مصنف ابن أبي شيبة · 39- كِتَابُ الْمَغَازِي ‹ 6- حَدِيثُ الْمِعْرَاجِ حِيْنَ أُسْرِيَ بِالنَّبِيِّ عليه السلام. · حديث 37725
37725- حدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الأَشْيَبِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم ، قَالَ : أُتِيتُ بِالْبُرَاقِ ، وَهُوَ دَابَّةٌ أَبْيَضُ فَوْقَ الْحِمَارِ وَدُونَ الْبَغْلِ ، يَضَعُ حَافِرَهُ عِنْدَ مُنْتَهَى طَرَفِهِ ، فَرَكِبْتُهُ ، فَسَارَ بِي حَتَّى أَتَيْتُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ ، فَرَبَطْتُ الدَّابَّةَ بِالْحَلَقَةِ الَّتِي كَانَ يَرْبِطُ بِهَا الأَنْبِيَاءُ ، ثُمَّ دَخَلْتُ فَصَلَّيْتُ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ خَرَجْتُ فَجَاءَنِي جِبْرِيلُ بِإِنَاءٍ مِنْ خَمْرٍ وَإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ ، فَاخْتَرْتُ اللَّبَنَ ، فَقَالَ جِبْرِيلُ : أَصَبْتَ الْفِطْرَةَ. قَالَ : ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ ، فَقِيلَ : مَنْ أَنْتَ ؟ فَقَالَ : جِبْرِيلُ ، قِيلَ : وَمَنْ مَعَك ؟ قَالَ : مُحَمَّد ، فَقِيلَ : وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ ؟ فَقَالَ : قَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ ، فَفُتِحَ لَنَا ، فَإِذَا أَنَا بِآدَمَ ، فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ ، ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ ، فَقِيلَ : وَمَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : جِبْرِيلُ ، فَقِيلَ : وَمَنْ مَعَك ؟ قَالَ : مُحَمَّد ، فَقِيلَ : وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ : قَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ ، فَفُتِحَ لَنَا ، فَإِذَا أَنَا بِابْنَيَ الْخَالَةِ يَحْيَى وَعِيسَى ، فَرَحَّبَا وَدَعَوا لِي بِخَيْرٍ. ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ ، فَقِيلَ : مَنْ أَنْتَ ؟ فَقَالَ : جِبْرِيلُ ، فَقِيلَ : وَمَنْ مَعَك ؟ قَالَ : مُحَمَّدٌ ، قَالُوا : وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ : قَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ ، فَفُتِحَ لَنَا ، فَإِذَا أَنَا بِيُوسُفَ ، وَإِذَا هُوَ قَدْ أُعْطِيَ شَطْرَ الْحُسْنِ ، فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ ، ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الرَّابِعَةِ ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ ، فَقِيلَ : مَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : جِبْرِيلُ ، فَقِيلَ : وَمَنْ مَعَك ؟ قَالَ : مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم ، قَالُوا : وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ : قَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ ، فَفُتِحَ لَنَا ، فَإِذَا أَنَا بِإِدْرِيسَ ، فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ ، ثُمَّ قَالَ : يَقُولُ اللَّهُ : {وَرَفَعَنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا}.ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الْخَامِسَةِ ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ ، فَقِيلَ : مَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : جِبْرِيلُ ، فَقِيلَ : وَمَنْ مَعَك ؟ فَقَالَ : مُحَمَّد ، فَقِيلَ : وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ : قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ ، فَفُتِحَ لَنَا ، فَإِذَا أَنَا بِهَارُونَ ، فَرَحَّبَ بِي وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ ، ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّادِسَةِ ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ ، فَقِيلَ : مَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : جِبْرِيلُ ، فَقِيلَ : وَمَنْ مَعَك ؟ قَالَ مُحَمَّد ، فَقِيلَ : وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ : قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ ، فَفُتِحَ لَنَا ، فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى ، فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ. ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ ، فَقِيلَ : مَنْ أَنْتَ ؟ فَقَالَ : جِبْرِيلُ ، فَقِيلَ : وَمَنْ مَعَك ؟ قَالَ : مُحَمَّد ، فَقِيلَ : وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ : قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ ، فَفُتِحَ لَنَا ، فَإِذَا أَنَا بِإِبْرَاهِيمَ ، وَإِذَا هُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَى الْبَيْتِ الْمَعْمُورِ ، وَإِذَا هُوَ يَدْخُلُهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ ، لاَ يَعُودُونَ إِلَيْهِ. ثُمَّ ذَهَبَ بِي إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى ، فَإِذَا وَرَقُهَا كَآذَانِ الْفِيَلَةِ ، وَإِذَا ثَمَرُهَا أَمْثَالُ الْقِلاَلِ ، فَلَمَّا غَشِيَهَا مِنْ أَمْرِ اللهِ مَا غَشِيَهَا تَغَيَّرَتْ ، فَمَا أَحَدٌ مِنْ خَلْقِ أللهِ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَصِفَهَا مِنْ حُسْنِهَا ، قَالَ : فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيَّ مَا أَوْحَى ، وَفَرَضَ عَلَيَّ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ خَمْسِينَ صَلاَةً ، فَنَزَلْتُ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى مُوسَى ، فَقَالَ : مَا فَرَضَ رَبُّك عَلَى أُمَّتِكَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : خَمْسِينَ صَلاَةً فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ، فَقَالَ : ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ ، فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ ، فَإِنَّ أُمَّتَكَ لاَ تُطِيقُ ذَلِكَ ، فَإِنِّي قَدْ بَلَوْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَخَبَرْتُهُمْ ، قَالَ : فَرَجَعْتُ إِلَى رَبِّي ، فَقُلْتُ لَهُ : رَبِّ خَفِّفْ عَنْ أُمَّتِي ، فَحَطَّ عَنِّي خَمْسًا ، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى ، فَقَالَ : مَا فَعَلْتَ ؟ فَقُلْتُ : حَطَّ عَنِّي خَمْسًا ، قَالَ : إِنَّ أُمَّتَكَ لاَ تُطِيقُ ذَلِكَ ، فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ ، فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ لأُمَّتِكَ ، فَلَمْ أَزَلْ أَرْجِعُ بَيْنَ رَبِّي وَبَيْنَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ ، فَيَحُطُّ عَنِّي خَمْسًا خَمْسًا ، حَتَّى قَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، هِيَ خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ، بِكُلِّ صَلاَةٍ عَشْرٌ ، فَتِلْكَ خَمْسُونَ صَلاَةً ، وَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا ، كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً ، فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ عَشْرًا ، وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ وَلَمْ يَعْمَلْهَا ، لَمْ تُكْتَبْ لَهُ شَيْئًا ، فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ سَيِّئَةً وَاحِدَةً. فَنَزَلْتُ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى مُوسَى ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ ، فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ لأُمَّتِكَ ، فَإِنَّ أُمَّتَكَ لاَ تُطِيقُ ذَلِكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : لَقَدْ رَجَعْتُ إِلَى رَبِّي حَتَّى اسْتَحْيَيْتُ.
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:’’ میرے پاس براق کو لایا گیا۔ یہ ایک سفید جانور تھا۔ گدھے سے اونچا اور خچر سے چھوٹا تھا۔ اپنا قدم وہاں رکھتا تھا جہاں نظر پڑتی تھی ۔ پس میں اس پر سوار ہوا اور یہ جانور مجھے لے کر چلا یہاں تک کہ میں بیت المقدس میں پہنچا۔ اور میں نے جانور کو اس حلقہ کے ساتھ باندھا جس حلقہ کے ساتھ انبیاء باندھا کرتے تھے۔ پھر میں بیت المقدس میں داخل ہوا اور میں نے وہاں دور کعات نماز پڑھی پھر میں وہاں سے نکلا تو جبرائیل علیہ السلام میرے پاس ایک برتن شراب کا اور ایک برتن دودھ کا لائے ۔ میں نے دودھ کا انتخاب کر لیا ۔ تو جبرائیل علیہ السلام نے کہا۔ آپ نے فطرت سلیمہ کے مطابق درست کام کیا ہے۔۲۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : پھر ہمیں آسمان دنیا پر لے جایا گیا۔ اور جبرائیل علیہ السلام نے دروازہ کھولنے کا کہا: پوچھا گیا : تم کون ہو؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا: جبرائیل علیہ السلام ہوں ۔ پو چھا گیا۔ اور آپ کے ساتھ کون ہے؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا ۔ محمد اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! پوچھا گیا۔ ان کی طرف بھیجا گیا تھا؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا ۔تحقیق ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ پھر ہمارے لئے درواز کھول دیا گیا۔ تو ناگہاں میں آدم علیہ السلام سے ملا ۔ انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لئے خیر کی دُعا کی ۔ پھر ہمیں دوسرے آسمان کی طرف چڑھایا گیا۔ جبرائیل علیہ السلام نے دروازہ کھولنے کا کہا۔ پوچھا گیا۔تم کون ہو؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا: جبرائیل علیہ السلام ۔ پوچھا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم! پوچھا گیا ۔ ان کی طرف بھیجا گیا تھا؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا۔ ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ پھر ہمارے لئے دروازہ کھول دیا گیا۔ تو نا گہاں میں اپنے دو خالہ زادبھائی یحییٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام سے ملا۔ ان دونوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لئے دعائے خیر کی۔۳۔ پھر ہمیں تیسرے آسمان کی طرف چڑھایا گیا۔ جبرائیل علیہ السلام نے دروازہ کھولنے کا کہا۔ تو پوچھا گیا ۔تم کون ہو؟ انہوں نے کہا: جبرائیل علیہ السلام ! پھر پوچھا گیا۔ آپ کے ساتھ کون ہے؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم! فرشتوں نے پوچھا۔ان کی طرف بھیجا گیا تھا؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا۔ تحقیق ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ پس ہمارے لئے دروازہ کھول دیا گیا۔ پس اچا نک میں يوسف علیہ السلام سے ملا ۔ اور انہیں تو حُسن کا ایک بڑا حصہ دیا گیا ہے۔انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لئے دعاء خیر کی ۔ پھر ہمیں چوتھے آسمان پر لے جایا گیا تو جبرائیل علیہ السلام نے دروازہ کھولنے کا کہا۔ پوچھا گیا ۔ تم کون ہو؟ انہوں نے کہا۔ جبرائیل علیہ السلام ہوں ۔ پوچھا گیا۔ تمہارے ساتھ کون ہے؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم! فرشتوں نے کہا۔ ان کی طرف بھیجا گیا تھا ؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا تحقیق ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ پھر ہمارے لئے ( دروازہ )کھول دیا گیا تو اچا نک میری حضرت ادریس علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لئے دعائے خیر کی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: اللہ تعالی ٰ فرماتے ہیں ۔ وَرَفَعَنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا.۴۔ پھر ہمیں پانچ میں آسمان کی طرف اٹھایا گیا۔ جبرائیل علیہ السلام نے ( دروازہ کھولنے کا کہا۔ پوچھا گیا۔ تم کون ہو؟ انہوں نے کہا: جبرائیل ہوں۔ پوچھا گیا: اور آپ کے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم! ہیں ۔ پوچھا گیا ۔ ان کی طرف بھیجا گیاتھا؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا۔ ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ پھر ہمارے لئے ( دروازہ )کھول دیا گیا۔ پس اچا نک میری ملاقات حضرت ہارون علیہ السلام سے ہوئی ۔انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لئے دعائے خیر کی ۔ پھر ہمیں چھٹے آسمان کی طرف چڑھایا گیا۔ جبرائیل علیہ السلام نے ( دروازہ )کھولنے کا کہا تو پوچھا گیا ۔ تم کون ہو؟ انہوں نے جواب دیا۔ جبرائیل علیہ السلام ہوں ۔ پو چھا گیا۔ اور آپ کے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ پوچھا گیا ۔ ( کیا ) ان کی طرف بھیجا گیا تھا؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا ت۔