مصنف ابن أبي شيبة · 39- كِتَابُ الْمَغَازِي ‹ 36- مَا حَفِظْتُ فِي بَعْثِ مُؤْتَةَ. · حديث 38121
38121- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سُمَيْرٍ ، قَالَ : قَدِمَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَبَاحٍ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : وَكَانَتِ الأَنْصَارُ تُفَقِّهُهُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو قَتَادَةَ فَارِسُ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم جَيْشَ الأُمَرَاءِ ، وَقَالَ : عَلَيْكُمْ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ ، فَإِنْ أُصِيبَ زَيْدٌ فَجَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، فَإِنْ أُصِيبَ جَعْفَرٌ فَعَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ ، فَوَثَبَ جَعْفَرٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَا كُنْتُ أَرْهَبُ أَنْ تَسْتَعْمِلَ عَلَيَّ زَيْدًا ، فَقَالَ : امْضِ ، فَإِنَّك لاَ تَدْرِي أَيُّ ذَلِكَ خَيْرٌ. فَانْطَلَقُوا ، فَلَبِثُوا مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم صَعِدَ الْمِنْبَرَ ، وَأَمَرَ فَنُودِيَ : الصَّلاَةُ جَامِعَةٌ ، فَاجْتَمَعَ النَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم ، فَقَالَ : ثَابَ خَيْرٌ ، ثَابَ خَيْرٌ ، ثَلاَثًا ، أُخْبِرُكُمْ عَنْ جَيْشِكُمْ هَذَا الْغَازِي ، انْطَلَقُوا فَلَقُوا الْعَدُوَّ ، فَقُتِلَ زَيْدٌ شَهِيدًا ، فَاسْتَغْفِرُوا لَهُ ، ثُمَّ أَخَذَ اللِّوَاءَ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، فَشَدَّ عَلَى الْقَوْمِ حَتَّى قُتِلَ شَهِيدًا ، اشْهَدُوا لَهُ بِالشَّهَادَةِ ، وَاسْتَغْفِرُوا لَهُ ، ثُمَّ أَخَذَ اللِّوَاءَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ ، فَأَثْبَتَ قَدَمَيْهِ حَتَّى قُتِلَ شَهِيدًا ، فَاسْتَغْفِرُوا لَهُ ، ثُمَّ أَخَذَ اللِّوَاءَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَلَمْ يَكُنْ مِنَ الأُمَرَاءِ ، هُوَ أَمَّرَ نَفْسَهُ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : اللَّهُمَّ إِنَّهُ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِكَ ، فَأَنْتَ تَنْصُرُهُ ، فَمِنْ يَوْمَئِذٍ سُمِّيَ سَيْفَ اللهِ الْمَسْلُولَ ، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : انْفِرُوا ، فَأَمِدُّوا إِخْوَانَكُمْ ، وَلاَ يَتَخَلَّفَنَّ مِنْكُمْ أَحَدٌ ، فَنَفَرُوا مُشَاةً وَرُكْبَانًا ، وَذَلِكَ فِي حَرٍّ شَدِيدٍ. فَبَيْنَمَا هُمْ لَيْلَةً مُمَايَلِينُ عَنِ الطَّرِيقِ ، إِذْ نَعَسَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى مَالَ عَنِ الرَّحْلِ ، فَأَتَيْتُهُ ، فَدَعَّمْتُهُ بِيَدَيْ ، فَلَمَّا وَجَدَ مَسَّ يَدِ رَجُلٍ اعْتَدَلَ ، فَقَالَ : مَنْ هَذَا ؟ فَقُلْتُ : أَبُو قَتَادَةَ ، فَسَارَ أَيْضًا ثُمَّ نَعَسَ حَتَّى مَالَ عَنِ الرَّحْلِ ، فَأَتَيْتُهُ ، فَدَعَّمْتُهُ بِيَدَيْ ، فَلَمَّا وَجَدَ مَسَّ يَدِ رَجُلٍ اعْتَدَلَ ، فَقَالَ : مَنْ هَذَا ؟ فَقُلْتُ : أَبُو قَتَادَةَ ، قَالَ فِي الثَّانِيَةِ ، أَوِ الثَّالِثَةِ ، قَالَ : مَا أُرَانِي إِلاَّ قَدْ شَقَقْتُ عَلَيْك مُنْذُ اللَّيْلَةِ ، قَالَ : قُلْتُ : كَلاَ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، وَلَكِنْ أَرَى الْكَرَى أَو النُّعَاسَ قَدْ شَقَّ عَلَيْك ، فَلَوْ عَدَلْتَ فَنَزَلْتَ حَتَّى يَذْهَبَ كَرَاكَ ، قَالَ : إِنِّي أَخَافُ أَنْ يُخْذَلَ النَّاسُ ، قَالَ : قُلْتُ : كَلاَ ، بِأَبِي وَأُمِّي. قَالَ : فَابْغِنَا مَكَانًا خَمِيرًا ، قَالَ : فَعَدَلْتُ عَنِ الطَّرِيقِ ، فَإِذَا أَنَا بِعُقْدَةٍ مِنْ شَجَرٍ ، فَجِئْتُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، هَذِهِ عُقْدَةٌ مِنْ شَجَرٍ قَدْ أَصَبْتُهَا ، قَالَ : فَعَدَلَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم ، وَعَدَلَ مَعَهُ مَنْ يَلِيهِ مِنْ أَهْلِ الطَّرِيقِ ، فَنَزَلُوا وَاسْتَتَرُوا بِالْعُقْدَةِ مِنَ الطَّرِيقِ ، فَمَا اسْتَيْقَظْنَا إِلاَّ بِالشَّمْسِ طَالِعَةً عَلَيْنَا ، فَقُمْنَا وَنَحْنُ وَهِلِينَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : رُوَيْدًا رُوَيْدًا ، حَتَّى تَعَالَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ قَالَ : مَنْ كَانَ يُصَلِّي هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلاَةِ الْغَدَاةِ فَلْيُصَلِّهِمَا ، فَصَلاَهُمَا مَنْ كَانَ يُصَلِّيهِمَا ، وَمَنْ كَانَ لاَ يُصَلِّيهِمَا. ثُمَّ أَمَرَ فَنُودِيَ بِالصَّلاَةِ ، ثُمَّ تَقَدَّمَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى بِنَا ، فَلَمَّا سَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّا نَحْمَدُ اللَّهَ ، أَنا لَمْ نَكُنْ فِي شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا يَشْغَلُنَا عَنْ صَلاَتِنَا ، وَلَكِنْ أَرْوَاحَنَا كَانَتْ بِيَدِ اللهِ ، أَرْسَلَهَا أَنَّى شَاءَ ، أَلاَ فَمَنْ أَدْرَكَتْهُ هَذِهِ الصَّلاَةُ مِنْ عَبْدٍ صَالِحٍ فَلْيَقْضِ مَعَهَا مِثْلَهَا. قَالَوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، الْعَطَشُ ، قَالَ : لاَ عَطَشَ ، يَا أَبَا قَتَادَةَ ، أَرِنِي الْمَيْضَأَةَ ، قَالَ : فَأَتَيْتُهُ بِهَا ، فَجَعَلَهَا فِي ضِبْنِهِ ، ثُمَّ الْتَقَمَ فَمَهَا ، فَاَللَّهُ أَعْلَمُ أَنَفَثَ فِيهَا ، أَمْ لاَ ، ثُمَّ قَالَ : يَا أَبَا قَتَادَةَ ، أَرِنِي الْغُمَرَ عَلَى الرَّاحِلَةِ ، فَأَتَيْته بِقَدَحٍ بَيْنَ الْقَدَحَيْنِ ، فَصَبَّ فِيهِ ، فَقَالَ : اسْقِ الْقَوْمَ ، وَنَادَى رَسُولُ اللهِ وَرَفَعَ صَوْتَهُ : أَلاَ مَنْ أَتَاهُ إِنَاؤُهُ فَلْيَشْرَبْهُ ، فَأَتَيْتُ رَجُلاً فَسَقَيْتُهُ ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم بِفَضْلَةِ الْقَدَحِ ، فَذَهَبْتُ فَسَقَيْتُ الَّذِي يَلِيهِ ، حَتَّى سَقَيْتُ أَهْلَ تِلْكَ الْحَلْقَةِ ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّه صلى الله عليه وسلم بِفَضْلَةِ الْقَدَحِ ، فَذَهَبْتُ فَسَقَيْتُ حَلْقَةً أُخْرَى ، حَتَّى سَقَيْت سَبْعَةَ رُفَقٍ. وَجَعَلْتُ أَتَطَاوَلُ ، أَنْظُرُ هَلْ بَقِيَ فِيهَا شَيْءٌ ، فَصَبَّ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْقَدَحِ ، فَقَالَ لِي : اشْرَبْ ، قَالَ : قُلْتُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، إِنِّي لاَ أَجِدُ بِي كَثِيرَ عَطَشٍ ، قَالَ إِلَيْك عَنِّي ، فَإِنِّي سَاقِي الْقَوْمَ مُنْذُ الْيَوْمِ ، قَالَ : فَصَبَّ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْقَدَحِ فَشَرِبَ ، ثُمَّ صَبَّ فِي الْقَدَحِ فَشَرِبَ ، ثُمَّ صَبَّ فِي الْقَدَحِ فَشَرِبَ ، ثُمَّ رَكِبَ وَرَكِبْنَا. ثُمَّ قَالَ : كَيْفَ تَرَى الْقَوْمَ صَنَعُوا حِينَ فَقَدُوا نَبِيَّهُمْ ، وَأَرْهَقَتْهُمْ صَلاَتُهُمْ ؟ قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : أَلَيْسَ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ؟ إِنْ يُطِيعُوهُمَا فَقَدْ رَشَِدُوا ، وَرَشَِدَتْ أُمُّتُهُمْ ، وَإِنْ يَعْصُوهُمَا فَقَدْ غَوَوْا وَغَوَتْ أُمُّتُهُمْ ، قَالَهَا ثَلاَثًا ، ثُمَّ سَارَ وَسِرْنَا ، حَتَّى إِذَا كُنَّا فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ ، إِذَا نَاسٌ يَتَّبِعُونَ ظِلاَلَ الشَّجَرَةِ ، فَأَتَيْنَاهُمْ ، فَإِذَا نَاسٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، قَالَ : فَقُلْنَا لَهُمْ : كَيْفَ صَنَعْتُمْ حِينَ فَقَدْتُمْ نَبِيَّكُمْ ، وَأَرْهَقَتْكُمْ صَلاَتُكُمْ ؟ قَالَوا : نَحْنُ وَاللهِ نُخْبِرُكُمْ ، وَثَبَ عُمَرُ ، فَقَالَ لأَبِي بَكْرٍ : إِنَّ اللَّهَ قَالَ فِي كِتَابِهِ : {إِنَّك مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ} وَإِنِّي وَاللهِ مَا أَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ قَدْ تَوَفَّى نَبِيَّهُ ، فَقُمْ فَصَلِّ وَانْطَلِقْ ، إِنِّي نَاظِرٌ بَعْدَك وَمُتلوِّمٌ ، فَإِنْ رَأَيْتُ شَيْئًا وَإِلاَّ لَحِقْتُ بِكَ ، قَالَ : وَأُقِيمَتِ الصَّلاَةُ ، وَانْقَطَعَ الْحَدِيثُ.
