مصنف ابن أبي شيبة · 39- كِتَابُ الْمَغَازِي ‹ 37- غَزْوَةُ حُنَيْنٍ ، وَمَا جَاءَ فِيهَا. · حديث 38145
38145- حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ حُنَيْنٍ انْكَشَفَ النَّاسُ عَنْهُ ، فَلَمْ يَبْقَ مَعَهُ إِلاَّ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ : زَيْدٌ ، آخِذٌ بِعَنْانِ بَغْلَتِهِ الشَّهْبَاءِ ، وَهِيَ الَّتِي أَهْدَاهَا لَهُ النَّجَاشِيُّ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : وَيْحَك يَا زَيْدُ ، اُدْعُ النَّاسَ ، فَنَادَى : أَيُّهَا النَّاسُ ، هَذَا رَسُولُ اللهِ يَدْعُوكُمْ ، فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ عِنْدَ ذَلِكَ ، فَقَالَ : وَيْحَك ، حُضَّ الأَوْسَ وَالْخَزْرَجَ ، فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ الأَوْسِ وَالْخَزْرَجِ ، هَذَا رَسُولُ اللهِ يَدْعُوكُمْ ، فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ عِنْدَ ذَلِكَ ، فَقَالَ : وَيْحَك ، اُدْعُ الْمُهَاجِرِينَ ، فَإِنَّ لِلَّهِ فِي أَعَنْاقِهِمْ بَيْعَةً ، قَالَ : فَحَدَّثَنِي بُرَيْدَةُ ، أَنَّهُ أَقْبَلَ مِنْهُمْ أَلْفٌ ، قَدْ طَرَحُوا الْجُفُونَ وَكَسَرُوهَا ، ثُمَّ أَتَوْا رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى فُتِحَ عَلَيْهِمْ.
حضرت عبد اللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوہ حنین کے دن لوگ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے چھٹ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صرف ایک آدمی رہ گیا جس کا نام زید تھا۔ اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھورے رنگ کے خچر کی لگام پکڑے ہوئے تھا۔۔۔۔ یہ وہی خچرتھا جونجاشی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ کیا تھا ۔۔۔۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زید سے کہا۔’’ تو ہلاک ہو جائے اسے زید ! لوگوں کو بلاؤ ۔‘‘ چنا نچہ زید رضی اللہ عنہ نے آواز دی ۔اے لوگو! یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں بلا رہے ہیں ۔لیکن کسی نے زید کو اس وقت جواب نہیں دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔’’ تو ہلاک ہو جائے ! اوس اور خزرج کو خاص کر کے بلاؤ۔ ‘‘چنانچہ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے آواز دی ۔اے اوس وخزرج کے لوگو! یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں بلا رہے ہیں۔ لیکن اس وقت بھی زید کو کسی نے جواب نہ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پھر ) فرمایا۔’’ تو ہلاک ہو جائے ۔ مہاجرین کو بلالو کیونکہ ان کی گردنوں میں تو اللہ کے لئے بیعت ہے ۔‘‘راوی کہتے ہیں : مجھے حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ لوگوں میں سے ایک ہزار ایسے لوگ ( واپس ) متوجہ ہوئے جنہوں نے نیاموں کو توڑا اور پھینک دیا تھا۔ پھر یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے (اورلڑے ) یہاں تک کہ کفار پر ان کو فتح ہوئی۔
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← يُوسُفُ بْنُ صُهَيْبٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ دُکَيْنٍ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 39 - Al-Maghazi Book › 37- The conquest of Henein, and what came in it. · Hadith 38145