تحقیق ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ پھر ہمارے لئے ( دروازہ) کھول دیا گیا ۔ تو اچانک میری ملاقات حضرت موسی ٰ علیہ السلام سے ہوئی انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لئے دعائے خیر کی۔۵۔ پھر ہمیں ساتویں آسمان کی طرف اٹھا یا گیا ۔ پس جبرائیل علیہ السلام نے ( دروازہ )کھولنے کا کہا تو پو چھا گیا۔ تم کون ہو؟ انہوں نے جواب دیا۔ جبرائیل علیہ السلام ہوں ۔ پھر پو چھا گیا ۔ اور آپ کے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ پھر پوچھا گیا۔( کیا ) ان کی طرف بھیجا گیا تھا؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا ۔تحقیق ان کی طرف بھیجا گیا تھا ۔ پھر ہمارے لئے ( دروازہ) کھول دیا گیا تو اچا نک میں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملا ۔ اور وہ بیت المعمور کے ساتھ لیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے ۔ اور( یہ وہ جگہ ہے کہ جب ) اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں جو پھر دو بار نہیں آئیں گے۔ ۶۔پھر مجھے سدرۃ المنعتہیٰ پر لے جایا گیا۔ پس اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح تھے اور اس کے پھل مٹکوں کے مثل تھے۔پس جب اس کو امر خداوندی نے جس طرح ڈھانپنا تھا ڈ ھانپ لیا ۔ تو وہ متغیر ہو گیا۔ خلقِ خدا میں سے کوئی بھی اس کے وصف کو بیان کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں پھر اللہ تعالی ٰ نے میری طرف وحی کی جو وحی کی ۔ اور مجھ پر ہر دن رات میں پچاس نماز یں فرض فرمائیں۔۷۔ میں (وہاں سے نیچے اُترا یہاں تک کہ میں موسیٰ علیہ السلام تک پہنچا تو انہوں نے پوچھا۔ آپ کے رب نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ۔ میں نے کہا: ہر دن رات میں پچاس نماز یں فرض کی ہیں ۔موسیٰ علیہ السلام نے کہا۔اپنے رب کی طرف واپس جائیے اور رب سے کمی کا سوال کیجئے ۔ کیونکہ آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھتی ۔ کیونکہ میں نے بنی اسرائیل کو آزمایا ہے اور جانچا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں اپنے پروردگار کے حضور واپس لوٹا اور میں نے ان سے عرض کی ۔اے میرے پروردگار! میری امت پر تخفیف فرما۔ پس اللہ تعالی ٰ نے مجھے پانچ نماز یں چھوڑ دیں ۔ پھر میں موسیٰ علیہ السلام کی طرف واپس ہوا۔ تو انہوں نے پوچھا۔ کیا کیا ہے؟ میں نے کہا: اللہ تعالی ٰ نے مجھے پانچ نماز یں چھوڑ دی ہیں ۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا۔ تیری امت اس کی (بھی ) طاقت نہیں رکھتی۔ پس آپ اپنے پروردگار کے پاس واپس جائیے اور اپنے پروردگار سے اپنی امت کے لئے تخفیف کا سوال کیجئے ۔ پھر میں مسلسل اپنے پروردگار اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان مراجعت کرتا رہا۔ اوراللہ تعالی ٰ مجھے پانچ پانچ نماز یں چھوڑ تے رہے یہاں تک کہ حق تعالیٰ نے ارشادفرمایا: اے محمد ! ہر دن رات میں یہ پانچ نماز یں ہیں۔ ۔ ہر نماز کے بدلے میں دس ( گنُا اجر )ہے ۔ پس یہ (ثواب کے اعتبار سے ) پچاس نماز یں ہیں ۔ اور جو کوئی شخص نیکی کے کام کا ارادہ کرے لیکن نیکی کے کام کو کرے نہیں۔اس کے لئے ایک نیکی لکھی جائے گی ۔اوراگر وہ اس نیکی کے کام کو کر لے گا تو اس کے لئے دس نیکیاں لکھی جائیں گی ۔ اور جو کوئی شخص برے کام کا ارادہ کرے گالیکن اس برے کام کو نہ کرے تو اس کے کچھ نہیں لکھا جائے گا اور اگر وہ اس برے کام کوکر لے گا تو اس کےلئے ایک گنا ہ لکھا جائے گا ۔۸۔ پھر میں (وہاں سے) اُترا یہاں تک کہ میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا اور میں نے ان کو یہ بات بتائی تو انہوں نے کہا۔ آپ اپنے پروردگار کے پاس واپس جائیے اور اپنے پروردگار سے اپنی امت کے لئے تخفیف کا سوال کیجئے ۔ کیونکہ آپ کی امت اس کی ( بھی ) طاقت نہیں رکھتی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: البتہ تحقیق میں اپنے رب کی طرف (اتنا) واپس پلٹا ہوں یہاں تک کہ(اب) مجھے حیا آتی ہے۔
أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ،
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 39 - Al-Maghazi Book › 6- The Hadith of Al-Mi'araj when my family was captured by the Prophet, peace be upon him. · Hadith 37725
