن کو وہ ہلکا ( گھٹیا ) سمجھتے تھے ۔ وہ جو کچھ بھی پھینکتے تھے میں ان پر پتھروں کو رکھ دیتا تھا۔ اور میں اس کو رسول اللہ ان صلی اللہ علیہ وسلم کے راستہ پر جمع کر دیتا تھا۔ یہاں تک کہ جب چاشت کا وقت ہوا تو حملہ آوروں کے پاس عیینہ بن بدرفزاری مدد کرنے کے لئے آ پہنچا اور یہ لوگ ایک تنگ گھائی میں تھے۔ میں پہاڑ پر چڑھ گیا چنانچہ میں ان سے بلند ہو گیا۔ عیینہ نے کہا میں یہ کیا دیکھ رہا ہوں ؟ حملہ آوروں نے جواب دیا۔ ہمیں یہ مصیبت چمٹی ہوئی ہے۔ صبح سے ابھی تک اس نے ہمارا ساتھ نہیں چھوڑا۔ جو کچھ ہمارے پاس تھا وہ اس نے ہم سے لے لیا ہے اور اس کو اپنے پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ اس پر عیینہ نے کہا۔ اگر اس کو اپنے پیچھے سے کسی طلب ( کمک ) کا خیال نہ ہوتا تو البتہ یہ تمہیں چھوڑ دیتا ۔عیینہ نے کہا۔ تم میں سے ایک جماعت اس کی طرف (لڑنے کے لئے ) اٹھنی چاہیے۔ چنانچہ میری جانب ایک جماعت اٹھی جس میں چار افراد تھے ۔ انہوں نے پہاڑ پر چڑھنا شروع کیا پس جب وہ میری آواز کے قریب پہنچے تو میں نے ان سے کہا۔ کیا تم مجھے جانتے ہو؟ انہوں نے پوچھا تم کون ہو؟ میں نے جواب دیا۔ میں ابن الاکوع ہوں قسم اس ذات کی جس نے محمد کے چہرے کو عزت بخشی تم میں سے کوئی آدمی مجھے پکڑنا چاہے تو نہیں پکڑ سکتا اور میں جس کو پکڑنا چاہوں وہ چھوٹ نہیں سکتا۔ ان میں سے ایک آدمی نے کہا۔ مجھے بھی یہی گمان ہے۔ ۶) سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر میں اپنی اسی جگہ بیٹھا رہا یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سواروں کو درختوں کے درمیان سے دیکھا کہ ان کے اول میں اخرم اسدی ہیں اور ان کے پیچھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہسوار حضرت ابوقتادہ تھے اور ابوقتادہ کے پیچھے مقداد کندی رضی اللہ عنہ تھے۔سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ پس مشرکین پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے ۔ میں پہاڑ سے اترا اور حضرت اخرم کے پاس پہنچا اور میں نے ان کے گھوڑے کی لگام پکڑ لی ۔ میں نے کہا۔اے اخرم ! ان لوگوں سے ڈرو (یعنی ابھی رک جاؤ) کیونکہ مجھے اس بات پر امن نہیں ہے کہ یہ لوگ تمہیں قتل کر دیں گے ۔ پس تم رکو یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہ ( ہم تک ) پہنچ جائیں۔اخرم رضی اللہ عنہ نے کہا۔اے سلمہ ! اگر تم اللہ پر اور آخرت پر ایمان رکھتے ہو اور جانتے ہو کہ جنت برحق ہے اور جہنم برحق ہے تو تم میرے اور شہادت کے درمیان حائل نہ ہو۔ سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ۔ میں نے ان کے گھوڑے کی لگام چھوڑ دی اور وہ ( جاکر ) عبدالرحمان بن عیینہ سے ٹکرائے اور عبد الرحمان نے ان پر حملہ کیا اور دونوں طرف سے وار ہوئے ۔حضرت اخرم نے عبدالرحمان کے ( گھوڑے کی ) پانچیں کاٹ دیں اور عبد الرحمان نے حضرت اخرم رضی اللہ عنہ کو وار کر کے قتل کر دیا۔ اور عبد الرحمان ، حضرت اخرم رضی اللہ عنہ ( کا گھوڑا لے کر ) واپس چلا گیا۔ ۷) پھر ابوقتادہ رضی اللہ عنہ ، عبد الرحمٰن کے پاس پہنچے اور دونوں طرف وار ہوئے تو حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کے پاؤں عبد الرحمن نے کاٹ ڈالے اور حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمان کو قتل کر دیا اور حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ ، حضرت اخرم رضی اللہ عنہ کے گھوڑے پر سوار ہو کر واپس پلٹے ۔ ۸) میں نے پھر ان لوگوں کے اثرات قدم کے پیچھے دوڑنا شروع کیا ( اور اتنا آگے نکل گیا ) یہاں تک کہ مجھے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہ کا غبار بھی دکھائی دینا بند ہو گیا۔ غروب آفتاب سے قبل یہ لوگ ایک گھاٹی میں میرے سامنے آئے جس میں ایک ذوقرد نام کا کنواں تھا۔ ان لوگوں نے اس کنویں سے پانی پینے کا ارادہ کیا تھا کہ انہوں نے مجھے اپنے پیچھے دوڑتا ہوا دیکھ لیا چنانچہ وہ لوگ وہاں سے نکلے اور ایک دوسری گھاٹی جس کا نام ثنیۃ ذی ثبیر تھا اس میں مضبوط ہو گئے اس دوران سورج ڈوب گیا اور میں ان میں سے ایک آدمی کے پاس جا پہنچا اور میں نے اس کی طرف تیر پھینکا اور میں نے کہا۔اس ( تیر ) کو پکڑ لو۔ع ’’ اور میں ابن الاکوع ہوں۔ آج کا دن کمینوں کی ہلاکت کا دن ہے ۔‘‘ ۹) اس آدمی نے کہا۔۔۔ ہائے! میری ماں مجھے گم کرے۔ کیا تم صبح والے ابن الاکوع ہو؟ میں نے جواب دیا : ہاں! اسے اپنی جان کے دشمن ! اور یہ وہی شخص تھا جس کو میں نے صبح تیر مارا تھا۔ چنانچہ میں نے اس کو ایک اور تیر دے مارا اور اس میں دو تیر پیوست ہو گئے ۔ یہ لوگ ( مزید ) دوگھوڑے پیچھے چھوڑ گئے ۔ میں ان دونوں گھوڑوں کو ہانک کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( اس وقت ) اس کنویں پر تشریف فرما تھے جس سے میں نے ان حملہ آوروں کو بھگایا تھا۔ یعنی ذوقرد۔ ۱۰) پس (وہاں ) اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پانچ صدافراد کے ہمراہ موجود تھے ۔ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے ان میں سے ایک اونٹ کو نحر کیا تھا جن کو میں اپنے پیچھے چھوڑ آیا تھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اس کی کلیجی اور کو ہان کو بھون رہے تھے ۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا اور میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ ! آپ مجھے چھوڑیں (یعنی اجازت دیں ) میں آپ کے صحابہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سے ایک سو افراد کو منتخب کرتا ہوں اور (ان کے ذریعہ ) میں کفار پر رات کو حملہ کروں گا اور ان میں سے کسی مخبر کو قتل کئے بغیر نہیں چھوڑوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ’’ اے سلمہ ! کیا تم یہ کام کر لو گے؟‘‘ حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا۔ جی ہاں قسم اس ذات کی جس نے آپ کے رخ انور کو عزت بخشی ہے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے یہاں تک کہ میں نے آگ کی روشنی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھوں کو دیکھ لیا۔۱۱) حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ یہ لوگ اس وقت مقام غطفان میں مہمانی کھا رہے ہیں ۔‘‘ پھر اس کے بعد مقام غطفان سے ایک آدمی آیا اور اس نے بتایا کہ یہ لوگ فلاں غطفانی کے ہاں سے گزرے تو اس نے ان کے لئے اونٹ ذبح کیا پھر جب انہوں نے اس کی کھال اتارنا شروع کی تو انہوں نے گردوغبار دیکھی اور اونٹ کو ( وہیں ) چھوڑ دیا اور بھاگ نکلے ۔پھر جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ہمارے گھڑ سواروں میں سب سے بہتر گھڑ سوارا بوقتادہ رضی اللہ عنہ ہیں اور ہمارے پا پیادہ میں سب سے بہتر حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ ہیں ۔‘‘ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے گھڑ سوار اور پا پیادہ دونوں کے حصے عطا فرمائے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے کان چری اونٹنی پر سوار فرمایا۔ جبکہ ہم مدینہ کی طرف واپس آ رہے تھے ۔ ۱۲) پھر جب ہم مدینہ کے قریب نصف النہار کو پہنچے تو انصار میں سے ایک آدمی تھا وہ جب بھی آگے ہوتا تو یہ آواز لگاتا ۔ کیا کوئی مقابلہ کرنے والا ہے؟ کیا کوئی آدمی مدینہ تک دوڑ لگا کر مقابلہ کرے گا ؟ یہ حرکت اس نے کئی مرتبہ کی ۔ جبکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا۔ میں نے ان صاحب سے کہا ۔ تمہیں کسی کریم کی عزت اور کسی شریف کی ہیبت کا خیال نہیں ہے؟ انہوں نے جواب دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی کا نہیں ہے۔ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں مجھے چھوڑیے۔ تاکہ میں اس آدمی سے مقابلہ کروں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تم چاہتے ہوتو ( ٹھیک ہے ) ۔ میں نے (اس آدمی سے )کہا۔ تیاری کرو۔ پس وہ اپنی سواری سے اترا اور میں نے اپنے پاؤں موڑے اور میں بھی اونٹنی سے اترا۔ پھر میں نے دوڑ لگائی یہاں تک کہ میں نے اس کو جا پکڑا اور میں نے اس کے کندھوں کے درمیان اپنا ہاتھ زور سے مارا اور میں نے اس سے کہا۔ خدا کی قسم! میں تم سے آگے گزر گیا ہوں ۔ یا اسی طرح کی کوئی بات کہی ۔ حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ۔ وہ صاحب ہنس پڑے اور کہنے لگے۔ میرا گمان بھی یہی تھا کہ تم مجھ پر سبقت لے جاؤ گے۔ (پھر ہم چلتے رہے ) یہاں تک کہ ہم مدینہ منورہ پہنچ گئے ۔
قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ مَعَ النَّبِيِّ فَخَرَجْت ← أَبِيهِ ← إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ أَبُو النَّضْرِ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 39 - Al-Maghazi Book › 38- It did not come during the battle of the monkey. · Hadith 38157