حضرت خالد بن سمرہ روایت کرتے ہیں کہ ہمارے پاس حضرت عبداللہ بن رباح انصاری تشریف لائے ۔۔۔۔ اور انصار صحابہ ان کوفقیہ سمجھتے تھے تو انہوں نے فرمایا : ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھڑ سوار ابوقتادہ نے بیان کیا۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جیش الامراء (غزوہ موتہ کالشکر ) کوروانہ فرمایا تو ارشاد فرمایا: تم پر زید بن حارثہ حاکم ہیں ۔ پس اگر یہ قتل ہو جائیں تو پھر جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں اور اگر یہ بھی قتل ہو جائیں تو پھر عبداللہ بن رواحہ ہیں ۔‘‘ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ اچھل پڑے اور عرض کیا ۔یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اس بات سے خوف نہیں کھاتا کہ آپ مجھ پر زید کو حاکم بنائیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جانے دو! تم نہیں جانتے کہ ان میں کیا چیز خیر ہے۔ ۲) پھر یہ لوگ چل پڑے اور جتنی دیر اللہ کو منظور تھا یہ لوگ وہاں رہے ۔ پھر (ایک دن ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے اور حکم دیا اور یہ منادی کی گئی کہ الصلاة جامعۃ۔چنانچہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خیر کی بات پہنچی ہے، خیر کی بات پہنچی ہے۔ یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔۔۔۔میں تمہیں اس لڑنے والے لشکر کے بارے میں خبر دیتا ہوں ۔ یہ لوگ ( یہاں سے ) چلے تو ان کی دشمن سے ملاقات (اور لڑائی ) ہوئی چنانچہ حضرت زید رضی اللہ عنہ شہادت کی حالت میں قتل کر دیئے گئے۔ تم لوگ ان کے لئے استغفار کرو، پھر جھنڈ ا حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے سنبھال لیا اور انہوں نے دشمن پر خوب حملہ کیا یہاں تک کہ وہ بھی شہادت کی حالت میں قتل ہو گئے ۔ تم ان کی شہادت پر گواہ بن جاؤ اوران کے لئے استغفار کرو ۔ پھر جھنڈا ، حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے سنبھال لیا اور اپنے قدم خوب جمالئے (لیکن ) آخر کار وہ شہید کر دیئے گئے ۔ تم ان کے لئے استغفار کرو پھر (ان کے بعد ) جھنڈ ا حضرت خالد بن الولید رضی اللہ عنہ نے سنبھال لیا ہے حالانکہ وہ ( پہلے سے متعین ) امیروں میں سے نہیں تھے (بلکہ ) انہوں نے خود اپنے آپ کو امیر بنالیا ہے ۔ ‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی اے اللہ ! یہ خالد تو تیری تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں تو ہی ان کی مددفرما‘‘ اس دن سے حضرت خالد بن الولید رضی اللہ عنہ کا نام سیف اللہ المسلول پڑ گیا ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” نکل جاؤ اور اپنے بھائیوں کی مددکرو۔ کوئی بھی تم میں سے پیچھے نہ ر ہے۔ ‘‘ چنانچہ صحابہ کرام پیدل اور سوار ہو کر نکل پڑے اور یہ سخت گرمی کا وقت تھا۔۳) ایک رات صحابہ رضی اللہ عنہ راستہ سے ہٹے ہوئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اونگھ آگئی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کجاوہ سے ایک طرف جھک گئے ۔ چنانچہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ہاتھ سے سہارا دیا۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھا کرنے والے آدمی کے ہاتھ کا چھونا محسوس فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کون شخص ہے؟ میں نے عرض کیا : ابو قتادہ ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چل پڑے پھر (دوبارہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اونگھ آئی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کجاوہ سے ایک طرف جھک گئے ۔ میں (دوبارہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور میں نے اپنے ہاتھ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سہارا دیا۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سیدھا کرنے والے آدمی کے ہاتھ کا چھونا محسوس کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا۔ یہ کون شخص ہے؟ میں نے عرض کیا۔ابوقتادہ ہے۔ راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری مرتبہ یا تیسری مرتبہ میں ارشاد فرمایا: میرا خیال تو اپنے بارے میں یہ ہے کہ میں نے تمہیں آج کی رات مشقت میں ڈال دیا ہے۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کیا۔ ہرگز نہیں ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ۔ میں تو دیکھ رہا ہوں کہ نیند یا اونگھ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشقت میں ڈالا ہوا ہے ۔ لہذا اگر آپ ایک طرف ہو جائیں اور پڑاؤ ڈال لیں تا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نیند ختم ہو جائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے اس بات کا خوف ہے کہ لوگ ان يخذل الناس ۔راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کیا: ہرگز نہیں ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ۔ ۴) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ پھر تم ہمارے واسطے پردے والی جگہ تلاش کرو ۔ ‘‘ راوی کہتے ہیں : میں راستہ سے اترا تو اچانک مجھے درختوں کا ایک جھنڈ نظر آیا۔ چنانچہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ درختوں کا جھنڈ ہے جو مجھے ملا ہے۔ راوی کہتے ہیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور جولوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ راستہ پر تھے وہ راستہ سے ایک طرف ہٹے اور انہوں نے پڑاؤ کیا اور درختوں کے جھنڈ میں راستہ سے پردہ کر لیا۔ پھر ہماری آنکھ اس حالت میں کھلی کہ سورج ہم پر طلوع ہو چکا تھا۔ چنانچہ ہم کھڑے ہوئے درآنحالیکہ ہم خوف زدہ تھے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ آرام آرام سے ‘‘ یہاں تک کہ سورج بلند ہو گیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’جس آدمی نے ان دو رکعات کو صبح کی نماز سے پہلے ادا کیا ہے وہ بھی ان کو ادا کر لے‘‘ چنانچہ یہ دور کعات ان لوگوں نے بھی پڑھیں جنہوں نے ان کو (پہلے ) پڑھا تھا اور انہوں نے بھی پڑھا جنہوں نے پہلے نہیں پڑھا تھا۔ ۵) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور نماز کے لئے منادی کی گئی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو فرمایا: ’’ہم اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کر تے ہیں ۔ ہم کسی ایسی دنیوی چیز میں مشغول نہیں تھے کہ جس نے ہمیں نماز سے لا پرواہ کر دیا ہو بلکہ ہماری ارواح اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں تھیں ۔ جب چاہتے ہیں روحوں کو بھیجتے ہیں ۔خبر دار! جس آدمی کو یہ نماز کسی بندہ صالح کی طرف سے آلے تو اس کو چاہیے کہ اس کے ساتھ ایسی نماز ہی قضا کر لے ۔‘‘ ۶) صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پیاس؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ کوئی پیاس نہیں ہے ۔اے ابوقتادہ! مجھے وضو والا برتن دو‘‘ ۔ راوی کہتے ہیں: میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو والا برتن لے کر حاضر ہوا ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنی گود میں رکھ لیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے منہ کے ساتھ منہ لگایا۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں پھونک ماری یا نہیں ماری ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوقتادہ! مجھے کجاوہ پر سے چھوٹا پیالہ پکڑا دو۔ چنانچہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دو پیالہ کے درمیان کا پیالہ لے کر حاضر ہوا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں پانی ڈالا اور فرمایا: لوگوں کو پلاؤ۔ اور ( خود ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز لگائی اور بلند آواز کر کے فر مایا خبردار! جس کسی کے پاس بھی برتن پہنچے تو اس کو چاہیے کہ وہ پانی پی لے۔ پس میں ایک آدمی کے پاس پہنچا اور اس کو پانی پلایا ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پیالہ میں بقیہ پانی لے کر لوٹا ( وہاں سے مزید لے کر ) میں گیا اور میں نے پہلے آدمی کے ساتھ والے کو پانی پلایا۔ یہاں تک کہ اس حلقہ کے تمام لوگوں کو میں نے پانی پلایا۔ پھر میں پیالہ کا بقیہ پانی لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹا ( وہاں سے مزید لے کر ) اور میں گیا اور میں نے دوسرے حلقہ کو پانی پلایا یہاں تک کہ میں نے سات حلقوں کو پانی پلایا۔ ۷) میں نے نظر لمبی کر کے وضو کے برتن میں دیکھنا شروع کیا کہ اس میں کچھ باقی ہے؟ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ میں پانی انڈیلا اور مجھے فرمایا: تو پی راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کیا۔ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ مجھے کچھ زیادہ پیاس نہیں ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ میرے پاس سے دور رہو ۔ آج کے دن تو لوگوں کو پلانے والا میں ہوں ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ میں پانی ڈالا اور اس کونوش فرمایا۔ پھر دوبارہ پیالہ میں پانی ڈالا اور نوش فرمایا پھر سہ بارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ میں پانی ڈالا اور نوش فرمایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو گئے اور ہم بھی سوار ہو گئے ۔۸) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ جب لوگ اپنے پیغمبر کو غیر موجود پائیں اور ان کی نماز ان کے بہت قریب آ جائے تو تم ایسے لوگوں کے بارے میں کیا خیال رکھتے ہو کہ وہ کیا کریں‘‘ میں نے عرض کیا۔ اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا:’’ کیا ان میں ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ موجود نہیں ہیں ۔ اگر لوگ ان دونوں کی بات مانیں گے تو ہدایت پا جائیں گے اور ان کی جماعتیں بھی ہدایت پا جائیں گی اور اگر لوگ ان دونوں کی نافرمانی کریں گے تو لوگ بھی گمراہ ہوں گے اور ان کی جماعتیں بھی گمراہ ہوں گی‘‘ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔۹) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چل پڑے اور ہم بھی چل پڑے ۔ یہاں تک کہ جب ہم نصف دن میں پہنچے تو لوگوں نے درختوں کے سایہ کو تلاش کیا ۔ پھر ہم کچھ مہاجرین کے پاس آئے ۔ان میں حضرت عمر یہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ ہم نے ان سے کہا کہ اگر تم اپنے نبی کو نہ پاؤ اور نماز کا وقت ہو جائے تو تم کیا کرو گے؟ انہوں نے کہا کہ بخدا ہم تمہیں بتائیں گے۔ پھر حضرت عمررضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے(انك ميت وانهم ميتون) میرے خیال میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو اپنے پاس بلائے گا۔ آپ کھڑے ہوں اور نماز پڑھائیں۔ میں آپ کے جانے کے بعد نگرانی کروں گا۔اگر معاملات ٹھیک ہوئے تو ساتھ آ ملوں گا ۔ پھر نماز کھڑی ہوگئی اور گفتگورک گئی ۔
بَعَثَ رَسُولُ اللهِ جَيْشَ الأُمَرَاءِ ← أَبُو قَتَادَةَ فَارِسُ رَسُولِ اللهِ ← وَكَانَتِ الأَنْصَارُ تُفَقِّهُهُ ← قَدِمَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَبَاحٍ الأَنْصَارِيُّ ← خَالِدِ بْنِ سُمَيْرٍ ← الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 39 - Al-Maghazi Book › 36- I was not kept in a temporary mission. · Hadith 38121
